ماما! بابا! ڈر لگ رہا ہے


ماما! رُکو ذرا میرے جوتے رہ گئے

پیک ہی نہیں کیے

وہ اُٹھا لوں۔

ارے ہاں دیکھو تو یہ ہری چُوڑیاں

اس دَھانی دوپٹے کے ساتھ

کتنی اچھی لگیں گی ناں

ماما! مَیں ڈھولک پہ گانے

بھی گاؤں گی، روکنا نہیں

آخر کو میرے چاچا کی شادی ہے۔

کچھ ایسے ہی الہڑ، اٹکھیلے مدھر جذبات ہوں گے 13 سالہ اریبہ کے جس نے ابھی جوانی کی دہلیز پر قدم دھرنا ہی تھا، جس نے ابھی آسمان پر پورے ستارے بھی نہ دیکھے ہوں گے، جس نے ابھی کھلتی کلیاں پھول بنتے بھی نہ دیکھی ہوں گی۔ ابھی تو تالاب میں تیرتی بطخیں، چہچہاتی چڑیاں، رنگ برنگی تتلیاں، پودے، بوٹے اور درخت کچھ بھی تو نہ دیکھا تھا اُس نے، وہ تو صر ف ساتویں جماعت میں پڑھتی تھی۔ دن دیہاڑے ایک بَھری پُری سڑک پہ چھوٹی سی آلٹو کار میں اپنے ماں باپ کی ہمراہی میں جا رہی تھی کہ ملک کے محافظوں نے ہی رُوپ بدل لیا اور اس معصوم کو ماں باپ سمیت گولیوں سے بُھون ڈالا۔

خدایا! تیری اس نگری میں جہاں بابا فرید جنھوں نے سلامتی، امن اور محبت کا پیغام دیا تھا وہیں پہ لرزہ خیز واقعہ پیش آیا۔ خبرآئی ہے کہ اریبہ نعتوں کی بھی شوقین تھی، نعتوں کے لیے اس نے اپنی ایک الگ ڈائری بنا رکھی تھی۔ پورا خاندان کتنے شوق سے خوشی خوشی شادی میں شرکت کرنے کو جا رہے تھے کہ ظالموں نے انہیں بیہمانہ طریقے سے مار ڈالا۔ اللہ کے پیارے نبی کا فرمان ہے کہ بھیڑوں کو ان کے میمنوں کے سامنے ذبح نہ کرو۔

ہائے رے ظلم تُو تو ساری حدوں کو پار کر گیا۔ دہشت گردی کی آڑ میں اس پورے گھرانے کو موت کی نیند سُلا دیا۔ زندہ رہ جانے والے تین بچے جن میں دو معصوم بیٹیاں بھی ہیں۔ پوری قوم سکتے کی حالت میں ہے اور فوری اس کا حساب مانگتی ہے۔ مشترکہ تحقیقاتی کمیٹی کی رپورٹ کا بے تابی سے انتظار ہے۔ اتنے اہندوناک واقعے کے بعد ملک بھر میں دہائی مچ گئی۔ سوشل میڈیا پہ طوفان برپا ہوگیا مگر ابھی تک ہلاک شدگان کا کسی قسم کا کوئی مجرمانہ ریکارڈ منظر عام پر نہیں آیا۔

پولیس اور سی ٹی ڈی اہلکاروں نے جس طرح بار بار بیان بدلے وزیر قانون راجہ بشارت نے جس دھڑلے سے کہا کہ اس ڈبی سی کار میں خود کش جیکٹ اور بارود بھرا تھا مگر کتنا ڈرپوک بارود تھا یا پنجاب پولیس کی بدمعاشی اتنی زور آور ہے کہ جب گولیوں کی برسات ہوئی تو وہ بارود کہیں اندر ہی اندر چُھپ گیا پھٹا نہیں۔ وزیر داخلہ پنجاب نے پریس کانفرنس میں دیگر وزیروں کی موجودگی میں بتایا کہ خلیل کا دوست ذیشان دہشت گردوں کے ساتھ روابط میں تھا۔

مگر یہ حق کس نے دیا کہ معصوم عورتوں اور بچوں پہ گولیاں برسا دی جائیں کہیں ایسا تو نہیں کہ ہم دہشت گردی کا نام استعمال کررہے ہیں۔ پاکستان طویل عرصے سے دہشت گردی کی جنگ لڑ رہا ہے۔ اس پورے وقت میں 75 ہزار افراد شہید ہوئے جن میں سے آدھوں کا تعلق فوج، رینجرز، ایف سی پولیس اور معصوم شہریوں سے تھا۔ قوم ان لوگوں کے احسان کے پہاڑوں تلے دبی ہے۔ ساہیوال کے اس سانحے سے سی ٹی ڈی کا پورا مستقبل داؤ پر لگ چکا ہے۔

پاکستان میں دہشت گردی کے خاتمے کے لیے فوج اور پولیس کے علاوہ کاؤنٹر ٹیررازم محکمے کی طرف سے ایک نئی فورس قائم کی گئی تھی لیکن واقعہ شیشے کی طرح صاف ہے۔ اس میں سے تصویر کا عکس جھلک رہا ہے نظر آرہا ہے بے گناہ معصوم مارے گئے۔ اس کے لیے جے آئی ٹی بنانے کی کیا ضرورت تھی۔ اگر سی ٹی ڈی کو پہلے ہی معلوم تھا کہ اس گاڑی میں دہشت گرد جا رہا ہے تو انہیں گھر سے نکلتے وقت گرفتار کیوں نہیں کیا۔ ذیشان کا ایک بھائی ڈولفن پولیس سروس میں ہے جس میں بھرتی سے پہلے باقاعدہ انٹیلی جنس سروے ہوتا ہے اگر کوئی مشکوک بات تھی تو اس وقت معلوم ہو جاتی۔

ذیشان کی سوگوار جوان بیوہ نے کہا کہ ہماری گاڑی گلی میں کھڑی رہتی تھی۔ ذیشان پنجگانہ نماز مسجد میں ادا کرتا تھا ہم تو غریب لوگ ہیں اگر ایسا کچھ تھا تو وہاں سے باآسانی گرفتار کیا جاسکتا تھا۔ دوسرا سوال اُٹھتا ہے کہ اگر داعش کا نیٹ ورک لاہور جیسے بڑے شہر میں اتنا مضبوط اور پھیلا ہوا ہے تو پھر تو پورا ملک خطروں میں گھِرا ہوا ہے۔ ایک اور سوال یہ کہ ایسے انسان کو تو زندہ گرفتار کر نا چاہیے تھا کہ اس سے راز اگلوائے جا سکتے۔

جس دیس میں حاکم ظالم بن جائیں، جس دیس میں منصف بہرا اور اندھا ہوجائے، جس دیس میں قاضی مجرموں کی مرضی سے فیصلے کرتے ہوں، جس دیس میں خواب دکھا کر آنکھیں پیلٹ گن سے اندھی کردی جاتی ہوں، جس دیس میں عوام کی سادہ لوحی کو وعدوں سے ٹرخایا جاتا ہوا س دیس کے باسیوں کو واقعی اپنا سامان باندھ کر کسی اور دیس ہجرت کر جانی چاہیے۔ اس وقت کالم لکھتے ہوئے بھی اریبہ اور اس کی ننھی بہنیں جو چاند کی چاندنی اور معصومیت سے گُندھی ہوئی نظر آتی ہیں ایک معصوم بھائی جو بہت چھوٹا ہے اور اپنے اندر سفاکیت کا واقعہ لیے تار تار دل سے زندہ ہے دکھائی دے رہے ہیں تو میری آنکھیں پانی سے بھر جاتی ہیں۔

ہم اپنے بچوں کے ساتھ کہیں گاڑی میں جائیں تو فوری کہتے ہیں گاڑی کو لاک کرو پہلے، کسی فقیر پیشہ کے لیے شیشہ نیچے مت گِراؤ، کسی اجنبی سے بات نہ کرو وغیرہ وغیرہ ہائے وہ معصوم بچے نجانے کس طرح کے خوف میں زندہ ہیں۔ اب سی ٹی ڈی والوں نے جس بے شرمی کا مظاہرہ کیا ہے اس کی مثال نہیں ملتی کم از کم افسوس ہی کر دیں، غلطی کو تسلیم ہی کر لیں۔ خلیل کی بیوی نبیلہ بھی ایک ماں تھی اپنے تینوں بچوں کو بچا لیا اس نے اریبہ پہ چلتی گولیاں اس ماں نے کیسے دیکھی ہوں گی۔

راجہ بشارت نے کہا کہ آپریشن خفیہ اطلاعات کے مطابق گاڑی ٹریک ہو رہی تھی اگر سب ایسا ہی تھا تو گرفتاری کرنا کون سا مشکل کام تھا۔ پاکستان کے سب سے بڑے صوبے کا وزیر اعلیٰ عثمان بزدار خوف جس کی آنکھوں جھلکتا ہے۔ اس کو دیکھ کر لگتا ہے کہ یہ عہدہ مستعار لیا ہوا ہے۔ مَیں مسٹر پرائم منسٹر سے پوچھنا چاہتی ہوں کہ یہ 22 کروڑ عوام پہ مشتمل ایک زندہ و پائندہ ملک ہے کوئی ایک یونٹ نہیں کہ اسے امتحانوں میں ڈالا جائے وسیم اکرم صرف ایک ہی ہوتا ہے۔

خدارا! اس کی فوٹو کاپی بنانے کی کوشش میں ملک کا بیڑہ غرق مت کروائیں۔ عثمان بزدار نے تو ایسا کمال کر دیا کہ آنکھیں پھٹ گئیں، ہسپتال میں بچوں کو جن کی آنکھوں کے سامنے ماں باپ کو ظالمانہ طریقے سے مار ڈالا ان کے لیے پھول لے گئے آخر کو یہ مشورہ انہیں کس نے دیا، کیا ان کا اپنا کوئی دماغ اور سوچ نہیں مجھے نہیں معلوم عثمان بزدار کے والدین حیات ہیں یا نہیں لیکن اگر ان کے ماں باپ کی فوتگی پر کوئی پُرسہ دینے جائے اور پھولوں کا ٹوکرا لے جائے تو انہیں کیسا لگے گا۔

مجھے ذاتی طور پر نئے پاکستان کا لفظ کبھی بھی بھایا نہیں بلکہ ہمیشہ میرا دل افسردہ ہوتا تھا کہ یہ اللہ اور رسول ؐکے بعد میرے بابا قائد اعظم کی دین ہے اس کا نام صرف اور صرف پاکستان ہے اور یہ نیا یا پُرانا نہیں۔ مَیں تمام سیاست دانوں اور میڈیا والوں سے ملتمس ہوں اس کی تضحیک مت کیجئے۔ لیکن آخر میں مسٹر پرائم منسٹر سے کہوں گی اگر خواب پورے نہیں کرسکتے تو خواب دکھاتے کیوں ہو؟ ہمیں رہنے دیتے اسی فرسودہ نظام میں یوں بھی تو اب سب ویسا ہی چل رہا ہے۔

آخر میں اریبہ کی سسکیاں یاد آرہی ہیں۔ ماما! میرے جوتے پہ تو خون بھر گیا ہے اب کیسے پہنوں گی۔ ماما! دیکھیں میرا دھانی دوپٹہ بھی لال ہوگیا ہے۔ ماما! میری چُوڑیاں بھی کرچی کرچی ہوگئی ہیں اب میں انہیں کیسے پہنوں گی۔ ماما! یہ خون تومیرے دل سے اور آنکھوں سے ٹپک رہا ہے۔ ۔ ماما! آپ بول کیوں نہیں رہیں؟ مامابولیں۔ ما۔ ما۔ ما۔ وہاں توکوئی بھی نہیں تھا۔

Facebook Comments HS