بے معنویت

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

اور اسے اذن دے دیا گیا تھا کہ چاہے تو دن میں رات گزارے یا رات میں دن مگر ہوشیار کہ ہر دو کو اکٹھا نہ بِتائے۔ لیکن چلچلے نے موت اور زندگی دونوں کو یکجا کیا اور ان کی مقدس آنکھوں کے سامنے اپنی زنبیل میں سے رتجگے کا سفوف لے کر سورج کی آنکھوں میں جھونک دیا۔ سورج کی آنکھیں پتھرا گیئں اور دور افق پر رات کا تارا چوتھے آسمان سے اپنے دودھیا بال لہراتا باہر نکلا اور دن کی سفیدی نے اپنے پر پھیلا دیے۔ نور علیٰ نور کا ساماں بنا!

رات کے پچلے پہر چلچلے نے آسمان کے ساتویں حصے کی کھڑکی کھولی اور زندگی سے اساطیری مکالمہ کیا۔ ”تو نادان تھی لیکن حسن کوزہ گر کو میں ترے در کے آگے سوختہ سر چھوڑ آیا تھا۔ وہ ترے ہجر کو واہمے کے بے رنگ سُروں میں پروتا رہا ہے۔ تو چاہے تو اس غرقاب کو اس کا کھویا ہوا وہ من لوٹا دے جس کا دھندلا سا عکس چاند میں مزین ہے۔ تو چاہے تو اس کے سر میں کھدی صدیوں کے سفر کی تمام اکائیاں نکال پھینکے اور اس کی قسمت کو دوچند کر دے۔ اسے آزاد کر دے۔ لیکن یہ بھی ممکن ہے کہ تیرا وجود اسی نادانی کے صحرا میں گامزن رہے جہاں ہزاروں ملاح اپنے اپنے سمندر کی تلاش میں آزردہ سی کشتیاں لئے پھرتے ہیں“۔

چلچلے کی داستان سناتے ہوئے وہ چھلاوے کی طرح اچھلا اور اتہاس کے درخت کے ساتھ لٹک گیا۔ اتہاس کے اس درخت کی لمبائی اور چوڑائی وہاں کے ساکن نوری سالوں میں ماپتے اور اس کی عمر کو اپنے قبیلوں میں بانٹ لیتے۔ الحذر الحذر۔ ایک صدا گونجتی اور وہ درخت پر جھولتے ان پتوں کو تھام لیتا جن کے گیت مکمل ہو چکے تھے۔ وہ ان کے اجداد سے ان کے اگلوں کے قصے سنتا اور بادلوں کے دلوں میں انڈیل دیا۔ اور یہ بادل ولیوں کے مشروب میں چھپ جاتے اور آہستہ آہستہ ان کی زبان سے نکلے لفظوں کی خوشبو بن کر ارضی جسموں کے عصبی تناوٴ کو لطافت اوڑھا دیتے۔ زلفِ یار میں شامل تھی بہشتوں کی مہک۔ بہشتوں کی داستاں کو وہ اپنے جسموں پر محسوس کرتے۔ وہ جسم کہ جن کو اب کبھی موت کی راہبہ بھی چھو نہ سکتی تھی۔ اور زندگی تو گناہ کبیرہ کی ٹوٹتی نبض تھامے اپنے سر کو گھٹنوں میں دے کے بیٹھی تھی۔

چلچلے کے پاس دوسری کہکشاں کے لوگوں کی آمد کا سلسلہ ابھی تک تھما نہیں تھا کہ دور آسماں سے کاسنی رنگ کا طوفان برآمد ہوا۔ تیسری کہکشاں میں کسی نے آگ لگا دی تھی اور وہاں سے اٹھارہ چاند دھویں کے بیچوں بیچ چلچلے سے ثالثی کی فرمائیش کرنے نکل پڑے تھے کہ آج ان کے خداوٴں کے آرام کا دن تھا۔ خداوٴں نے عادل ہواوٴں کے حصے کا وقت اور سمندروں کا صبر دونوں نیند کو بیچ دیے تھے اور اب اس کا تسلط ہر وقت پر مستحکم تھا۔ یہ نیند کا سکون تھا جسے وہ کبڑے جادوگر کی عنایت سمجھتے اور اس کے راستے کے پتھر چنتے اور خیال کرتے کہ خداوٴں نے پُر عیب طلسمی ہڈیوں سے اک دل آویز محل سرا بنا دیا ہے۔

داستاں گو رکا اور گہری سانس لے کر بولا ”یہ بات جان لو کہ چلچلے کو نیند، رات اور دن کی پر پیچ گلیوں سے کہیں زیادہ زندگی کی دلفریب وادیوں، آبشاروں، اور چناروں سے دل لگی تھی جہاں اس کے جواں خون نے نیلے سے لال رنگ بدلا تھا اور اس نے وصل کی حرارت میں غسل کیا تھا۔ وہ چند صدیوں کے لئے ہی سہی وقت کی قید سے نکلا اور وحدت کے ولیوں سے مصافحہ کیا۔ یاد رکھو وہاں کے چرند و پرند میں مگر یہ کہانی مشہور تھی کہ اس کا ماضی اس سے جنات کے سائے کی مانند لپٹ گیا تھا اور وہ مستقبل کے جنگلوں میں بھی اپنے ماضی کا بوجھ ڈھوتا رہا۔ پھر یوں ہوا کہ اس کی زندگی نے اس کے سامنے تیسرے جنم کے لئے حیرت کا روپ دھارا۔ “

چلچلے کی کہانی ابھی ختم نہ ہوئی تھی کہ داستان گو کو گہری نیند نے جا لیا۔ زمانے کے عین وسط میں اس داستاں نے طلسماتی رچاوٴ بنا دیا تھا اور نیم جلے چراغوں کی قطار کے اُس پار سے دھیمی دھیمی آواز آ رہی تھی۔ جیسے کوئی نظم لکھتے ہوئے ہولے ہولے بولتا جائے۔ !

”ہم تصوف کے خرابوں کے مکیں

وقت کے طولِ المناک کے پروردہ ہیں

اک تاریک ازل نورِ ابد سے خالی

ہم جو صدیوں سے چلے ہیں تو سمجھتے ہیں کہ ساحل پایا

اپنی دن رات کی پاکوبی کو حاصل پایا۔ ”

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •