قطر میں وزیراعظم کے دورے میں کیا ہوا؟ افغان مسئلے پر پیش رفت
مُلا برادرز کی افغان طالبان کے قطر کی سیاسی شعبے کے سربراہ کے طور پر تعیناتی ایک ایسی خبر ہے کہ جس سے یہ واضح ہو رہا ہے کہ افغانستان میں ایک نیا منظر نامہ تشکیل دیے جانے کی غرض سے کوششیں برق رفتاری سے جاری ہیں۔ زبانی کلامی گفتگو کو ایک طرف کرتے ہوئے یہ دیکھنا ضروری ہے کہ موجودہ حکومت اس سلسلے میں کیا تیاریاں جاری ہیں اور وہ ان حالات میں پاکستان کے مفادات کا تحفظ کرنے کی غرض سے کس حد تک صلاحیتوں کو اپنے اندر پاتے ہیں اس کو سمجھنے کی غرض سے حکومت کی گزشتہ پانچ ماہ کی کارکردگی اور بالخصوص حالیہ ترکی، امارات اور قطر کے دوروں میں صلاحیت اور سنجیدگی کے عنصر کو پر کھا جا سکتا ہے۔ جو بدقسمتی سے سرے سے موجود نہیں ہے۔
متحدہ عرب امارات میں ایک برادر اسلامی ملک کے صدر کے حوالے سے غیر ذمہ دارانہ گفتگو اس حقیقت کو واضح کرتی ہے کہ نا پختہ کاری سے عمران خان کو بہت قربت کا رشتہ ہے جس کو وہ نبھا بھی رہے ہیں۔ اسی طرح قطر میں بھی وہ معاملات کو حل کرنے میں کامیاب نہ ہو سکے بلکہ بیان کرنے والے تو یہ بھی بیان کر رہے ہیں کہ ان سے سوال کیا گیا کہ آپ ہمیں پاکستان کی عدالتوں میں کیوں بلانا چاہتے تھے اور ہماری تحریر پر اُدھر کیوں بھروسا نہیں کیا گیا تیاری موجود نہیں تھی لہذا جواب نہ کوئی بن پڑا۔
ویسے قطر کے معاملے میں خیال رکھنا چاہیے کہ پاکستان میں ان کے موجودہ سفیر پاکستان کے حوالے سے بہت مثبت شخصیت ہیں معاملات مزید بہتر ہو سکتے ہیں اگر ذمہ داری کا احساس کیا جائے سنجیدگی برتی جائے۔ ذمہ داری کے احساس کی بات اور سنجیدگی ملا برادر کی تعیناتی سے شروع ہوئی تھی۔ خبروں کے مطابق ملا برادر افغان طالبان کے امیر کے نائبین میں بھی شمار ہوں گے ملا برادر گزشتہ اکتوبر میں پاکستان سے رہا ہوئے۔ وہ آٹھ سال تک پاکستان میں زیر حراست رہے
ان کی تازہ تعیناتی نے اس تصور کو بھی چکنا چور کر دیا کہ افغان طالبان زیر حراست رہنے والے اپنے راہنماؤں پر اعتماد نہیں کرتے۔ ان کی رہائی کے بعد نومبر میں ذلمے خلیل ذاد کے دورے کے موقعے پر مزید افغان طالبان کے رہنماؤں کی رہائی کی خبریں سامنے آتی رہیں کہ جن کے متعلق اس سے قبل امریکی انتظامیہ صریحاً دہشتگرد ہونے کے الزامات عائد کرتی رہی تھی۔ ان حالات مین قطر میں جاری امریکہ طالبان مذاکرات میں کسی پیش رفت کا امکان بہرحال رد نہیں کیا جا سکتا اور اگر ایسا واقعہ پیش آجاتا ہے تو ایسی صورت میں افغانستان میں اور اس سے متعلقہ ممالک میں اس کے اثرات ضرور غیر معمولی طور پر وقوع پذیر ہوں اس میں اب کوئی دو رائے قائم نہیں کی جا سکتیں۔
امریکہ افغانستان میں جاری اپنے اخراجات سے جان چھڑانا چاہتا ہے وہ وہاں پر ایک ٹریلین ڈالر کی رقم خرچ کر چکا ہے اور اب ان بھاری اخراجات کو اپنے لیے مکمل طور پر غیر ضروری تصور کر تا ہے۔ دوئم امریکہ کی بیان کردہ پالیسی چاہے کچھ بھی ہو لیکن یہ تصور کرنا کہ وہ افغانستان میں حقیقی معنوں میں امن قائم کرنے میں دل چسپی رکھتا ہے درست طور پر معاملہ فہمی نہیں ہو گی۔ وہ اپنے مقاصد حاصل کرنے قریب پہنچ چکا ہے اب اپنی مزید دولت جھونکنے کو خیر آباد کہنا چاہتا ہے اور کامیابی کا اعلان کرنے کے واسطے چاہتا ہے کہ یہ طے ہو جائے کہ افغانستان کی سر زمین سے کوئی اقدام اب امریکہ کے خلاف نہیں ہو گا۔
افغان طالبان کی جانب سے مذاکرات کی بنیادی شرط یہ ہے کہ امریکی افواج افغانستان سے نکل جائے اور اب امریکہ کے اپنے مفاد میں بھی یہ ہے کہ وہ اب رخصت ہو جائے۔ وہ اسی پر مذاکرات کر رہا ہے کہ اس کی افواج کی واپسی کے وقت افغان طالبان عارضی جنگ بندی کر دیں تاکہ وہ باآسانی واپسی کا سفر اختیار کر سکے اور اس بات کی ضمانت دی جائے کہ افغانستان سے امریکہ اور اس کے اتحادیوں پر کوئی حملہ نہیں ہوگا۔
اس میں یہ معاملہ کے امریکہ افغان طالبان سے عارضی جنگ بندی پر مذاکرات کر رہا ہے بہت معنی خیز ہے۔ جیسے سابقہ سوویت یونین جنیوا معاہدے کے طور پر اپنی ساری فوجی طاقت کو بحفاظت واپس لے کر جانے میں کامیاب ہو گیا تھا مگر اس کے بعد افغانستان میں کوئی کسی کی حفاظت نہ ہے بیان کرنے کا مقصد یہ ہے کہ اگر افغان طالبان سے کوئی معاہدہ ہو جاتا ہے۔ اگر یہ معاہدہ صرف افغان طالبان اور امریکہ کے مفادات کی حد تک رہا تو افغانستان میں نئی بربریت کا دوردورہ یقینی امر ہو گا۔
پہلے بھی انہی کالموں میں عرض کیا تھا کہ داعش کو ایک منصوبہ بندی کے ذریعے افغانستان میں مربوط کیا جارہا ہے تاکہ بعد میں افغان طالبان کو اور دیگر کو سبق سکھایا جا سکے۔ ان مذاکرات سے بھارت کو باہر رکھا گیا ہے لیکن یہ حقیقت روز روشن کی مانند عیاں ہے کہ بھارت افغانستان میں اپنے قدم رکھ چکا ہے۔ پاکستان میں افغانستان کی سرزمین سے ہونے والی دہشت گردی کے پیچھے بھی بھارت کا ہی ذہن اور وسائل کار فرما ہیں۔ بھارت یقیناً امریکہ کو تو نقصان نہیں پہنچا سکتا اور نہ ہی پہنچانا چاہے گا مگر وہ پاکستان کے لیے تکلیف دہ حالات کو افغانستان سے جاری رکھنا چاہے گا۔ اس لئے ضروری ہے کہ ایسا کوئی بھی معاہدہ ان تمام امور کے حل کے ہمراہ ہو۔ پاکستان کو بھی اپنا اثرورسوخ اس وقت تک استعمال نہیں کرنا چاہیے جب تک اسے اپنے مفادات کے تحفظ کی ضمانت میسر نہ ہو لیکن یہ ضمانت کون دے گا؟ جتنی غیر ذمہ داری کے ساتھ حکومتی معاملات چلائے جارہے ہیں اس کے بعد افغانستان کے حوالے سے کسی ذمہ دار رویے کی توقع کرنا دیوانہ کا خواب ہی ہو گا۔
لیکن اس کا یہ بھی مطلب نہیں کہ اگر پاکستان کی موجودہ سیاسی حکومت اس قابل نہیں تو صرف بیٹھ کر منہ دیکھا جائے کیونکہ ان کی ناکامی دراصل ان کو اس مقام پر لا بٹھانے والوں کی ناکامی تصور ہو گی اس لیے ان کی ذمہ داری سب سے زیادہ بڑھ جاتی ہے کہ وہ تمام معاملات کو ذہن میں رکھتے ہوئے فریقین کے درمیان کوئی ایسا معاہدہ کروانے میں کامیاب ہو جائیں جو قابل عمل ہو ورنہ کوئی عمل کسی کو کسی قابل نہیں چھوڑے گا۔


