زیر تعمیر یا زیر تربیّت حکومت

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

وزیر اعظم عمران خان اقتدار حاصل کرنے کی جدوجہد کے بعد اقتدار بچانے کی جدوجہد میں مصروف ہیں۔ وزیر اعظم عمران خان 22 سالہ اپوزیشن کی ریاضت کے بعد معمولی اکثریت کے ساتھ حکومت بنانے میں کامیاب ہوئے ہیں۔ حکومت کی بدقسمتی یہ ہے کہ اکثریت معمولی ہے اور ذمہ داری اس سے کہیں زیادہ غیر معمولی ہے۔ عمران خان کو اقتدار میں آتے ہی ملک کو دیوالیہ پن سے بچانے کا چیلنج درپیش تھا۔ عمران خان ملک کو دیوالیہ پن سے بچانے کے لئے ”دیوانے پن“ کے ساتھ کام کر رہے ہیں۔

وزیر اعظم عمران خان کے سعودی عرب، ترکی، متحدہ عرب امارات اور چائنہ کے دورے اسی سلسلے کی کڑی ہیں۔ وزیر اعظم عمران خان نے اقتدار میں آنے سے پہلے عوام کے تمام دکھوں کا علاج کرنے کے وعدے کیے تھے اور ایک مسئلہ یہ بھی ہے کہ دکھوں کے انبار نے عوام کا جینا بھی حرام کر رکھا ہے۔ وعدے کرتے ہوئے عمران خان اور ان کے ساتھیوں نے عقلی تقاضے پورے نہیں کیے اگر زمینی حقیقتوں کو سامنے رکھ کر وعدے کیے جاتے تو یقیناً عوام کے اندر اس قدرے بے چینی کی لہریں پیدا نہ ہوتیں۔

عمران خان کا بنیادی ایجنڈا اینٹی کرپشن تھا اگر اسی تک محدود رہتے اور پھر 50 لاکھ گھروں کی تعمیر اور ایک کروڑ نوکریوں کی جدوجہد شروع کرتے تو لٹے پٹے عوام عش عش کر اٹھتے لیکن اقتدار میں آنے سے صرف ایک ماہ پہلے عمران خان اور ان کے ساتھیوں نے پہلے سو دن کا ایجنڈا دے کر مسائل کا بھوت اپنے سامنے کھڑا کیا اور اب یہ بھوت پوری حکومت کو ”بدعہدی“ پر ڈراتا رہتا ہے۔

وزیر اعظم عمران خان نیک نیتی کے ساتھ بیرونی دنیا کے دورے کر کے قرضے اور پیکج لا رہے ہیں اور بھرپور کوشش کر رہے ہیں کہ آئی ایم ایف کی ”سود خوری“ سے بچا جا سکے اور ابھی تک حکومت آئی ا یم ایف سے قرضہ نہ لینے میں کامیاب ہے اور دوست ممالک سے قرضے لے کر خطرناک صورت حال سے تقریباً باہر نکل آئی ہے۔

حکومت کی اگر گزشتہ چھ ماہ کی کارکردگی کو دیکھا جائے تو یہ کہنا بے جا نہ ہو گا کہ عالمی دنیا میں پاکستان کا امیج بہت بہتر ہوا ہے جبکہ ملکی سطح پر حکومت کا امیج کافی خراب ہوا ہے۔ وزیر اعظم نے جب امریکی صدر ٹرمپ کو انہی کے لہجے میں جواب دینا شروع کیے تو مسلم دنیا میں اس کو قدر کی نگاہ سے دیکھا گیا لیکن امریکیوں نے اب صورت حال کو باریکی سے دیکھنا شروع کر دیا ہے اور یہی وجہ ہے کہ نئی صورت حال میں امریکی صدر ٹرمپ نے وزیر اعظم عمران خان سے ملاقات کی خواہش کا اظہار بھی کیا اور عنقریب یہ ملاقات ہونے والی ہے۔

امریکیوں کی طرف سے وزیر اعظم عمران خان کے ویژن کی تعریف کسی گہری چال کا کا پتہ دے رہی ہے وگرنہ طالبان سے مذاکرات کے ذریعے تنازعات کو حل کرنا پاکستان کی ہر حکومت کی خواہش رہی ہے۔ امریکیوں نے جب افغانستان پر حملے کا حتمی فیصلہ کر لیا تھا تو صدر جنرل پرویز مشرف کو صرف یہ کہا گیا تھا کہ آپ ہمارے ساتھ ہیں یا نہیں؟ اور صدر جنرل پرویز مشرف نے امریکی منصوبے پر عملدرآمد کے لئے ہاں کر دی تھی۔

اب چونکہ امریکہ تھک چکا ہے اس لئے عمران خان کے ویژن کی تعریف کر کے ایک طرف افغانستان سے نکلنے کا چارہ کر رہا ہے اور ساتھ ہی عمران خان کی طبیعت کو سمجھنے کی کوشش بھی کر رہا ہے۔ لہٰذا پاکستان کو اس پر زیادہ خوش نہیں ہونا چاہیے کہ امریکیوں نے عمران خان کو دور اندیش لیڈر قرار دے دیا ہے۔ افغانستان کے بھنور سے نکل کر امریکیوں کو عمران خان کا ویژن یاد بھی نہیں ہو گا۔

حال ہی میں عمران خان قطر کا دورہ کر کے پیکج اور نوکریوں کا اعلان لے کر واپس آئے ہیں۔ واپس پہنچ کر انہیں معلوم ہوا ہے کہ ”اصحاب (ق) “ کافی ناراض ہیں اور ان کے ایک ”بچونگڑے“ نے استعفٰی بھی داغ رکھا ہے۔ مسلم لیگ (ق) کی نظر یں وزارت اعلٰی پنجاب کے حصول پر ہیں اور اس مقصد کے لئے پیپلزپارٹی نے انہیں اپنے سمیت مسلم لیگ (ن) کی حمایت کا یقین بھی دلایا ہے۔ سیاسی کھیل میں اس وقت پیپلزپارٹی سب سے کامیاب جا رہی ہے کیونکہ پیپلزپارٹی نہ صرف وفاقی سطح پر بلکہ پنجاب کی سطح پر بھی مسلم لیگ (ن) کی طاقت کو بے دریغ اور غیر محسوس انداز میں استعمال کرتی دکھائی دیتی ہے۔

جوڑ توڑ کی اس سیاست میں مسلم لیگ (ق) کو وزارت اعلٰی پنجاب کی پگ مل جائے گی اور پیپلزپارٹی پنجاب میں صرف 6 ممبران کے ساتھ حکومت گرا کر وفاق میں بھی اپنی دھاک بٹھا دے گی اس کھیل میں مسلم لیگ (ن) کے ہاتھ سے پنجاب بھی نکل سکتا ہے کیونکہ چودھری پرویز الہٰی مسلم لیگ (ن) کے اراکین کو مسلم لیگ (ق) میں ”غرق“ کرنے کا ہنر جانتے ہیں۔ اس لئے ہو سکتا ہے مسلم لیگ (ن) خورشید شاہ کی طرف سے کی گئی پیش کش پر نظرثانی کرے اور پنجاب میں چودھری پرویز الہٰی کو سپورٹ نہ کرے۔ وزیر اعظم عمران خان اس وقت ایک ایسے راہنما کے طور پر سامنے آئے ہیں جو انٹرنیشنل سطح پر بھی منت سماجت کر رہا ہے اور ملکی سطح پر بھی اتحادیوں کو ساتھ رکھنے کے لئے ”منت ترلا“ کرتا دکھائی دیتا ہے۔

وزیر اعظم عمران خان کی چھ ماہ میں تربیت یہ ہوئی ہے کہ بطور وزیر اعظم دوست ممالک سے قرضے اور پیکج کیسے لینا ہے جبکہ مشکل کے اندر اپنی حکومت بچانے کے لئے اتحادیوں کو ساتھ کیسے رکھنا ہے؟ غور کیا جائے تو ایسا محسوس ہوتا ہے کہ گزشتہ چھ ماہ میں حکومت کی تربیّت صرف منت سماجت کرنے کی ہوئی ہے اور ابھی یہ سلسلہ طویل ہوتا دکھائی دیتا ہے۔ لہٰذا یہ کہنے میں کوئی عار نہیں کہ عمران خان کی حکومت ابھی زیر تربیّت ہے کچھ لوگ اسے ”زیر تعمیر حکومت“ کا نام بھی دے رہے ہیں۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

شمشاد مانگٹ

شمشاد مانگٹ گذشہ 25برس سے الیکٹرانک اور پرنٹ میڈیا کے ساتھ منسلک ہیں۔اس وقت بطور گروپ ایڈیٹر روزنامہ جناح اور آن لائن نیوز ایجنسی کے ساتھ کام کر رہے ہیں

shamshad-mangat has 100 posts and counting.See all posts by shamshad-mangat