کیا ہمارے پاس صرف دو پاکستانی ہیرو ہیں؟
جی جناب بہتر سال میں پاکستانی قوم بس دو ہیرو ہی پیدا کر سکی اور اپنے بچوں کو نصاب کے ذریعے روشناس کروا سکی۔ علامہ اقبال، قائدِاعظم اور تیسرا نام شخصیت تلاش کرنا گویا مسئلہ کشمیر ہے۔ ایسا کیوں ہے کیا یہ قوم اتنی ہی بے نمو ہو چکی ہے کہ اس کی نسلیں اپاہج سوچ زدہ دماغ ہی پیدا کر رہی ہے۔
جب میں نے اس نکتے پے سوچا تو میرا جواب نہ میں آیا ایسا بالکل بھی نہیں ہے، اس قوم میں وقت کے ساتھ ساتھ ایسے سپوت بھی پیدا ہوے ہیں جو اِس دھرتی کا مان ہیں۔ جنھوں نے خونِ دل دے کے رخِ برگِ گلاب کو نکھارا ہے۔ میں جب اِس نہج پر سوچتا ہوں تو میرے آنکھوں کے آگے عبدالستار ایدھی کا باریش پرنور چہرہ گھوم جاتا ہے ایدھی صاحب کا مشفقانہ انداز اور حلیم مسکراتا ہوا چہرہ یہ سوچنے پر مجبور کرتا ہے کہ دیکھو میں نے خود کا نہیں انسانیت کا بھلا سوچا، میں نے بے کسوں یتیموں، ناداروں اور بے ناموں کو نام دیا ہے۔ میں نے روٹی کے نوالے حق داروں کے منہ میں اپنے ہاتھوں سے ڈالے ہیں، اپنی زندگی کا چین سکون غارت کر کے اوروں کو چھت مہیا کی ہے۔ کیا میں اِس قابل نہیں ہوں کہ نصابِ تعلیم میں میرے نام کا ایک باب ہی چھپ جائے۔
پھر میری آنکھیں دور کراچی میں کوڑھ کے مریضوں کی بستی میں روئی کے گالے جیسی مہربان ہستی مادام رتھ فاؤ کو دیکھتی ہیں جنھوں نے قوم، رنگ، نسل اورمذہب کو بنیاد بنائے بغیر جذام کے مریضوں کے گندے زخم اپنے مسیحا ہاتھوں سے صاف کیے، اپنا گھر ملک اور عیش و آرام چھوڑ کر ایک بے نام بستی میں بسیرا کیا اور اُن کی مسیحائی کی جنھیں ان کے گھر والوں نے بھی مارے حقارت کے علیحدہ کر دیا۔ کیا مادا م کی خدمات اس قابل نہیں ہیں کہ انھیں رول ماڈل بناکر بچوں کو پڑھایا جائے؟
ہیروز کا تعارف اُن پر لکھے مضامین اسی ضمن میں ہوتے ہیں کہ آنے والی نسل ان کے اعمال و افکار سے متاثر ہو کر انھیں آئیڈیلاز کریں تو کیا اخلاقیات کی کوئی ویلیو نہیں ہے یاصرف ماضی کی گزری ہوئی شخصیات کی شخصیت پرستی ہی ضروری ہے؟
میں نے تو اپنے طور پر مادام رتھ فاؤ کو خراجِ تحسین پیش کرنے کے لیے اپنی پہلی بیٹی کا نام رتھ فاؤ رکھ کر اپنے حصے کی شمع جلائی ہے، حالانکہ مجھے دوست احباب اور رشتے داروں کی طرف سے شدید تنقید کا سامنا بھی کرنا پڑا ہے کہ نام اسلامی نہیں ہے، میرے نزدیک مذہب رنگ نسل سے بڑھ کر انسانیت ہے اور ہیروزکا تعلق بھی انسانیت سے جوڑنا چاہیے ناکہ شخصیت پرستی سے۔ لیکن اس سے ہٹ کر بھی یہ چیز دلچسپ ہے کہ اعتراض کرنے والوں کو یہ علم ہی نہیں ہے کہ نام رتھ کہاں سے آیا ہے۔
یہ نام انجیل مقدس میں موجود ہے۔ رتھ حضرت داؤد کی پڑدادی تھیں اور حضرت عیسی کے شجرے میں ان کا نام لکھا جاتا ہے۔ بحیثیت مسلمان ہم پر لازم ہے کہ تمام الہامی کتابوں کو مانیں۔ اسلام کے نزول سے پہلے حضرت موسیؑ اور پھر حضرت عیسیؑ پر ایمان لانے والے ہی مسلمان کہلاتے تھے۔ اگر بائبل میں موجود مقدس ہستیوں کے نام پر مسلمان بچوں کے رکھنا غلط ہے تو پھر دانیال نام رکھنا بھی غلط ہو گا۔ حضرت دانیالؑ کا ذکر بائبل میں تو ہے مگر قرآن مجید میں نہیں ہے۔
اس لیے ضرورت اس امر کی ہے کہ اس سوچ کو بدلا جائے جدت، اور جامد نظریات میں بہت فرق ہے۔ معاشرہ ارتقاء پزیر ہے ہر پل ہر لمحہ ارتقائی عمل وقوع پزیر ہو رہا ہے۔ تو ہیروز بھی وقت کے ساتھ نصاب میں بدلتے رہنا چاہیں ناکہ جامد نظریات اور مردہ پرستی کو رواج دیا جائے۔



