سانحہ ساہیوال کے متاثرین اب انصاف کی جنگ تنہا لڑیں
ہمارے ہاں لوگوں کی بڑی تعداد کو فخر ہے کہ بے شک ہم بحیثیت قوم تہہ در تہہ قومیتوں اور برادریوں میں بٹے ہوئے نظر آتے ہیں لیکن جب کبھی وطن عزیز پر برا وقت آئے یا یہاں کے باسیوں کو ضرورت پڑے سب دیکھتے ہی دیکھتے یک مشت ہو جاتے ہیں۔ کسی حد تک یہ بات درست بھی ہے قدرتی آفات ہوں یا انفرادی حادثات ہم نے قومی یک جہتی کی عمدہ مثالیں دیکھی ہیں۔
اسے المیہ کہنا ہی مناسب رہے گا کہ ہر بڑے سے بڑے سانحے پر ہم چند دن بول کر، اپنے دل کی بھڑاس نکال کر، سوشل میڈیا اکاؤنٹس کی ڈسپلے پکچرز بدل کر سمجھتے ہیں کہ ہمارا فرض پورا ہو گیا۔ مثال کے طور پر حال ہی میں پیش آئے سانحہ ساہیوال کو ہی لے لیجیے۔ لوگوں میں اس قدر کرب اور رنج کی سی کیفیت تھی کہ جس سے بات کرتے وہ سانحے کا ذکر کرتے آبدیدہ ہو جاتا، سب کے منہ پر ایک ہی جملہ تھا کہ ہائے افسوس بڑا ظلم ہو گیا۔ لوگوں کو سانحے میں بچ جانے والے بچوں میں اپنے بچے، بھانجے، بھتیجے نظر آتے رہے۔
یوں گمان ہوتا کہ سوشل میڈیا پر، دفاتر میں، گلیوں بازاروں حتہ کہ گھروں میں بات کرنے کے لیے ایک ہی ٹاپک بچا ہے۔ لوگ اپنے بچوں کو سینے سے لگا لگا کر روتے رہے۔ چند دن پولیس کی گاڑیاں نظر آنے پر رنج و غصے کی ملی جلی کیفیت سے دوبار رہے۔ قوم کی اس یک جہتی نے سی ٹی ڈی، پولیس، صوبائی حتہ کہ وفاقی حکومت کو سخت کوفت سے دوچار کیا۔ سکیورٹی فورسیز ہوں یا حکومتی وزراء سب پریشر میں آ کر بیان پر بیان بدلتے رہے۔
مرحومین کے جنازوں پر تو یوں لگا جیسے سارا شہر امنڈ آیا ہو۔ لوگوں کو حکومت کے کسی اور اقدام میں چناں دلچسپی نہیں رہی تھی بس اک چیز کا تقاضا تھا کہ اس سانحہ کے ذمہ داروں کے خلاف سخت سے سخت کارروائی عمل میں لائی جائے۔ مگر افسوس ہم جذباتی قوم کے نمائندے ٹھیک دو دن بعد ہی اس حادثے سے ابھرنا شروع ہو گئے۔ سوشل میڈیا اکاؤنٹس پر چھائی معصوم بچوں کی تصاویر اور سانحہ متاثرین کے حق میں لگائی جانیوالی پوسٹ چھٹنے لگیں۔ لوگ اپنے سوشل میڈیا اکاؤنٹس پر جہاں شفاف تحقیقات اور سکیورٹی فورسز و وزراء کے ناقص بیانات کا پوسٹ مارٹم کر رہے تھے وہاں ہنسی مذاق سے بھرپور پوسٹنگ نے اپنی گرفت مضبوط کر لی۔ سڑکوں پر ہونے والے احتجاج بھی برائے نام رہے۔
اب صورتحال یہ ہے کہ اس سانحے کے متاثرین آج بھی احتجاج کر رہے ہیں۔ ان کو آج بھی وزراء کے بیانات پر تحفظات ہیں۔ حکومتی اراکین آج بھی ان کو اپنی مرضی کی پچ پر کھیلنے پر مجبور کر رہے ہیں۔ صدر مملکت آج بھی ان کو اسلام آباد بلا کر بنا ملاقات کے واپس بھیج رہے ہیں۔ مگر ٹیلی ویژن پر نشر ہونے والے بیانات سن سن کر آج عام پاکستانی نے کہیں نہ کہیں یہ یقین کر لیا ہے کہ خلیل کا خاندان بے قصور مرا، تاہم ذیشان کے کالعدم تنظیموں سے روابط ضرور تھے
بے شک متاثرین کا غم تازہ ہے جس کا اندمال ممکن نہیں۔ مگر ان کو اب اتنا مضبوط ہونا ہو گا کہ وہ اخلاقی طور پر بھی اس عوام سے سپورٹ کی مزید امید نہ لگائیں۔ سانحہ ساہیوال کے متاثرین کو اب انصاف کی جنگ تنہا لڑنا ہو گی۔ کیونکہ عوام اپنا فرض پورا کر چکے ہیں۔ سب نے تین دن کا بھرپور سوگ منا کر لمبی تان لی۔ اب یہ دوبارہ تب ہی جاگیں گے جب پھر کسی کے ساتھ اس سے ملتا جلتا کوئی سانحہ نہیں ہو جاتا۔ محض ماتم کرنے کے لیے۔ اور پھر اپنے ضمیر کو تھپک کر سلا دیں گے آرام کرو تمہارا فرض پورا ہوا۔


