بھاڑ میں جائے بسنت، چلو دھرنا لگاتے ہیں


بسنت کیا ہے؟ اس مسلسل عذاب زندگی میں ہر سال بہار کا موسم آنے پر خوش ہونے کا اک خودکار بہانا اور بس۔ دھرنا کیا ہے اس عذاب زندگی میں سیکڑوں، ہزاروں یا ”ملین“ لوگوں کے ساتھ مل بیٹھنے کا موقع، جہاں مفت ٹرانسپورٹ، مفت کھانا، محفل موسیقی، ملک کے مہنگے اور شاندار فنکاروں کے جلوے، گلوکاروں کی پرفارمنس، شاندار لائٹنگ، اعلیٰ قسم کے کارپٹ، آرامدہ کرسیاں، موج مستی علحدہ اور آخر میں جیب خرچ بھی مل جائے۔ واہ واہ۔ کیا بات ہے۔

اور اگر دھرنے کے ساتھ میں مظاہرے اور احتجاج کرنے کا موقع بھی مل جائے تو مزہ اور دوبالا ہوجاتا ہے، کسی بھی پسندیدہ ہوٹل کے شیشے یا ناپسندیدہ دکاندار کی دکان کے تالے توڑے جا سکتے ہیں، جو چاہے لے جاؤ، جتنا چاہے لے جاؤ کوئی پوچھنے والا نہیں ہوتا، جس سے بھی دل ہی دل میں نفرت کرتے ہو یا جلتے ہو اس کی گاڑی کو آگ لگا دو یا لگوا دو، کسی کی ٹانگ توڑنی ہو، کسی سے موبائل چھیننی ہو یا کسی کو کچی یا پکی گالیاں دینی ہوں، مطلب آپ اپنی تمام دلی تمنائیں پوری کر سکتے ہیں اور ساتھ میں بھڑاس بھی نکال سکتے ہیں۔ ویسے بھی ہمارے سماج میں تعریف کرنے اور بھڑاس نکالنے کا موقعہ بالکل نہیں ملتا شکر ہے دھرنے کا جو ایسا موقع فراہم کرتا ہے۔

اک ماہر نفسیات کا کہنا ہے ”ملک کی موجودہ صورتحال میں ضروری ہے کہ سال میں اک یا دو بار ایسے دھرنے یا احتجاج ہونے چاہیے کہ جس میں بندہ“ کسی ”کے خلاف دل میں بھری ہوئی بھڑاس کسی اور کے اوپر نکال سکے، جی کھول کر کسی کو بھی گالیاں دے سکے، توڑ پھوڑ کرے، سرکاری اداروں پر ہلہ بول دے اور محسوس کرے کہ اس کا غصہ اتر چکا ہے اور وہ بہت طاقتور ہے اور پھر آخر میں خرچی لے کر خاموشی سے چپ بھی ہوجائے۔ “

نفسیات دان کی یہ بات اک تو ناقابل فہم تھی اور اوپر سے ناقابل یقیں بھی۔ یہ بات مجھے اپنے گاؤں سردار بھنبھو خان چانڈیو کے اک کاشتکار فتح محمد عرف نبن خان چانڈیو نے بہت آسانی سے سمجہادی۔ ”ارے ٹمکُو تجھے یاد نہیں کہ جب گاؤں میں ساری رات رسی سے بندھے ہوئے گدہے، کٹے اور دوسرے پالتو جانوروں کو کھولا جاتا ہے تو وہ کیسے مستی میں پھُدکتے رہتے ہیں، اِدھر اُدھر مٹی میں قلابازیاں دیتے رہتے ہیں اور آزادی سے ہینگتے بھی رہتے ہیں، اسوقت وہ سمجھتے ہیں کہ اب ہم آزاد ہوگئے یہ پورا باڑہ، چارہ اور میدان ان کا ہے، مگر چارہ کھانے کے بعد پتا چلتا ہے کہ گدہے جوت دیے جائیں گے، کٹے کاٹ دیے جائیں گے اور باقی باندھ دیے جائیں گے۔ “

بہرحال زندگی میں خوش رہنے کے لئے کچھ دن اور تہوار تو ہونے ہی چاہیں نا۔

جو قوم تاریخی، ثقافتی، سیاسی، معاشی اور معاشرتی طور پر جتنی توانا، زرخیز اور خوبصورت ہوتی ہے اس کے تہوار بھی اتنے ہی خوبصورت اور دلکش ہوتے ہیں۔ پنجاب کا تو کیا ہی کہنا جتنا آپ خوبصورت اور زرخیز ہے اتنے ہی اس کے تہوار سندر ہیں۔ بہار کی آمد پر ”بسنت“، کماند کی کٹائی پر ”لوہڑی“، کنک کی کٹائی پر ”بیساکھی“، گرمیوں کی آمد پر ”مگھی“، مون سون کی آمد پر 13 دنوں تک منایا جانے والا تہوار ”تیان“ یا ”تیج“ جیسے کیا کیا تہوار تھے جو صدیوں سے اس دھرتی پر منائے جاتے تھے، وہ سارے کمال خوبصورت تہوار پتا نہیں کہاں چلے گئے۔

انگریز کے جانے کے بعد جب خطہ تہذیبی، قومیتوں اور تاریخی ورثے کے بجائے مذہب کی بنیاد پر تقسیم ہوا تو ساری چیزیں حتیٰ کہ بندے بھی مذہبی بنیادوں پر تقسیم ہوئے۔ اس سے بڑا سانحہ یہ ہوا کہ علاقائی اور موسمی تہوار بھی مذہب کے نام پر تقسیم ہو گئے۔ رہی سہی کسر جنرل ضیا کے جاری کردہ اسلام نے پوری ک ردی جب ثقافتی اور موسمی تہواروں اور فنون کو بھی کافر قرار دے دیا گیا۔

بسنت پھر بھی اپنی طاقت کے بل بوتے پر کافی دیر زندھ رہا مگر بسنت کی اہم سرگرمی پتنگ بازی میں جوئے اور شرطوں کے شامل ہونے سے نئے مسائل پیدا ہوگئے، لوگوں نے دوسروں کی پتنگ کاٹنے کے لئے کانچ کا مانجھا بنانا شروع کیا اور اونچائی پر اڑانے کے لئے پتنگوں میں دھاتی ڈور لگانا شروع کردی۔ اس جہالت کا خمیازہ نہ صرف پورے لاہور بلکہ پورے پنجاب کو بھگتنا پڑا، روزانہ سینکڑوں لوگ کٹی پتنگوں کی ڈور پھر جانے سے زخمی ہوتے رہے، کئی تو جان سے گئے۔

اس خونی ڈور کا سب سے بڑا شکار تھے موٹر سائیکل سوار، دوسری طرف دھاتی ڈور کی وجہ سے بجلی کی تاروں سے کرنٹ لگنے، شارٹ سرکٹ ہونے اور ٹرانسفارمرز تک اڑجانے کے واقعات بھی ہونے لگے۔ سرکار نے لوگوں کو سمجھانے کہ اتنی کوشش کی جتنی وہ کرنا چاہتی تھی اور اتنی ہی قانون سازی کی جتنی کرسکتی تھی۔ جب پھر بھی کچھ نہ ہوا تہ سرکار نے وہ کام کیا جو کرسکتی تھی، پنجاب سرکار نے 2009 ع میں ملک میں بسنت کا دن ہی منانے پر پابندی لگا دی۔ نہ ہوگا بانس نہ بجے گی بانسری۔

پنجاب میں موجودہ پی ٹی آئی سرکار نے پھر سے بسنت منانے پر سنجیدگی سے غور کرنا شروع کیا پنجاب سرکار کے سینیئر وزیر عبدالعلیم خان کی سربراہی میں قائم کمیٹی نے بڑے غوروفکر کے بعد بالآخر اس سال 2019 ع میں پورے پنجاب میں بسنت منانے کا فیصلہ کیا۔ اطلاعات اور ثقافت کے صوبائی وزیر فیاض الحسن چوہان نے بریکنگ نیوز دیتے ہوئے اعلان کیا تھا ”پنجاب کو اس کے خوبصورت دن اور تہوار واپس دلا کر چھوڑیں گے۔ “

اس دن کے بعد پنجاب میں بسنت منانے کی تیاری کرنے والے لوگوں سے زیادہ وہ لوگ اپنی کوششوں میں مصروف ہوگئے اس تہوار پر پابندی برقرار دیکھنا چاہتے تھے۔ جو ڈرتے تھے کہ بسنت کا تہوار کہیں واپس ہی نہ آجائے۔ پنجاب پولیس نے کوئی بھی ایسی ذمہ داری لینے یا کام کرنے سے انکار کردیا ہے کہ ”کانچ کے مانجھے بنانے نہیں دیے جائیں گے اور پتنگ بازی دھاتی ڈور استعمال کرنے والوں کو گرفتار کیا جائے گا۔ “ اوپر سے کافی لوگوں نے بسنت کا دن منانے کے خلاف عدالت میں کیس کردیئے، پنجاب سرکار نے کیسوں کے جواب دینے، کوئی مؤثر قانون سازی کرنے اور پولیس کو پابند کر کے ان سے اصل کام لینے جیسے مشکل فیصلے کرنے کے بجائے اک آسان فیصلہ کرلیا ”اس سال بھی بسنت نہیں منائی جائے گی۔ “

بسنت پر پابندی کو اس برس 10 سال بھی پورے ہو جائیں گے، اگر حکومت اس پابندی کو اور 10 یا 15 سالوں تک طول دینے میں کامیاب ہوجائے تو ملک میں اک ایسی نئی نسل تیار ہوسکتی ہے کہ جن کے لئے ”بسنت“ اک اجنبی لفظ ہوگا، اور کسی کو گڈی اڑانی بھی نہیں آئے گی اور نہ ہی ان کو یہ بات سمجھ آئے گی ”آنکھوں آنکھوں میں ڈور کیسے اٹکتی ہے“ اور ”پیچا لگنے پر شور کیسے مچتا ہے۔ “ تو اک ہی تیر میں دو شکار ہوجائیں گے۔ روایتیں بھی ختم تو محبتیں بھی ختم۔

”بھاڑ میں جائے بسنت چلو دھرنا لگاتے ہیں اور سرعام پارلیمنٹ ہاؤس کے سامنے ڈی چوک پر وہ سب کچھ کریں گے جو لاہوریے بسنت کی آڑ میں چھپ چھپ کے کرتے تھے۔ چک دے پھٹے“

Facebook Comments HS