پروفیسر موری کے ساتھ منگل کی صبحیں

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

ہفتے میں دو تین مرتبہ ریڈنگز جانا ہوتا تھا۔ وہاں اندر کیفے جو ہے وہ سکون والی جگہ ہے۔ ایک وقت تھا کہ وہاں سارے کریکٹرز آیا کرتے تھے۔ بلکہ یوں کہا جا سکتا ہے کہ تب ان تمام پیارے لوگوں کا وہاں کیفے میں آنا جانا ایک مخصوص ٹائم کے آس پاس ہو جاتا تھا ’عین اس وقت جب فقیر بھی اتفاق سے ادھر ہی ہوتا تھا۔ لوگ اب بھی آتے ہوں گے، شاید وقت تھوڑا اوپر نیچے ہو گیا ہے۔ تو ان دنوں جب ادھر بیٹھک ہوتی تو کتابیں سب سے زیادہ ڈسکشن میں آتیں۔

اپنا معاملہ یہ ہے کہ زبردستی کچھ نہیں پڑھا جاتا، وہ چاہے سائنس کی کتاب ہو چاہے فکشن کی اعلیٰ ترین قسم ہو، جدھر اس کے ساتھ کسی طرح کا ٹیسٹ لگا یا ٹائم فریم جڑا تو اپنی ایسی تیسی پھر گئی۔ اس کے بعد خدا کا خاص کرم ہوتا ہے۔ بھائی اس کتاب کو اگنور کرتا ہے یا وہ کتاب خود شرم کے مارے سامنے نہیں آتی، ان دونوں میں سے ٹھیک صورتحال کون سی ہے، آج تک سمجھ نہیں آیا۔

تو ادھر کیفے میں ایک دوست نے تین چار مرتبہ کوئی کتاب ریکمنڈ کر دی، یہ بھی کہا کہ اگلے ہفتے پڑھ کر آنا، اس پہ بات کریں گے۔ چوتھی بار اس غریب نے پوچھ ہی لیا کہ حسنین، ہیو یو ریڈ دیٹ بک؟ ابھی حسنین کیا بتائے کہ بابا جو چیز ٹائم لمٹ کے ساتھ باندھ دو گے، جس کام کے بارے میں بار بار پوچھو گے، اس کے بارے میں پھر ”نہ“ ہی سمجھو۔ کم جوان دی موت اے، جتھے کم ’اوتھے ساڈا کی کم؟ اب وہ دور بھی یہ گناہگار آنکھیں دیکھیں گی کہ دیے گئے ٹائم میں انگریزی ناول ختم کرنا ہوں گے؟

نہ بھائی نہ، ایسا ہونا مشکل ہے۔ ہو گئی، بات آئی گئی ہو گئی اور بھول بھال گئی۔ اس دن آئلہ کے لیے کتابیں لے رہا تھا تو یہ کتاب بھی نظر آ گئی، اٹھا لی۔ ایک دن گھر میں سامنے کچھ نہیں ملا تو اسے پڑھنا شروع کر دیا، پڑھ لی تو آئیڈیا ہوا کہ بعض اوقات دوستوں کی بات سن بھی لینی چاہیے۔ Tuesdays With Moorie اخیر کتاب ہے!

موری ایک پروفیسر ہے، وہ بسترِ مرگ پر پڑا ہے ’اور اسے معلوم ہے کہ اس نے تھوڑے دنوں بعد مر جانا ہے۔ اسے ڈاکٹر نے ایسی بیماری تشخیص کی ہے جو پہلے اس کے پیروں پہ اثر کرے گی، وہ کام کرنا چھوڑ دیں گے۔ پھر وہ گھٹنوں تک آئے گی پھر مکمل ٹانگوں پر، پھر کمر‘ اس کے بعد بازو پیرالائز ہوں گے اور فائنلی اس کی گردن تک اس بیماری کا اثر پہنچے گا۔ اینڈ آف دی ڈے موری کی موت واقع ہو جائے گی۔ کتاب کا دوسرا کردار مچ البوم ہے جس نے یہ سب حال بیان کیا ہے۔ وہ ایک کامیاب سپورٹس جرنلسٹ ہے اور یہ داستان اس کی سچی کہانی ہے۔

کہانی شروع ہوتی ہے، مچ ایک کم گو اور پھسڈی سا طالب علم ہے۔ ایک ایسا بچہ جو بہت سارے دوسرے بچوں کی طرح ہے، جو آؤٹ شائن نہیں کر سکا، بس نارمل سا ہے اور دوسرے عام لڑکوں کی طرح اس نے کالج کی پڑھائی پوری کر لی ہے۔ رزلٹ والے دن مچ اپنے والدین سے پروفیسر موری کی ملاقات کرواتا ہے، موری جو اس کا فیورٹ پروفیسر ہے کیونکہ وہ اسے خاص توجہ دیتا ہے، اس کے مسائل سلجھانے میں اس کی مدد کرتا ہے اور پڑھائی میں بھی ہمیشہ مچ کی راہنمائی کرتا ہے۔

تو موری انہیں بھی گرمجوش سی مبارکباد دیتا ہے کہ بھائی آپ کا بیٹا بہت ذہین طالب علم ہے اور یہ بلاشبہ آگے بھی آپ کا نام روشن کرے گا۔ مچ کے ماں باپ بہت خوش ہوتے ہیں کیونکہ اسے کسی استاد نے کبھی اتنی زیادہ توجہ نہیں دی ہوتی۔ تو جاتے ہوئے وہ طالب علم وعدہ کرتا ہے کہ وہ موری ’اپنے پسندیدہ پروفیسر سے رابطے میں رہے گا لیکن پھر وہ اپنا وعدہ بھول جاتا ہے۔

بیس سال گزر چکے ہیں، مچ البوم تیزی سے کمرشل دنیا کی سیڑھیاں چڑھ رہا ہے، اچھا خاصا کامیاب آدمی ہے۔ اسی دوڑتی بھاگتی زندگی میں ایک دن وہ ٹی وی کے آگے بیٹھتا ہے اور چینلز بدلنے میں لگ جاتا ہے، جیسے ہم آپ سارے لوگ بے مقصد چینل پہ چینل بدل رہے ہوتے ہیں۔ اچانک اس کے سامنے ایک ایسا چہرہ آتا ہے جسے دیکھ کے اسے شک سا ہوتا ہے کہ یہ کہیں پروفیسر موری نہ ہو۔ بندہ وہی نکلتا ہے۔ پروفیسر بتائی گئی بیماری (اے ایل ایس) کا شکار ہے۔

مچ فیصلہ کرتا ہے کہ اسے فوری طور پہ اپنے استاد سے ملنا ہے، وہ فلائٹ کرواتا ہے اور سیدھا اس کے گھر پہنچ جاتا ہے۔ وہاں بات چیت کے دوران ہی موری کی باتوں میں اسے وہ سچائی نظر آتی ہے (نظر تو پہلے آ چکی ہو گی، شاید رئیلائز اب ہوتا ہے ) جس کی تلاش میں ہم سب گھومتے پھرتے رہتے ہیں۔ کسی کو بابوں کی تلاش ہوتی ہے، کوئی موٹیویشنل سپیکرز کا کھاجا بنتا ہے، کوئی عقیدوں کا آسرا تھامتا ہے، کسی سے قبریں باتیں کرتی ہیں اور کوئی صرف تنہائی سے دل لگی کرتا رہتا ہے۔

اب موری جو ہے وہ ایک مرتا ہوا آدمی ہے لیکن وہ مایوس نہیں ہے۔ وہ آخری لمحے تک اپنی زندگی بامقصد رکھنا چاہتا ہے۔ جیسے جیسے اس کی بیماری میں شدت آ رہی ہے ویسے ویسے ٹی وی پروگرام کی وجہ سے اس کی شہرت میں اضافہ ہو رہا ہے۔ اچھا موری ٹی وی پہ آیا کیسے، یہ ایک الگ کہانی ہے، سب کچھ ادھر ہی تو نہیں بتانا ہوتا، تو تھوڑا کتاب کے لیے باقی چھوڑے جاتے ہیں۔ اب چونکہ مچ ایک جرنلسٹ بن چکا ہے، کالم وغیرہ بھی لکھا کرتا ہے تو اپنے پروفیسر کی باتیں سن کر اسے خیال آتا ہے کہ یار یہ سب اچھی باتیں دوسرے لوگوں تک بھی پہنچنی چاہئیں۔

مصنف پروفیسر موری کے ہمراہ

وہ موری سے اس بارے میں ڈسکس کرتا ہے، پروفیسر موری نہ صرف اجازت دیتا ہے بلکہ یہ بھی طے پاتا ہے کہ اس گفتگو کی ایک کتاب بھی بننی چاہیے۔ شیڈول کے حوالے سے طے پاتا ہے کہ ان کی ملاقاتیں منگل کو ہوا کریں گی۔ اگلے منگل سے مچ ٹیپ ریکارڈر لے کے پروفیسر کے پاس پہنچ جاتا ہے۔ پروفیسر کی موت تک ریکارڈنگز چلتی ہیں اور بعد میں بالآخر وہ کتاب سامنے آتی ہے جس کی اب تک ایک کروڑ چالیس لاکھ سے زیادہ کاپیاں بک چکی ہیں ’اور جس کا ترجمہ پینتالیس زبانوں میں ہو چکا ہے۔

ہم میں سے ہر کوئی جانتا ہے کہ ایک دن اس نے مر جانا ہے لیکن اس بات پہ یقین کرنے کے لیے کوئی بھی تیار نہیں ہوتا۔ موری کہتا ہے کہ اگر آپ نے اپنی زندگی سے کچھ حاصل کرنا ہے تو الرٹ رہنے کا بہترین طریقہ یہ ہے کہ آپ روز اپنے آپ سے سوال کریں کہ بھائی کیا میں ویسا ہو گیا ہوں ’جیسا میں ہونا چاہتا تھا؟ اگر آپ ویسے نہیں ہو سکے جیسے آپ ہونا چاہتے تھے تو آج سے ویسا بننا شروع کر دیں۔ مطلب جو کچھ کرنا ہے آج کے دن سے کرنا ہے، ابھی سے ہمت کرنی ہے کیونکہ آپ نہیں جانتے کہ آپ کل ہوں گے بھی یا نہیں ہوں گے۔ موری کہتا ہے : ایک مرتبہ مرنا سیکھ لیا تو آپ کو معلوم ہو جائے گا کہ زندہ کیسے رہنا ہے۔ یعنی اگر آپ کو معلوم ہو کہ آج آپ کی زندگی کا آخری دن ہے تو آپ کی ترجیحات کیا ہوں گی؟ (ویسے ایک منٹ کے لیے آنکھیں بند کریں اور سوچیں، قسمیں جو کچھ ذہن میں آئے گا اصل زندگی بس وہی ہے! )

یاد رہے یہ کتاب آپ کو بڑا اور مشہور آدمی بنانے پہ زور نہیں دے گی بلکہ ایک ایسا جاندار بنانے کی کوشش کرے گی جو اپنے گھر والوں اور اپنے کام (نوکری یا بزنس) کے درمیان وقت بانٹنا جانتا ہو۔ جسے یہ علم ہو کہ یاروں دوستوں سے گپ شپ بھی اتنی ہی ضروری ہے جتنا وائی فائی اور سوشل میڈیا ضروری ہے۔ جو انسانوں کو عقیدوں اور اصولوں پہ اہمیت دیتا ہو۔ یہ کتاب آپ سے پیار، محبت، پچھتاوے، درگزر اور سکون کی بات کرے گی۔ جو سب سے بڑا جملہ اس کتاب کا فقیر کے نزدیک تھا وہ یہ تھا: ایک دوسرے سے محبت کرو یا پھر فنا ہو جاؤ! اور یہی فلاسفی اس کتاب کا مرکزی خیال ہے۔

مرتے ہوئے پروفیسر کی ایک خواہش اور تھی۔ وہ پُرسکون موت چاہتا تھا۔ ایسے وقت جب کوئی اور اس کے آس پاس نہ ہو اور وہ سکون سے، اطمینان سے آنکھیں بند کرے اور مر جائے۔ موری واقعی ایسے ہی مرا۔ رہیے اب ایسے جگہ چل کر جہاں کوئی نہ ہو۔ یہ بھی بہت بڑی بات ہے۔ یہ کتاب آپ کو بہت کچھ سوچوائے گی، موقع ملے تو پڑھیے گا۔ ہاں وہ جو موری ہے اسے یُوٹیوب پہ آپ دیکھ اور سن بھی سکتے ہیں۔ حق مغفرت کرے عجب آزاد مرد تھا۔

image_pdfimage_print
Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

حسنین جمال

حسنین جمال کسی شعبے کی مہارت کا دعویٰ نہیں رکھتے۔ بس ویسے ہی لکھتے رہتے ہیں۔ ان سے رابطے میں کوئی رکاوٹ حائل نہیں۔ آپ جب چاہے رابطہ کیجیے۔

husnain has 481 posts and counting.See all posts by husnain

––>