خاک جن کی دفن ہے دریائے کنچن کے تلے!


شہدائے مشرقی پاکستان کے نام۔

سانحہ سقوط مشرقی پاکستان کو 47 سال بیت گئے۔ اس واقعے پر پاکستان کا موقف کچھ اور ہے بنگلہ دیش کا کچھ اور۔ بھارت کا الگ ہی موقف ہے مگر 1971 ء کے انتخابات، ہنگامے، قتل عام اور پھر جنگ اور ملک سے علیحدگی حقیقی واقعات تھے۔ ایسے واقعات جن میں حقیقی انسانوں کو بے گھر ہونا پڑا تھا، ایسے واقعات جن میں حقیقی انسانوں کا سب کچھ لٹا تھا مگر سانحہ سقوط مشرقی پاکستان کو کبھی موجودہ پاکستان میں سنجیدگی سے نہیں لیا گیا۔

ہمارے وطن میں تاریخ کو ہمیشہ ایک مذاق سمجھا گیا ہے۔ ہر مرتبہ تاریخ کو بھلا دینے کی سعی کی جاتی ہے۔ ہر سانحہ ایک راز بن کر رہ جاتا ہے۔ کوئی کبھی تعین ہی نہیں کر پاتا کہ یہ سانحہ کیوں پیش آیا تھا؟ پھر کسی بھی سانحے کو یاد کرنے والے صرف و محض وہ لوگ ہیں کہ جن کے اپنے اس سانحے سے متاثر ہوئے۔ جن کے پیارے اس میں مارے گئے، بے گھر ہوئے۔ یہ کیسا معاشرہ ہے کہ جہاں پر کوئی بھی شخص دوسرے کے دکھ کو سمجھ ہی نہیں سکتا۔ محض اس لئے کہ وہ اس کے گروہ کا، اس کی قومیت یا مسلک کا معاملہ نہیں، اس کی زبان بولنے والوں کا مسئلہ نہیں۔

راقم الحروف 2012 ء سے 2016 ء تک ایک خوجہ برادری کے ٹرسٹ میں ملازم تھا۔ وہاں ایک بزرگ والنٹیئر تھے۔ وہ بڑے کاروباری تھے او راپنا اتوار کا دن وہاں غرباء کی خدمت میں صرف کرتے۔ وہ وہاں موجود دیگر والنٹیئرز کی طرح گجراتی زبان بولنا نہ جانتے تھے حالانکہ وہ گجراتی تھے وہ اردو لکھنا پڑھنا بھی نہیں جانتے تھے۔ وہاں پر کئی افراد ان کامذاق اڑایا کرتے تھے۔ ایک روز راقم نے وجہ دریافت کی کہ بڑے میاں سے یہ رویہ کیوں حالانکہ وہ اس قدر اپنی کمیونٹی کی خدمات کر رہے ہیں۔ ایک صاحب نے تمسخر سے کہا کہ ”بڈھا سٹھیا گیا ہے، بنگالی ہے“۔ راقم سمجھا نہیں۔

ایک روز موقع نکال کر ان کے ساتھ بیٹھا تو معلوم ہوا کہ وہ ان گجراتیوں میں شامل تھے جن کے والدین کے سابق مشرقی پاکستان میں بڑے بڑے کارخانے تھے۔ 1971 ء میں وہ جوان تھے، جب فساد ہوا تو وہ اپنے اہل خانہ کے ہمراہ سب کچھ لٹوا کر یہاں کراچی آئے۔ کچھ عرصے میں جب حالات بہتر ہو گئے تو وہ دوبارہ بنگلہ دیش دیکھنے گئے اور وہاں پر ایک امام بارگاہ بھی قائم کی۔

راقم نے ان سے 1971 ء کے واقعات دریافت کیے تو انہوں نے راقم کو حیرت سے دیکھا۔ انہوں نے کہا کہ ”بیٹا ہم لوگوں کا دکھ درد کوئی سننا نہیں چاہتا۔ یہاں تو لوگ صرف مذاق اڑاتے ہیں، پاگل کہتے ہیں“۔ پھر بتانے لگے کہ ”بیٹا وہ اتنا خوفناک وقت تھا کہ جس کا اندازہ بھی تمہارے لئے مشکل ہو گا۔ میں نوجوان تھا تو اپنے پیروں پر کھڑا ہونا چاہتا تھا۔ میں نے ڈھاکہ میں ایک بیمہ کمپنی میں نوکری کر لی تھی۔ میں بڑی صاف بنگالی بولتا تھا اور عام طور پر بنگالی یہ پہچان نہ پاتے تھے کہ میں گجراتی ہوں۔

میں ایک روز ڈھاکہ میں ایک مقام سے گزر رہا تھا تو دیکھا کہ عوام نے چند افراد کو گھیرا ہوا ہے اور بڑی بہیمیت سے انہیں پیٹ رہے ہیں۔ میں نے ارد گرد لوگوں سے پوچھا کہ یہ کون ہیں اور انہیں کیوں مارا جا رہا ہے؟ جواب ملا کہ یہ بہاری ہیں اور اب ہم ہر بہاری کو مار ڈالیں گے۔ بنگالی ہر غیر بنگالی کو ہی بہاری کہتے تھے۔ میں نے وہاں سے بھاگ جانے میں ہی عافیت جانی کہ کوئی یہ نہ پہچان لے کہ میں بنگالی نہیں ہوں۔ ”

پھر وہ ایسے کئی واقعات سناتے رہے، ان کی آنکھوں میں بڑا درد امنڈ آیا۔ یہ صاحب قائد اعظم کے رشتے دار ہیں، اس قائد اعظم کے رشتے دار کو بھی مشرقی پاکستان سے مغربی پاکستان ہجرت کرنی پڑی۔ مگر سوال یہ ہے کہ اس دن، آج سے 47 سال قبل انہوں نے جن افراد کو عوام کے ہاتھوں ڈھاکہ کی سڑک پر مرتے دیکھا تھا کیا وہ شہید نہ تھے؟ کیا وہ پاکستان کے شہید نہ تھے؟ ان کی یادگار کہاں ہے؟ ان کا دن کب منایا جائے گا؟

شرمیلا بوس نے اپنی کتاب Dead Reckoning میں ایسے ان گنت واقعات تمام حوالوں سے درج کیے ہیں۔ انہوں نے لکھا ہے کہ جب سنتاہار میں پاکستانی افواج داخل ہوئیں تو معلوم ہوا کہ اس شہر کی تمام ہی غیر بنگالی آبادی کا قتل عام ہو چکا۔ ہر جگہ انسانی لاشوں سے اٹی پڑی تھی مگر بوس کے مطابق سب سے خوفناک منظر ایک کمرے میں فوجیوں کو ملا۔

کمرے کا دروازے کسی طرح کھل نہ رہا تھا۔ جب بڑی مشکل سے دروازہ کھلا تو اندر کم سن بچوں کی سڑی ہوئی لاشیں ڈھیر تھیں۔ ان تمام ہی بچوں کو بڑی بے دردی سے مارا گیا تھا، ان کو پاؤں سے پکڑ کر سر دیوار پر مارے گئے تھے۔ یہ کریہہ منظر دیکھ کر فوجی ششدر رہ گئے، ایسی بہیمیت انہوں نے کبھی نہ دکھی تھی، کہیں نہ دیکھی تھی۔

بنگال کے دریا، بنگال کے میدان، بنگال کے تالاب غیر بنگالیوں کی لاشوں سے پٹ گئے۔ ان تمام پاکستانیوں کی یادگاریں کہاں ہیں؟ سنتاہار کے یہ بچے کیا انسان کے بچے نہیں تھے؟ کیا مسلمان نہ تھے؟ کیا پاکستانی نہ تھے؟ ان لوگوں کی جانیں کیا رائیگاں گئیں؟ کوئی یاد نہیں، کوئی جواب نہیں، کوئی معنی نہیں؟ کوئی تفسیر نہیں؟

آئیں ہم ان آیتوں کی آج تفسیریں لکھیں
خاک جن کی دفن ہے دریائے کنچن کے تلے
(شاہین)

Facebook Comments HS