آئی جی بلوچستان کی لاعلمی یا احتیاط
سانحہ ساہیوال کے بعد پولیس اور شہریوں کے درمیان کا تعلق بہت حساس اور نازک ہو گیا ہے۔ بدقستی سے اس اندوہاک واقعے کے بعد بھی پنجاب میں پولیس کی ملزمان کی ماردھاڑ اور تشدد کا سلسلہ جاری و ساری ہے۔ اس سوچ اور عمل کے باعث عام شہریوں کے دل میں پولیس کے خلاف نفرت اور انتقام کا جذبہ پروان چڑھ رہا ہے جو دونوں کے لئے خطرناک ہے۔ بہت ہی افسوس کے کہنا پڑتا ہے کہ شاید یہ پنجاب حکومت اور پولیس کی اعلیٰ قیادت کی نا اہلی یا لاپروائی ہے کہ پولیس کو شہریوں کا محافظ اور مددگار ثابت کرنے سے اب بھی قاصر ہیں۔
سانحہ ساہیوال کی ابتدائی پریس بریفنگ میں جس طرح پنجاب کے صوبائی وزیر قانون راجہ بشارت نے رپورٹ پیش کی اور مقتول ڈرائیور ذیشان کے بارے میں یہ کہا کہ اس کے بین الاقوامی دہشت گرد تنظیم داعش سے روابط تھے اور وہ بڑی تباہی پھیلانے کی منصوبہ بندی کر رہے تھے۔ وزیر موصوف کے اس دعوے کے بعد وفاقی حکومت یہ وضاحت کرنے پر مجبور ہو گئی کہ پاکستان میں داعش کا کوئی وجود نہیں ہے۔ ایسی صورتحال میں پولیس کو میڈیا سے بات چیت یا گفتگو کرنے میں بھی بڑے مشکل اور چبھتے سوالات کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔ اس سلسلے میں پنجاب کے آئی جی پولیس تو نہ صرف حد درجہ محتاط ہو گئے ہیں بلکہ میڈیا کے سوالات کا جواب دینے سے بھی گریز کر رہے ہیں اور میڈیا کے سامنا کرنے سے ہر ممکن بچنے کی کوشش کر رہے ہیں۔
ایسے ماحول میں گزشتہ دنوں بلوچستان پولیس کے آئی جی محسن حسن بٹ نے نصیرآباد ڈویژن کا دورہ کیا۔ متعلقہ علاقہ کے پولیس افسران سے محکمانہ کارکردگی اور پیشہ ورانہ مسائل کے متعلق بریفنگ لی۔ یہاں انہوں نے میڈیا سے گفتگو کی منتخب ارکان اسمبلی اور قبائلی عمائدین و معتبرین سے بھی ملاقات کی۔ اس موقع پر میڈیا سے تفصیلی گفتگو کی۔ سی ٹی ڈی کے ڈی آئی جی اعتزاز احمد گورائیہ بھی ان کے ہمراہ تھے۔ آئی جی نے صحافیوں کے ساتھ بہت بہتر انداز اور دوستانہ ماحول میں گفتگو کی۔ تمام سوالات کے نپے تلے اور اعتماد کے ساتھ جوابات دیے مشکل سے مشکل سوالات پر بھی انہوں نے ناگواری کا اظہار نہیں کیا۔ میڈیا سے بات چیت کی نشست میں ایک بات خاص طور پر محسوس کی گئی کہ وہ اکثر سوالات کے جوابات خود دینے کے بجائے اپنے دائیں اور بائیں بیٹھے ہوئے ڈی آئی جی سی ٹی ڈی اعتزاز احمد اور ڈی آئی جی نصیرآباد رینج راٶ منیر احمد ضیا سے رجوع کرتے اور ان سے میڈیا کے جواب دلاتے تھے۔
آئی جی سے سوال کیا گیا کہ پنجاب کے صوبائی وزیر راجہ بشارت نے سانحہ ساہیوال کے مقتول کار ڈرائیور ذیشان کے بارے میں دعویٰ کیا کہ اس کے داعش کے ساتھ روابط تھے تو اسی تناظر میں آپ کی کیا معلومات ہیں کہ بلوچستان میں بھی داعش موجود ہے یا نہیں؟ تو انہوں نے براہ راست تردید یا تصدیق کرنے کی بجائے سی ٹی ڈی کے ڈی آئی جی سے دریافت کیا کہ یہ کیا کہہ رہے ہیں جب انہوں نے ان کو اپنے انداز میں بتایا تو پھر بھی انہوں نے ڈی آئی جی کو ہی کہا کہ آپ میڈیا کے نمائندوں کو جواب دیں۔ جس پر ڈی آئی جی نے بتایا کہ بلوچستان میں داعش کی تنظیم کا کوئی وجود نہیں ہے۔ تاہم انہوں نے کہا کہ بلوچستان میں چند کالعدم تنظیمیں خود کو داعش کے بینر تلے چھپانے کی کوشش کر رہی ہیں۔ آئی جی سے سوال کیا گیا کہ نصیرآباد ڈویژن سے چند سال قبل لیویز فورس سے پولیس فورس میں ضم ہونے والے اہلکاروں اور افسران کو تاحال محکمہ پولیس کے بجائے ریونیو ڈپارٹمنٹ سے تنخواہیں ادا کی جا رہی ہیں اس کی وجہ کیا ہے؟ اس صورتحال سے وہ اہلکار ذہنی پریشانی مایوسی اور کنفیوژن کا شکار ہیں۔ اس کا جواب بھی دینے کے بجائے انہوں نے ڈی آئی جی نصیرآباد رینج راٶ منیر احمد ضیا سے رجوع کیا اور انہی کی زبانی جواب دلوایا۔ واضح رہے کہ بلوچستان انتظامی لحاظ سے دو حصوں اے اور بی ایریا میں تقسیم ہے۔ اے ایریا میں پولیس اور بی ایریا میں لیویز کام کر رہی ہے۔ لیویز کا ضلعی سربراہ ایس ایس پی کے بجائے ڈپٹی کمشنر ہوتا ہے۔ لیویز کی حدود پولیس سے زیادہ ہیں۔
3 ماہ قبل ڈیرہ مراد جمالی نصیرآباد سے سندھ بلوچستان ملز ایسوسیئیشن کے مرکزی نائب صدر اور معروف تاجر حاجی محمد نواز مینگل کو اغوا کیا گیا اور ایک ماہ بعد اس کو مستونگ کے قریب اغوا کاروں نے قتل کر کے اس کی لاش سڑک کے قریب پھینک دی تھی۔ مغوی کی شہادت کے بعد شدید احتجاج کیا گیا۔ ایس ایس پی نصیرآباد عرفان بشیر نے کیس کے متعدد اہم ملزمان کو گرفتار کیا ہے۔ لیکن ورثا کے مطابق تاحال سہولت کاروں کو پولیس گرفتار نہیں کر سکی ہے۔ آئی جی پولیس شہید محمد نواز مینگل کی تعزیت کرنے کی غرض سے ان کی رہائش گاہ پر گئے ان کے بھائی اور بیٹوں سے تعزیت کی اور دلی ہمدردی و افسوس کا اظہار کیا اور واقعے میں ملوث ملزمان کو کیفر کردار تک پہنچانے اور ورثا کو انصاف دلانے کی یقین دہانی کی۔
حاجی محمد نواز مینگل کی تعزیت کے موقع پر اس کیس کے متعلق صحافیوں کے سوال کا جواب بھی آئی جی نے خود براہ راست جواب دینے کے بجائے ڈی آئی جی سی ٹی ڈی کو ہی جواب دینے کا کہا۔ ڈی آئی جی نے بتایا کہ حاجی محمد نواز مینگل کیس کی تفتیش آخری مرحلے میں داخل ہو گئی ہے۔ بہت سے ملزمان گرفتار ہو چکے ہیں باقی چند ایک اہم ملزمان رہتے ہیں جن کو بہت جلد گرفتار کرنے کی توقع ہے جس کے بعد ہم پریس کانفرنس میں عوام کو تمام حقائق سے آگاہ کیا جائے گا کہ یہ واقعہ کیسے رونما ہوا اور کون کون ملوث تھے۔ اور تمام ملزمان کو کیفر کردار تک پہنچایا جائے گا۔ سوال و جواب کی اس صورتحال سے یہ محسوس ہوا کہ آئی جی پولیس اپنے محکمے کے بہت سے اہم معاملات سے لاعلم ہیں یا پھر وہ اس بارے میں بہت محتاط ہیں کہ شاید ان کے کسی جواب سے ان کے لئے یا محکمہ پولیس کے لئے کوئی مسئلہ نہ پیدا ہو اس لئے وہ خود براہ راست جواب دینے سے احتراز کر رہے ہیں۔ تاہم ان کی میڈیا کے ساتھ مجموعی گفتگو سے یہ ضرور محسوس ہوا کہ وہ تمام مسائل اور معاملات میں گہری دلچسپی لے رہے ہیں۔ وہ پولیس کو فعال بنانے اور پولیس اور شہریوں کے مابین قریبی روابط اور باہمی تعاون کو فروغ دینے کے لئے عملی اقدامات اور کوششیں کر رہے ہیں۔


