کیا خوشیوں سے منہ موڑنا ضروری ہے؟


کل رات ایک مہندی کے فنکشن میں جانا ہوا، نوعمر بچیوں، لڑکیوں کا ایک گروپ ڈھول کی تھاپ پے روایتی رقص کر رہا تھا۔ یقین کریں چند منٹ تو میں نظر جھپکنا بھول گیا، جو خوشی سرور اور سرمستی بچیوں کے انگ انگ سے چھلک رہی تھی، بہت معصومانہ اور دلکش قسم کے تاثرات تھے ننھی رقاصاؤں کے چہروں پر، میں ہی نہیں ہال میں موجود ہر شخص اپنے طور پر محظوظ ہوا۔

اور جب اس منظر کے سحر سے نکلا تو ایک تلخ حقیقت نے میرا دل چیر سا دییا کہ ہم کس قدر بناوٹی زندگی جی رہے ہیں۔ خالص عمل، جذبے اور احساسات تو گویا مِٹ سے گئے ہیں۔ ہم لگی بندھی بوسیدہ روایتوں اور جھوٹی اناؤں کے بوجھ تلے اس قدر دب گئے ہیں کہ اب فطرت کے یہ چھوٹے چھوٹے ایکٹ ہم جیسوں کو آکسیجن کا کام دیتے ہیں۔ آرٹ اور فنونِ لطیفہ کے جملہ فنون سے ہم اتنے دور جا چکے ہیں کہ اپنی کھڑی کی ہوئی نام نہاد ماڈرن تہذیب تلے ہمارے فطری رنگ، ہماری تہذیب، ہمارا کلچر دم توڑ رہا ہے۔

کیا فی زمانہ "مہذب” ہونے کے لیے نقلی قسم کی متانت، آرٹ سے لا تعلقی اور چھوٹی چھوٹی خوشیوں سے منہ موڑنا ضروری ہے؟

برِ صغیر جو کلچر کے عمدہ ترین ورثے کا مالک ہے، اس کے اپنے ہی باسیوں کے کمپلکس کا شکار ہوکر بے موت مر رہا ہے۔ مان لیں کہ فطرت آزاد ہے اور ازادی میں ہی یہ پنپ سکتی ہے۔ جھوٹی اناؤں اور مصنوعی دکھاووں میں انسان اندر سے بے سکون کھوکھلا اور تنہا ہوتا جاے گا، جو کہ کسی بھی صورت تعمیری صورتحال نہیں ہے۔

یہاں اس پوائنٹ پر میرے دماغ میں بار بار یہ سوال گونجتا رہا کہ کیا خوشی کے حصول کے لیے ایسے ہی چند مواقع کو ہم للچاتے رہیں گے؟ کیا ہماری ری کریئشن ہر لمحہ ہر پل نہیں ہو سکتی؟ زندگی تو نام ہی زندہ رہنے کا ہے تو کیا ہم صرف سانس لینے کی حد تک ہی زندہ ہیں؟ احساسات و محسوسات کی حسیات کہیں کھو گئی ہیں۔

بار بار سوچنے کے بعد جو بات سمجھ میں آئی وہ یہ ہے کہ ہمارے موجودہ ملا ازم اور مذہبی راہنماؤں نے فطری خوشی کے ان تمام طریقوں کو حرام قرار دے کر ہم سے جینے کے لیے عارضی اور وقتی خوشیاں بھی چھین لی ہیں۔ میں تو وہاں سے یہ عزم لے کر اُٹھا کہ جہاں تک ممکن ہوا اپنے آپ اور اپنے اردگرد کے لوگوں کو جہاں تک ممکن ہوا چھوٹی چھوٹی فطری خوشیوں سے محروم نہیں ہونے دوں گا۔

آپ سب بھی اس عہد کے ساتھ جیئیں کہ زندگی ہماری ہے اسے جینا بھی ہم نے ہے۔ کسی دوسرے کے بنائے ہوئے قاعدے قوانین پر عمل کر کے نہیں بلکہ اپنے اندر کی بات مان کر۔ اپنے ساتھ دوستی کا آغازکریں، قافلہ خود بخود بنتا جائے گا، سلامت رہیے۔

Facebook Comments HS