یہ بات 8 مئی 1886 کی ہے۔ امریکہ کی سول وار کو ختم ہوئے 21 سال گزر چکے تھے۔ امریکہ کی ریاست جارجیا کے دارالحکومت اٹلا نٹا میں ایک فارما سسٹ جان پیم برٹن Pemberton اپنے گھر کے عقب میں چند تجربات میں مصروف تھا۔ اس نے ایک بڑی کیتلی میں ایک مکسچر ڈالا ہوا تھا جس کو وہ کشتی کے چپو سے گھمارہا تھا۔ جب وہ تجربہ ختم کرچکا تو وہ اس وقت سردرد ختم کرنے، تھکاوٹ رفع کرنے اور اعصاب کو آرام دینے کی دوا تیار کر چکا تھا۔
پیم برٹن اس نئی نئی تیار کردہ دوائی کو جب مقامی فارمیسی میں فروخت کرنے کے لئے گیا تو اس نے جانے سے قبل اپنے نائب کو ہدایت کی کہ وہ اس شربت کو پانی میں ملا کر ٹھنڈا کرلے۔ اس کے واپس آنے کے بعد دونوں نے اس کو پیا تو واقعی یہ مزیدار تھا مگر اس کے نائب نے جب دوسرا گلاس پینے کے لئے تیار کیا تو غلطی سے اس نے شربت میں کاربونیٹڈ واٹر ڈال دیا۔ اب دونوں نے ارادہ کیا کہ وہ اس مشروب کو سافٹ ڈرنک کے طور پر فروخت کریں گے۔
Read more