بلیک لسٹ کی بنیاد کوئی قانون نہیں بلکہ روایت ہے، ڈی جی پاسپورٹ


ہفتہ قبل سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے انصاف و قانون کو کور کرنے گیا ایجینڈے میں ٹاپ پر لوگوں کا نام بلیک لسٹ میں کس قانون کے تحت ڈالا جاتا ہے۔ کمیٹی نے ڈی جی پاسپورٹ اور ڈی جی ایف آئی اے کو طلب کر رکھا تھا۔

انسانی حقوق کی وزیر ڈاکٹر شیری مزاری کو بھی کمیٹی نے طلب کر رکھا تھا۔ ڈی جی پاسپورٹ عشرت علی نے کمیٹی کو بریفینگ دیتے ہوئے بتایا کہ پاکستان میں مینوئل پاسپورٹ 1957 ء میں بننا شروع ہوئے۔ چوہتر میں پاسپورٹ ایکٹ آ گیا لوگوں کا نام بلیک لسٹ میں ڈالنا کسی قانونی پراسیس کا حصہ نہیں اور نہ ہی ملک میں کوئی ایسا قانون موجود ہے کہ اسے فالو کیا جائے۔ ایک روایت چلی آ رہی ہے۔ جس پر عمل کیا جا رہا ہے۔

انسانی حقوق کی وزیر ڈاکٹر شیریں مزاری نے کہا کہ ہم اس قانون کی بالکل حمایت نہیں کرتے اور نہ جمہوریت میں ایسا ممکن ہے کہ ایک شہری کو اس کے بنیادی حق سے ہی محروم کر دیا جائے۔

سینیٹر رضا ربانی اور ڈی جی پاسپورٹ کے درمیان اس وقت تلخ کلامی ہو گئی جب ڈی جی پاسپورٹ بار بار روایت کی بات کر رہے تھے تو سینٹر ربانی نے کہا آپ کیا سمجھتے ہیں کہ یہاں بیٹھے ہوئے لوگ بے وقوف ہیں معاملے کو چیئرمین قائمہ کمیٹی سینیٹر جاوید عباسی نے ٹھنڈا کیا۔ تحریک انصاف کے سینیٹر ولید اقبال نے کہا کہ یہ کالا قانون ہے۔ اور اسے فی الفور ختم کیا جائے۔

ڈی جی پاسپورٹ نے کمیٹی کو بریفینگ دیتے ہوئے بتایا کہ دو ہزار دو کے بعد اس میں شدت آئی اور ہمیں بتایا جاتا تھا کہ لوگ دہشت گردی کر کے ائرپورٹ پر پہنچتے ہیں اور ہمارے پاس وقت نہیں ہوتا کہ ہم ائرپورٹ پر پر اطلاع کر سکیں۔

سینٹیر ربانی نے ڈی جی پاسپورٹ سے پوچھا کہ کیا آپ بتا سکتے ہیں کہ ایک ایسا شخص جو آئین کے ساتھ دس سال کھلواڑ کرتا رہا پاکستانی عدالتوں میں اس کے مقدمات چل رہے تھے آپ نے اس کا نام بلیک لسٹ میں کیوں نہیں ڈالا؟ اس پر ڈی جی پاسپورٹ نے کہا کہ ”اگر مجھے کہا جاتا تو میں پانچ منٹ نہ لگاتا“ اور اس کا نام بلیک لسٹ میں ڈالتا ڈی جی پاسپورٹ نے اپنی بات جاری رکھتے ہوئے بتایا کہ اس کا غلط استعمال ہو رہا ہے۔ پچھلے دنوں ایک میونسپل کمیٹی کے چیف افسر نے مجھے کہا کہ میں کسی بندے کا نام بلیک لسٹ میں ڈالوں۔ ہم ان لوگوں کے نام بلیک لسٹ میں ڈالتے ہیں جو بیرون ملک کوئی جرم کر کے واپس آتے ہیں تاکہ وہ مزید ملک کی بدنامی کا باعث نہ بنیں۔

یہ خوشگوار حیرت تھی کہ کمیٹی میں موجود حکمران جماعت سے تعلق رکھنے والے لوگ بھی اس کالے قانون یا روایت جو بھی کہہ لیں شدید مخالفت کر رہے تھے وہ دلائل دے رہے تھے کہ پاکستان ایک جمہوری ملک ہے۔ یہاں آمریت کے دور کے قانون نہیں چلیں گے۔ عوام کے نمائندے عوام کی بہتری کے لیے خود فیصلے کریں گے کسی سے ڈکیٹشین نہیں لیں گے۔

چیئرمین قائمہ کمیٹی جاوید عباسی نے کہا کہ کچھ چیزوں کے بارے میں سب بول سکتے ہیں اور کچھ کے بارے میں بولیں تو لب جل جاتے ہیں۔ کمیٹی نے ڈی جی پاسپورٹ اور ڈی جی ایف آئی اے کو دس روز میں سفارشات مرتب کرنے کا وقت دیا۔ اس وقت ملک میں ہزاروں کی تعداد میں لوگوں کے نام بلیک لسٹ پر ہیں۔

Facebook Comments HS

بشارت راجہ

بشارت راجہ شہر اقتدار سے پچھلی ایک دہائی سے مختلف اداروں کے ساتھ بطور رپورٹر عدلیہ اور پارلیمنٹ کور کر رہے ہیں۔ یوں تو بشارت راجہ ایم فل سکالر ہیں مگر ان کا ماننا ہے کہ علم وسعت مطالعہ سے آتا ہے۔ صاحب مطالعہ کی تحریر تیغ آبدار کے جوہر دکھاتی ہے۔ وہ کہتے ہیں کہ وسعت مطالعہ کے بغیر نہ لکھنے میں نکھار آتا ہے اور نہ بولنے میں سنوار اس لیے کتابیں پڑھنے کا جنون ہے۔

bisharat-siddiqui has 157 posts and counting.See all posts by bisharat-siddiqui