میری پیاری اسٹیبلشمنٹ
دوسری یا تیسری کلاس میں پڑھتے تھے جب سے اخبار پڑھنے کا چسکا لگا اور پھر ایسا لگا کہ آج بھی روز چار پانچ اخبار پڑھے بغیر دن مکمل نہیں ہوتا۔ قریب تین عشرے ہونے کو آئے ہیں۔ اس وقت صدر غلام اسحاق خان کا طوطی بولتا تھا۔ صدر صاحب نے جب چاہا جس بات کا نوٹس لے لیا، جب چاہا جس وزیر اعظم کو گھر بھیج دیا اور ایک موقع پر سینگ اتنے پھنسا لئے کہ سب کو گھر جاتے ہی بنی۔ غلام اسحاق خان کی حب الوطنی اور ایٹمی پروگرام سمیت درجنوں کلیدی منصوبوں کے خواب سے تکمیل تک ان کا کردار اہلِ وطن کے لئے نعمتِ عظیم سے کم نہیں۔ لیکن بچپنے کے اس دور میں ان کا تصور ایک مقتدر شخصیت کا تھا، جو طاقت کا سرچشمہ بھی تھا، محب وطن بھی تھا اور اپنے مخصوص پشتو آمیز اردو لہجے میں بولتا ہوا نہایت اچھا بھی لگتا تھا۔
تھوڑے بڑے ہوئے تو پتہ چلا کہ غلام اسحاق خان تو دراصل ایک چہرہ ہے۔ اصل طاقت وہ ہے جس کے بل بوتے پر صدر صاحب کی ساری چمک ہے۔ اخبارات میں اداریے اور ارٹیکلز پڑھنے شروع کیے تو ایک لفظ کبھی سمجھ نہیں آتا تھا۔ اسٹیبلشمنٹ۔ بہرحال جو بھی تھی یہ، کمال تھی۔ وطن سے محبت اس کے رگ و پے میں تھی، سیاستدانوں کی کرپشن پر اس کو غم ستاتا تھا، وطن عزیر کی نا گفتہ بہ صورتحال پر یہ خون کے گھنٹ بھرتی تھی۔ ہر چند سالوں کے بعد یہ سیاستدانوں کو سمجھا بجھا کر پھر کرسی پر بٹھاتی تھی، لیکن یہ سیاستدان تھے کہ سمجھنے کا نام ہی نہیں لیتے تھے۔ اپنی اوٹ پٹانگ حرکتوں سے عوام کی ناک میں دم کیے رکھتے تھے۔ اسٹیبلشمنٹ کیونکہ ملک و قوم کا صحیح درد رکھتی تھی، اسے مجبوراً پھر مداخلت کرنی پڑتی تھی۔
تاریخ سے تھوڑی شد بد ہوئی تو پتہ چلا کہ ایسا ہمیشہ سے نہیں تھا۔ فوج جو شاید اسٹیبلشمنٹ ہے یا اس کی کوئی نمائندہ براہِ راست بھی مسندِاقتدار پر فائز رہی ہے۔ لیکن ہر چند سال بعد کیونکہ عوام کو جمہوریت کی یاد ستانے لگتی ہے تو مجبوراً اسے واپس جانا پڑتا ہے۔ ایک بار تو اس کام کے لئے ملک الموت کی مدد بھی لینی پڑی تھی۔ اس دوران غلام اسحاق خان کی جگہ فاروق لغاری نے لے لی، لیکن اسٹیبلشمنٹ نے جانے کیا جادو کیا کہ فاروق بھائی نے بھی اپنی بہن کی حکومت کو گھر بھیج دیا اور پھر میاں صاحب دو تہائی مینڈیٹ کے ساتھ وزیر اعظم بن گئے۔
بہرحال گرتے پڑتے 1999 آ گیا۔ جنرل پرویز مشرف کے پیشروؤں کے ساتھ وزیراعظم کے رویے سے دلبرداشتہ فوج کارگل کے ایڈونچر میں وزیراعظم کے کردار سے مطمئن نہیں تھی۔ محاذ آرائی کے نتیجے میں دونوں فریقین ایک نئے ایڈونچر کے لئے تیار بیٹھے تھے کہ وزیراعظم ایک پتہ غلط پھینک بیٹھے اور لینے کے دینے پڑ گئے۔ ایک بار پھر اسٹیبلشمنٹ براہِ راست اقتدار میں تھی۔ عدلیہ بحالی تحریک، لال مسجد اور بینظیر بھٹو شہید کی موت وہ ظاہری عوامل تھے جن کی بنا پر مشرف حکومت اپنی مقبولیت کھو بیٹھی (حقیقی عوامل میں ان طاقتوں کی بد ظنی کلیدی فیکٹر تھی کہ جن سے طاقت لے کر مشرف صاحب اقتدار میں تھے ) ۔
2008 میں جمہوریت کا نیا سلسلہ شروع ہوا۔ اس دوران جیوڈیشل ایکٹوزم نے طاقت کے نئے فریق کی حیثیت سے اپنی جگہ بنانی شروع کر دی۔ اس طاقت کو استعمال کرتے ہوئے ایک وزیر اعظم کو گھر بھیجا گیا اور انتظامیہ و مقننہ کے کاموں میں رخنے ڈالے جانے لگ گئے۔ ہماری پیاری اسٹیبلشمنٹ کو بھی یہ احساس ہوا کہ براہِ راست اقتدار میں آ کر رسوا ہونے سے بہتر ہے کہ جو بھی کرنا ہے وہ طاقت کے اس نئے فریق یعنی عدلیہ کے چہرے کو سامنے رکھ کر کیا جا سکتا ہے۔
یہاں سے ایک نئے نظامِ حکومت کی داغ بیل پڑی۔ میاں نواز شریف کو اپنی طاقت کی خوش فہمی تھی اور تیسری بار وزیراعظم بن کر اپنے آپ کو پھنے خان سمجھے بیٹھے تھے۔ چنانچہ اس نئے نظام میں تھوڑے ان فٹ سے محسوس ہونے لگے۔ بہرحال ایک قدم آگے اور دو قدم پیچھے کی رفتار سے چلتے ہوئے اپنی جگہ بنانے کی کوشش کرتے رہے کہ پانامہ کی کھائی میں جا گرے۔ پانامہ کا معاملہ جب میڈیا میں آیا تو بہتوں نے سمجھایا لیکن میاں صاحب کے مشیر انہیں اس پوزیشن تک لے گئے کہ اپنے ہاتھ کاٹ کر اپنا مستقبل عدلیہ کو سونپ دیا۔ بس وہ دن اور آج کا دن، عدلیہ اس ملک کا سب سے سپریم ادارہ بننے کی تگ و دو میں ہے۔ انتظامی امور، مقننہ کے معاملات وغیرہ سب میں صائب رائے عدلیہ کی بن گئی۔
جس طرح کسی بھی ڈرامے یا فلم کے سکرپٹ میں موقع پر کچھ تبدیلیاں کر لی جاتی ہیں، بسا اوقات کسی اداکار کے لہجے و جثے کی مناسبت سے ڈائیلاگز، لوکیشن اور ایکشن وغیرہ بدل دیے جاتے ہیں۔ اسی طرح کسی تبدیلی کے منصوبے اور حکمت عملی میں بھی سچوئشنز کی مطابقت سے کچھ تبدیلیاں کی جاتی ہیں۔ لیکن کیوں کہ ہماری پیاری اسٹیبلشمنٹ کی تربیت ہی حکم کی پیروی کرنے کی ہوتی ہے، اس لئے وہ دوسروں سے بھی یہی امید رکھتی ہے۔ جس طرح کسی زمانے میں الطاف بھائی کا طوطی بولتا تھا، اور جو بھائی نے کہہ دیا تو کہہ دیا بھلے سورج کو مغرب سے ہی کیوں نہ نکلنا پڑے۔ بس کچھ ایسا ہی ہمارے سیاسی منظر نامے میں گذشتہ دو سالوں میں ہوا۔ بھائی نے کہہ دیا تو کہہ دیا۔ چاہے اس کی پیروی میں کشتوں کے پشتے کیوں نہ لگانے پڑ جائیں۔
باقی ساری باتیں تو مثبت اپروچ سے سمجھ آ گئی ہیں۔ لیکن کچھ سوال پھر بھی سر اٹھاتے ہیں۔ مثلاً اسٹیبلشمنٹ کی حب الوطنی کسی بھی شک و شبے سے بالاتر ہے۔ لیکن کیا اس کا یہ مطلب لیا جا سکتا ہے کہ باقی سب غدار ہیں؟
ویسے تو ہم اسٹیبلشمنٹ کو کافی ذہین و فطین تصور کرتے ہیں، لیکن پتہ نہیں کیوں ایسا ہوتا ہے کہ اپنے کسی بھی فیصلے کے نتیجے میں پیدا ہونے والے عدم توازن کو درست کرنے کے لئے اسے مجبوراً کچھ اور غلطیاں کرنی پڑ جاتی ہیں۔ جیسے کچھ لوگ مونچھوں کی طرفین کو برابر کرنے کی کوشش میں مونچھیں ہی صاف کر بیٹھتے ہیں۔ مثال کے طور پر ذوالفقار علی بھٹو کو پھانسی دی، تو ازالے کے طور پر صدر ضیا کے بعد سندھ سے نگران وزیر اعظم لینا پڑ گیا بلکہ اس سے پوری باری کا وعدہ بھی کیا گیا۔
بھٹو کو ایک اور باری نہیں لینے دی، لیکن پیپلز پارٹی کو چار باریاں دینی پڑ گئیں اور ذوالفقار علی بھٹو کے بدلے میں ہمیں آصف زرداری بھگتنا پڑا۔ سندھ میں متبادل سیاسی قوت کی ضرورت ہوئی تو ایم کیو ایم کو کھڑا کیا اور پھر ایم کیو ایم کا گند صاف کرنے کے لئے کراچی میں کتنے ہی آپریشن کرنے پڑے۔ اب یہ حال کہ جراحی کرتے کرتے کراچی کا چہرہ ہی مسخ ہو چکا ہے۔ پنجاب میں نواز شریف کو کھڑا کیا پھر اسی نواز شریف کو سبق سکھانے کے لئے اور اپنی غلطیوں کے ازالے کے لئے عمران خان کو لانا پڑا۔ بلوچ علیحگی پسندوں کو کچلتے کچلتے اکبر بگٹی ایسے محب وطن کو مار بیٹھے اور پھر بلوچوں کی ناراضی دور کرنے کے لئے کتنے پاپڑ بیلنے پڑے۔
مار دھاڑ، حکمت عملی اور آپ کی شجاعت اپنی جگہ مسلم ہے۔ لیکن ایک چیز ہوتی ہے ارتقا۔ اور جو تبدیلی ارتقائی عمل کے نتیجے میں آتی ہے شاید وہی دیرپا ہوتی ہے۔ کاش وطنِ عزیز ایک نئے عمرانی معاہدے کا متحمل ہو سکے کہ جس میں سب بیٹھ کر ایک بار فیصلہ کر لیں اور اپنے اپنے کردار کا تعین کر لیں اور پھر قدرتی ارتقا کے نتیجے میں ملک آگے بڑھے۔ کیا خیال ہے میری پیاری اسٹیبلشمنٹ؟
۔


