وہ لڑکا جسے گھر میں پالی مرغیوں اور ان کے انڈوں نے تعلیم دلوائی
عمران خان نے انڈے مرغی کی بات کی تو اس کا مذاق اُڑایا گیا۔ انہوں نے ایک بار پھر بتایا کہ کس طرح گائے کا دودھ زیادہ حاصل کیا جا سکتا ہے۔ جسے ہم فروخت کر کے اپنا معیار زندگی بلند کر سکتے ہیں۔ ایک بار پھر انھیں سینگوں پر رکھ لیا گیا۔ پاکستانی معاشرہ بھی عجیب ہے۔ یہاں جو لوگوں کا معیار زندگی بلند کرنے اور انھیں غربت سے نکالنے کی کوشش کرے اس کے اقدام کو طنز کا نشانہ بنایا جاتا ہے اور جو غریبوں کا خون چوس کے آپنے اکاونٹ بھرے اس کی توصیف کی جاتی ہے۔
پاکستان کی آبادی کا ستر فیصد دیہاتوں میں رہائش پزیر ہے اور آبادی کا یہی حصہ غربت کی لکیر سے نیچے زندگی بسر کرنے پر مجبور ہے۔ مرغی اور انڈوں کی افادیت پوچھنی ہو تو گاؤں کے کسی مکین سے پوچھا جائے۔ یہی ان کی کل کائنات ہوتی ہے۔ اسی پر ان کی گزر بسر ہوتی ہے۔
میرا تعلق چونکہ دورافتادہ گاؤں سے ہے اور مجھ سے زیادہ بہتر ان کی افادیت کو کون جان سکتا ہے؟ عادل میرا کلاس فیلو تھا۔ اس کا باپ اپنے علاقے میں سیٹھ کہلاتا تھا۔ اللہ کا دیا سب کچھ تھا کہا جاتا ہے کہ وقت بدلتے دیر نہیں لگتی ایسا ہی کچھ ان کے ساتھ ہوا۔ وقت بدلا اور غربت نے ان کے گھر ڈیرے ڈال دیے۔ گھر کے مکینوں کا جسم و جاں کا رشتہ برقرار رکھنا مشکل ہو گیا۔
عادل پیوند لگا لباس پہن کر بھوکا سکول جاتا۔ اگر کہیں صبح کا ناشتہ ممکن ہو جاتا تو یہ پتہ نہ ہوتا کہ سکول سے واپس گھر جا کر کیا کھائیں گے۔ سکول میں گرمیوں کی چھٹیاں ہوتی تو عادل کا وہ عرصہ کسی ہوٹل میں ویٹری کرتے گزرتا۔ جیسے جیسے عادل سکول کے مدراج طے کرتا اگے بڑھ رہا تھا۔ اس کی مشکلات میں اضافہ ہو رہا تھا۔ ممکن تھا کہ عادل تعلیم کو خیرآباد کہہ کر کوئی چھوٹا موٹا کام کرتا تاکہ گھر کے افراد کا وہ پیٹ پال سکے۔ عادل کی والدہ کے پاس دنیاوی تعلیم بالکل نہیں ہے۔ مگر انھیں تعلیم کی اہمیت کا پتہ تھا۔ انہوں نے فیصلہ کیا کہ کسی بھی صورت عادل کی تعلیم کا سلسلہ منقطع نہیں ہونے دوں گی۔
انہوں نے گھر میں دیسی مرغیاں پالی اور ساتھ ایک بھینس بھی رکھی تاکہ انڈے اور دودھ فروخت کر کے گھر کا نظام چلایا جا سکے۔ انڈے اور مرغیاں فروخت کر کے ہر ماہ وہ سکول اپنی فیس دیتا۔ دسویں کے پیپرز بورڈ میں ہونا تھے اور بورڈ کی فیس سالانہ امتحان شروع ہونے سے دو ماہ قبل جمع کروانا ہوتی ہے۔ فیس کو منییج کرنا مشکل تھا۔ مگر عادل کی والدہ نے مرغیاں اور انڈے فروخت کر کے اپنے لخت جگر کی فیس جمع کروائی۔ اس طرح وہ سالانہ امتحان میں بیٹھ سکا۔
سیکنڈری اچھے نمبروں سے پاس کرنے کے بعد اس نے کالج میں داخلہ لیا۔ حالات تھوڑے سے اس لیے بدلے کہ عادل دن کو کالج جاتا اور شام کو ہوٹل پر ویٹری کرتا۔ اس نے اپنا تعلیمی سلسلہ جاری رکھا۔ انٹر کے بعد گرایجویشن پھر تعلیمی سلسلہ رک گیا۔ سرکار کی نوکری کرنا اسے پسند نہ تھا۔ وہ آزاد منش تھا۔ وہ معاشرے میں اپنا نام بنانا چاہتا تھا کہ لوگ اسے اس کے نام کی وجہ سے پہچانیں۔ وہ خاندان کی پہچان بنے نہ کہ خاندان کی وجہ سے وہ جانا جائے۔
گریجویشن اور پوسٹ گریجویشن میں پانچ سال کا وقفہ آیا۔ گھر کی کچھ ذمہ داریوں سے عہدہ برا ہونے کے لیے اس نے تعلیم کو وقتی طور خیراباد کہا۔ پوسٹ گریجویشن کے بعد اب وہ ایم فل کر رہا ہے۔ معاشرے میں اس کی جان پہچان بھی ہو گئی ہے۔ صاحب الرائے افراد کے ساتھ اس کی بیٹھک ہوتی ہے۔ کبھی کبھی کسی تقریب میں اسے اونچی گدی پر بھی بٹھایا جاتا ہے۔ اس کے کام کی تعریف بھی کی جاتی ہے۔ لیکن اس کا کہنا ہے کہ ”یہ میری منزل نہیں۔ بقول اقبال ستاروں سے اگے جہاں اور بھی ہیں۔ جہاں تک پہنچنا میرا ٹارگٹ ہے“۔
عادل کا کہنا ہے کہ یہ سب اللہ کے کرم کے بعد میری والدہ کی کوششوں کی وجہ سے ممکن ہوا۔ اگر وہ گھر میں مرغیاں نہ پالتی تو نہ میں تعلیم حاصل کر سکتا اور نہ آگے بڑھ سکتا مجھ سے زیادہ مرغیوں اور انڈوں کی افادیت کون جان سکتا ہے؟ گویا مرغیاں اور انڈے اس کی کامیابی کی بنیاد بنے۔
وزیراعظم عمران خان نے درست اقدام اٹھائے ہیں۔ اپوزیشن کو بھی اس کی تائید کرنی چاہیے نہ کہ مذاق۔ دیہات میں آج بھی لوگوں کی گزر بسر انہی پر ہوتی ہے۔


