ووٹ کو عزت دیے بغیر وزیراعظم کو عزت نہیں ملے گی!


قومی اسمبلی کے اجلاس کے دوان اپوزیشن لیڈرنے جناب وزیراعظم پر سلیکٹڈ وزیراعظم کی پھبتی کسی، ادھرتحریک انصاف کے جذباتی اورہتھ چھٹ رہنما نے جواب آں غزل کے طورپرغصے سے بھرا ٹویٹ کیا جس میں اپوزیشن لیڈر کے آئندہ کے اجلاسوں میں پروڈکشن آرڈرجاری نہ کرنے کی دھمکی دے دی۔ انہوں نے غیظ و غضب کو مہمیز دیتے ہوئے مزید فرمایا کہ اگر اپوزیشن لیڈر اپنے بڑے بھائی سمیت ساری زندگی جیل میں سڑنے سے بچنا چاہتے ہیں تو مستقبل میں انہیں ایسے بیانات سے توبہ تائب ہو کر جناب وزیراعظم کی عزت کرنا پڑے گی۔

ان کے ٹویٹ کی بازگشت ہنوز باقی تھی کہ وزیر لغویات و خرافات معاف کیجیے گا وزیر اطلاعات فوادچودھری گویا ہوئے کہ معزز ایوان کے مقدس ماحول کو خراب کرنا ن لیگ کی پرانی ریت روایت ہے۔ جنرل ضیا کی منہ پھٹ اور زبان دراز باقیات نے اگر اپنی روش نہ بدلی اور جناب وزیراعظم کوعہدے کے مطابق عزت و توقیرنہ دی تو ہمیں سبق سکھانا آتا ہے۔

پہلی بات تویہ ہے کہ جناب عمران خان کے حوالے سے سلیکٹڈ وزیراعظم اورلاڈلوں کے لاڈلے کی پھبتی کوئی پہلی بار نہیں کسی گئی۔ سب جانتے ہیں کہ وہ کس طرح وزارت عظمٰی کے منصب پر براجمان ہوئے۔ ہم حیران ہیں کہ اچانک پی ٹی آئی والوں کی غیرت و حمیت کیسے جاگ گئی؟ دوسری بات یہ ہے کہ آج اہل اقتدارایوان کے اندر اور باہر جس طرز کے شاکی ہیں اس کے مؤجد، متعارف اور فروغ دینے والے تو خود جناب عمران خان اور ان کے نعیم الحق جیسے سرگرم  سیاسی قائد و کارکنان ہیں۔

اگر اقتدار ملنے کے بع دان کی یادداشت اس قدر کمزور ہو گئی ہے کہ انہیں کل کی باتیں بھی بھولنے لگی ہیں توہم یاددہانی کروائے دیتے ہیں کہ جناب عمران خان نے اسی پارلیمنٹ پر اپنے دریدہ دہن ممدوح شیخ رشید کی ہم نوائی کرتے ہوئے ہزار بار لعنت بھیجی تھی۔ وزیراعظم نواز شریف اور وزیراعلٰی شہباز شریف سمیت ن لیگ کے اراکین کو متعدد بار چور ڈاکو جیسے القابات سے نوازا۔ کنٹینر پر کھڑے ہو کر وہ اپنی زبان کو اظہار بیان کی جن پستیوں سے آلودہ کرتے رہے زبانِ تہذیب ان کو دہرانے سے قاصر ہے۔ انہوں نے ہمیشہ سابق وزیراعظم کو اوئے کہہ کر مخاطب کیا۔ بازاری اور سوقیانہ انداز اس حد تک مبتذل اور پست ہو گیا کہ بات شلواریں گیلی ہونے تک پہنچ گئی اورشرافت و نجابت، تہذیب و شائستگی کے تمام قرینے دم بخود رہ گئے۔ اسی لیے اہل شعوراس وقت جناب عمران خان کو یاد دلاتے رہے کہ

لگے منہ بھی چڑھانے دیتے دیتے گالیاں صاحب

زباں بگڑی تو بگڑی تھی خبر لیجیے دھن بگڑا

آج جب پارلیمنٹ میں حکمران جماعت کو اپنا ہی بویا کاٹنا پڑ رہا ہے تو اس قدر برافروختگی کیوں؟ یہ کپتان اور ان کے شعلہ بیان و آتش بداماں ساتھی ہی تھے جنہوں نے سیاست میں بازاری پن، الزام و اتہام اور اخلاقی قدروں کی پائمالی کی بدترین روش کوعام کیا۔ آج جب محض پانچ ماہ ہی میں انہیں مکافات عمل کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے تو وہ دھمکیوں پر اتر آئے ہیں۔ انہوں نے اگر سابق وزیراعظم اور پارلیمنٹ کوعزت دی ہوتی تو آج اپوزیشن سے عزت کی بھیک نہ مانگتے۔

عزت تو محنت سے کمائی جاتی ہے۔ یہ بھیک اور دھمکی سے ملتی تو بابا رحمتے آج بھی عزت دار ہوتا۔ ہم قطعی طور پر پارلیمنٹ میں اپوزیشن کے ایسے طرزعمل کی حمایت نہیں کرتے جس سے معزز ایوان کا تقدس پائمال ہو کیونکہ دو غلطیاں ملا کرایک درست نتیجہ پیدا نہیں کر سکتیں تاہم یہ بھی حقیقت ہے کہ ہر عمل کا ایک ردعمل ہوتا ہے جس کا سامنا آج حکومت کو اپوزیشن کی طرف سے کرنا پڑ رہا ہے۔ شاعر نے ایسی ہی کسی صورت حال کے لیے کہا تھا کہ

دلوں کو زخم نہ دو حرف نا ملائم سے

یہ تیر وہ ہے جو لوٹ کر بھی آتا ہے

کل سابق وزیراعظم ووٹ کوعزت دینے کا پرزور مطالبہ کر رہے تھے تو پی ٹی آئی والے اور ان کے ہم خیال ان پر طعن و تعریض کے تیر برساتے تھے اور آج جب پی ٹی آئی والے وزیراعظم کو عزت دو کا نعرہ لگا رہے ہیں تو موجودہ اپوزیشن انہیں سلیکٹذ وزیراعظم کا طعنہ دے رہی ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ جب تک ووٹ کوعزت نہیں ملتی اس وقت تک وزیراعظم کو بھی عزت ملنا مشکل ہے۔ یہ دونوں چیزیں لازم و ملزوم ہیں۔

Facebook Comments HS