جرمنی میں مساجد پر ٹیکس کا مسئلہ


جرمنی میں کلیساؤں پر ٹیکس عائد کیا جاتا ہے جو با عمل پروٹیسٹنٹ اور کیتھولک پیروکاروں سے وصول کر کے حکومت کلیساؤں یا مذہبی اداروں کوان کے اخراجات کی ادائیگی کے لئے دے دیتی ہے۔ ایسا اس لئے کیا جا تا ہے کہ کلیساؤں کو باہر کے ممالک سے عطیات لینے والے پر مجبور نہ ہونا پڑے۔ یہ چرچ ٹیکسKirchensteuer یورپ کے دیگر ممالک آسٹریا، سویڈن، اٹلی میں بھی کلیساؤں کے انتظام و انصرام کے لئے لیا جاتا ہے۔ تمام کلیساؤں کی ستر فی صد آمدن ایسے ٹیکس سے ہوتی جو کہ 2010 میں قریب نو بلین یورو تھی۔

جب جر من شہری اپنا انکم ٹیکس فائل کر تے تو اس وقت وہ ایک ٹیکس فارم Lohnsteuerkarte اپنے ایمپلائر کو دے دیتے ہیں۔ اگر کوئی شہری اپنا مذہب کیتھولک لکھتا ہے تو حکومت سالانہ تنخواہ کا نو فی صد ٹیکس کاٹ لیتی جو وہ اس کے چرچ کو ادا کر دیتی ہے۔ یہی قانون پروٹسٹینٹ اور یہودیوں پر لاگو ہوتا ہے۔ چرچ کے حکا م کا کہنا ہے کہ یہ ٹیکس ان کی بقا کے لئے نہایت ضروری ہے تاکہ وہ شادی بیاہ، تدفین، چرچ سکولز، اور بچوں کے ڈے کئیر جیسے روز مرہ معاملات میں شہریوں کی مدد کر سکیں۔ بعض صورتوں میں ایسا بھی ہوتا ہے کہ مذہبی ادارے چرچ ٹیکس خود وصول کر لیتے ہیں جیسا کہ برلن کی یہودی کمیونٹی ایسا ٹیکس خود ہی وصول کر لیتی ہے۔ جرمنی میں پا کستان کی بعض مذہبی تنظیموں کے پیروکار بھی رضاکارانہ طور پر چندہ دیتے ہیں۔

اگر کوئی شخص ایسا ٹیکس نہیں دینا چا ہتا تو وہ ایک فارم بھر کر ٹاؤن ہال Rathaus/Bürgeramt کو دے دیتا ہے جس کی فیس پندرہ یورو ہے۔ دیکھنے میں آیا ہے کہ بعض لوگ ٹیکس بچانے کے لئے چرچ سے علیحدگی کا اعلان سرکاری طور پر کر دیتے مگر وہ اپنے مذہب یا عقیدے میں عملی طور پر حصہ لیتے رہتے ہیں۔ ایک اندازے کے مطابق 2014 میں دو لاکھ پروٹیسٹنٹ نے اس ٹیکس سے بچنے کے لئے اپنے مذہب سے علیحدگی اختیار کی، اور اتنی ہی تعداد میں کیتھولک ایسا کر چکے تھے۔

ماضی میں یہ صورت حال نوجوانوں میں دیکھنے میں آئی تھی مگر اب ایسے لوگ جو پینشن یافتہ ہیں وہ بھی بڑھاپے کی سیونگز کو بچانے کے لئے اپنے مسالک سے قانونی طور پر علیحدہ ہو رہے ہیں۔ جرمنی میں 2011 کی مردم شماری کے مطابق 24.3 ملین پروٹیسٹنٹ اور 24.7 ملین کیتھولک تھے۔ اس وقت جرمنی کی کل آبادی 83 ملین ہے۔

لیکن مساجد پر ایسا ٹیکس ابھی تک لاگو نہیں ہؤا جس کی وجہ سے مساجد کو غیر ممالک کے عطیات پر انحصار کرنا پڑتا ہے۔ اب جرمنی میں حکومت اس تجویز پر غور کر رہی ہے کہ ایسا ٹیکس آیا مسا جد پر بھی لاگو کر دیا جائے۔ اس کا بڑا مقصد یہ ہے کہ ملک میں عرب ممالک کے اثر و رسوخ کو کم کیا جائے خاص طور پر سعودی عرب، کویت، قطر اور ترکی۔ جرمنی کے لبرل اور پروگریسو مسلمانوں نے اس تجویز کو سراہا ہے۔ مقصد یہ ہے کہ ملک کے اندر جرمن اسلام کو ترویج دی جائے۔ اور سلفی یا وہابی آئیڈیالوجی کے منفی اثرات کو زائل کیا جائے۔

انٹیلی جینس ایجنسیز نے 2016 میں جاری ہونے والی ایک رپورٹ کا حوالہ دیا ہے جس میں کہا گیا تھا کہ سعودی عرب، کویت اور قطر اپنے ممالک سے مبلغین کو جرمنی بھیجتے ہیں بلکہ بعض مساجد اور مدرسوں کووہ مالی امداد فراہم کرتے ہیں تا ہر مسجد پر ان کو کنٹرول قائم رہے۔ کہا جاتا ہے کہ ترکی کا بھی جرمنی میں اثر و نفوذ بہت زیادہ ہے جیسا کہ دیکھا گیا کہ ترکی کے صدر اردگان نے گز شتہ سال ایک عظیم الشان، مہنگی ترین جامع مسجد کا کولون شہر میں افتتاح کیا تھا۔

مسجد ٹیکس کی غیر موجودگی میں مساجد کو مقامی چندوں کے علاوہ غیر ملکی عطیات پرانحصار کرنا پڑتا ہے۔ جب ایسا ہوتا تو باہر سے آنے والے پیسے کے ساتھ شرائط ہوتیں جس کی وجہ سے مساجد کے امام اور لیڈر شپ غیر ملکی انفلو ئینس کے زیر آ جاتے اور دینے والے ممالک کی حمایت کرتے جو شدت پسندی اور سلافی آئیڈ یالوجی کی طرف مائل ہوتی ہے۔ مثلاً جرمنی کے اندر ایک تنظیم ترکش اسلامک یونین فار ریلجس افئیرز (DITIB) کی مداخلت دیکھنے میں آئی ہے جو کہ ترک حکومت کا ادارہ ہے۔

DITIBجوکہ جرمنی میں سب سے بڑی مذہبی تنظیم ہے اس کی مساجد میں تمام امام ترک ہوتے اور وہ زیادہ تر ترک حکومت کے حامی اور اس کا نقطہ نظر لوگوں کو بتاتے ہیں۔ اس یونین کی بنیاد 1984 میں ترکی کی ریلجس افئیرز کے شعبہ (دیانت) کی برانچ کے طور پر رکھی گئی تھی۔ یہ جرمنی میں 900 مساجد کو فنڈز مہیا کرتی، اس کی ممبر شپ ایک ملین کے قریب ہے۔

سرکاری اعداد و شمار کے مطابق جرمنی میں اس وقت 4.7 ملین مسلمان آباد ہیں جس میں سے تین ملین کا حسب و نسب ترکش ہے۔ مگر اس میں بہت سے مسلمان ایسے ہیں جو روایتی طور پر مسلمان ہیں جبکہ باعمل مسلمانوں کی تعداد اس سے بہت کم ہے۔ اس لئے ایسا ٹیکس لگایا بھی جائے تو اس کا اثر اگرچہ مجموعی آبادی کی نسبت کم افراد پر ہوگا مگر ممکن ہے کئی ایسے نوجوان شدت پسندی سے بچ جائیں جن پر سلافی اور وہابی آئیڈیالوجی کا اثر ہو سکتا، یا ان کو برین واش کیا جا سکتا تھا۔

برلن کی پروگریسو اور لبرل مسجد کی فاؤنڈر وکیل اور سکالر Ms۔ Seyran Ates نے مساجد پر ٹیکس کے حق میں آواز اٹھائی ہے۔ اس کا کہنا ہے کہ جرمنی میں مسلمانوں پر غیر ممالک کا اثر و رسوخ بہت زیادہ ہے۔ وقت آگیا ہے کہ جرمن مسلمان اٹھ کھڑے ہوں، ان کو چاہیے کہ جرمنی میں اسلام کی حفاظت کے وہ خود ذمہ دارہوں۔ ، مقصد یہ کہ مسلمانوں پر غیر ممالک کے اثر کو ختم کر دیا جائے۔

بعض دانشوروں کی رائے میں ایسا ٹیکس جرمنی میں خود مختار اسلام کے پنپنے میں مدد دے گا۔ مغربی ممالک میں چرچ اور سٹیٹ کے الگ الگ ہونے کا بہت دعویٰ کیا جاتا ہے مگر بعض صورتوں میں سٹیٹ کو مذہبی امور میں مداخلت کرنی ذاتی بقا کے لئے لازمی ہوجاتی ہے۔ ایسا ٹیکس کیا ایک آنے والی نسل کو سلافی یا وہابی برین واشنگ سے محفوظ رکھ سکے گا تو یہ تو آنے والا وقت ہی بتائے گا۔