اور مسجد کا خادم چلا گیا!
کاش مسجد میں پانچ پانچ لاکھ کا فانوس عطیہ کرنے والے کچھ پیسوں سے میری کسی بچی کو رخصت کروا دیں تو مجھے پورا یقین ہے میرا اللہ انہیں فانوس لگانے سے زیادہ ہی ثواب دے گا۔ میں خادم کی اس بات پر لاجواب ہوگیا۔ کتنا سفاک سچ ہے کہ ہم مصیبت پر پندرہ بیس ہزار روپے کا صدقے کا بکرا دے دیں گے۔ بھکاری کو سو پچاس کی خیرات دے دیں گے۔ لیکن ایک مزدور کی مزدوری کم کروائیں گے۔ بازار میں ازار بندبیچنے والے سے قیمت کم کروائیں گے، غبارے بیچنے والے کو دس بیس روپے کم دیں گے۔
میں سمجھتا ہوں ان لوگوں کی جنس سے زیادہ رقم دینا بھی صدقے کی طرح ہی ہے ( واللہ اعلم بالصواب) ۔ وہ خادم جس کو ہم نے جوانی میں مسجد کی خدمت کرتے دیکھا تھا، اب اس کی کمر میں خم آگیا تھا، داڑھی سفید ہوگئی تھی عمر کی مناسبت سے اس کے چہرے پر جھریاں زیادہ تھیں۔ لیکن نہ تو پانچ وقت کی اذان دیتے ہوئے اس کی آواز کی کھنک کم ہوئی نہ ہی جذبہ۔ لیکن خالی جذبے سے کیا ہوتا۔ کیمٹی تو کام مانگتی ہے۔ یوں بھی لوگوں کا خیال تھا خادم اب رفتہ رفتہ ناکارہ ہوتا جارہا ہے۔
خادم نے کوشش کی کہ کسی طرح سے اپنے ایک آدھ لڑکے کو مسجد میں اپنی جگہ پر ملازم کروا دے لیکن کمیٹی کا خیال تھا کہ اس کے لڑکے اوباش ہیں ایک آدھ رکن نے تو گواہی بھی دی کہ اس نے خود اس کے بچے کو گلی میں کھڑے ہوکر سگریٹ پیتے دیکھا ہے حالانکہ معترض شخصیت خود جس عارضے میں مبتلاتھی وہ سگریٹ ہی کی وجہ سے ظاہر ہوتا ہے۔ جانے سے کچھ دن قبل میری شیریں خان سے آخری ملاقات ہوئی۔ وہی باتیں جو مسائل میں گھرے ایک شخص کی ہوتی ہیں۔
بچیوں کی بڑھتی عمر کا رونا، انڈر میٹرک بیٹوں کی نوکری کے خواب، گرتی ہوئی صحت اور علاج معالجے کے لیے رقم کا نہ ہونا ( حالانکہ مسجد کے نمازیوں میں ماہر معالجین بھی تھے ان میں سے ایک نے توگزشتہ برس ماہِ رمضان میں نئے قالین اور اے سی انورٹرز کا عطیہ بھی دیا تھا) ۔ میں نے شیریں خان کا وہی مشورہ دیا جو ہم سب دیتے ہیں کہ ”اللہ پر بھروسا رکھو“۔ وہ ایک زخمی مسکراہٹ کے ساتھ بولا! بابو! اللہ پر تو بھروسا ہے مگر اس کی مخلوق پر نہیں!
یہ میرا اس کے ساتھ آخری مکالمہ تھا۔ پھر بہت دن گزر گئے موسمی پرندے کی طرح پھر میرے اندر کے نمازی نے کروٹ لی اور اپنے تئیں میں پھر ”پکا“ نمازی بننے کا سوچ کرمیں مسجد کی طرف چل پڑا، اس مرتبہ میں نے سوچا کہ کچھ رقم خادم کو دوں گا شاید اس کے کچھ کام آسکے۔ لیکن اب بہت دیر ہوچکی تھی۔ مسجد وہی تھی سب کچھ وہی تھا لیکن اس میں شیریں خان کی خوشبو، اورنمازیوں کا استقبال کرنے والی دوآنکھیں نہ تھیں۔ مجھے بس اتنا یاد ہے کہ کچھ لوگ آپس میں بات کررہے تھے کہ ”خادم مسجد چھوڑ کر گاؤں چلا گیا ہے! نخرے بڑھ گئے تھے اس کے، بہت بے وفا نکلا! ، اور دو اشک میری آنکھوں سے یہ کہتے ہوئے نکل کر صف کی دبیز تہہ میں جذب ہوگئے کہ“ بے وفا کون نکلا! خادم یا ہم! ”

