اے ٹی ایم مشین، ضرار حیدر کی بٹوہ چوری اور قیامت کا دن


ستمبر دو ہزار نو کی بات ہے، رات کے گیارہ بج چکے تھے، مطیع اللہ اور میں لندن کے علاقہ ایسٹ ہیم (Eastham) کے مین بازار (High Street) میں بارکنگ روڈ کی طرف واقع ایک بینک کے سامنے سڑک کے دوسری طرف نصب بینچ پر بیٹھے باتوں میں مگن تھے کہ اچانک ایک شخص دوڑتا ہوا آیا اور بینک کے ساتھ ملحقہ اے ٹی مشین والے کمرے میں داخل ہو گیا، کافی دیر وہ اندر مشین سے ہاتھا پائی میں مصروف رہا اور پھر اسی تیزی سے باہر نکلا اور دوڑتا ہوا اندھیرے میں گم ہو گیا۔ ہم دونوں یہ سارا منظر دیکھ رہے تھے، مطیع اللہ نے مجھ سے سوال کیا، ”تمہارا کیا خیال ہے اس آدمی کے بارے میں، یہ کوئی چور تھا، وارداتیا تھا یا کسی مصیبت میں مبتلا تھا“؟

میں نے کہا، مطیع مُجھے نہیں معلوم کہ یہ شخص چور تھا، وارداتیا تھا یا مجبور تھا مگر اس سارے عمل کو دیکھ مجھ پر ایک حقیقت عیاں ہوئی ہے، وہ میں تمہیں بتاتا ہوں۔ ہم تھوڑی دیر کے لئے فرض کر لیتے ہیں کہ یہ بندہ وارداتیا تھا، یہ ادھر سے دوڑتا ہوا آیا، مشین کے ساتھ چھیڑ چھاڑ کی، دھوکے سے پیسے نکالے اور تیزی سے بھاگتا ہوا غائب ہو گیا۔ یہاں نہ پولیس موجود ہے، نہ کوئی بینک کا اپنا سیکیورٹی گارڈ موجود ہے، نہ ہی ہم لوگ اسے پہچانتے ہیں، اور بظاہر وہ بھاگ کر محفوظ بھی ہو گیا ہے مگر یہ پکڑا جائے گا، آج نہیں تو کل ضرور پکڑا جائے گا اور یہ خود اپنے خلاف گواہی دے گا، اس کا اپنا وجود اس کے خلاف زبان کھولے گا، ایک ایک عضو بولے گا اور یہ سزا پائے گا۔ مگر کیسے، مطیع نے حیرت سے میری طرف دیکھتے ہوئے سوال کیا۔

آو میں تمہیں دکھاتا اور سمجھاتا ہوں۔ اور پھر میں مطیع کو لے کر اس کمرے کی طرف چل دیا جہاں سڑک کے دوسری طرف اے ٹی ایم مشین نصب تھی۔ تمہیں اس مشین کے اوپر چھت کے دو کونوں میں سی سی ٹی وی کیمرے (Close Circuit Television Camera) دکھائی دے رہے ہیں، ان کیمروں نے اس آدمی کی ہر حرکت اپنے اندر محفوظ کر لی ہے کہ کیسے وہ شخص اندر داخل ہوا، کون سا پاؤں اُس نے پہلے اندر رکھا، جیب میں کون سا ہاتھ ڈالا، کمرے میں کہاں کہاں نظر دوڑائی، اس کے پاس کون کون سے اوزار یا ہتھیار (اگر اس نے استعمال کیے ہیں تو) تھے اور اس نے کتنی رقم نکالی، کس جیب میں کس ہاتھ سے ڈالی، کتنی دیر رکا، کس قدم پلٹا اور کس سمت روانہ ہوا، یہ ساری معلومات ان دونوں کیمروں نے اپنے اندر اپنی تمام تر باریکیوں سمیت محفوظ کر لی ہیں۔

صبح جب بینک کھلے گا اور واردات کا انکشاف ہوگا تو وہ لوگ اپنے کیمرے میں محفوظ فلم کو دیکھیں گے اور تمام تر تفصیلات اور پولیس کی مدد سے اس آدمی کو آج نہیں تو کل ضرور پکڑ لیں گے، وہ بندہ پھر لاکھ مکرتا رہے مگر کیمرے میں محفوظ ہاتھ، پاؤں، چہرہ، اوزار، ہتھیار، چال، لباس یعنی اس کی اپنی ہر چیز اس کے خلاف گواہی دے گی اور وہ سزا ضرور پائے گا۔ چند دن پہلے ضرار حیدر خان کی بٹوہ چوری کی ویڈیو دیکھی تو مطیع اللہ کے سامنے بیان کردہ میرا سارا تھیسز دوبارہ ذہن میں عُود کر آیا، کہ کیسے بٹوہ گم ہوا، بٹوہ چور بے فکر اور مطمئن تھا کہ کسی نے نہیں دیکھا، مگر چھت میں نصب کیمرے نے سارا بھانڈا پھوڑ دیا، کیمرے نے نہ صرف یہ بتا دیا کہ چور کون تھا بلکہ چور کے ہاتھوں نے گواہی دی کہ مجھے استعمال کیا گیا، پاؤں نے گواہی دی کہ ہم استعمال ہوئے، دماغ اور دل نے گواہی دی کہ ان ان سوچوں اور تاثرات کے ساتھ ہم استعمال ہوئے اور کس کس وقت کس کس لمحے استعمال ہوئے، اور پھر اس ویڈیو کی بنیاد پر ضرار حیدر خان کو معطل کر دیا گیا۔

آئیے تھوڑی دیر کے لئے اب مستقبل کی بات کرلیتے ہیں۔ فرض کریں یہ دنیا یہ زمین ایک کمرہ ہے جس میں اے ٹی ایم مشین نصب ہے اور آسمان اس کمرے کی چھت ہے جس پر خالق کائنات نے بہت طاقتور کیمرے نصب کر رکھے ہیں، سوچنے کی بات ہے کہ مخلوق کے بنائے کیمرے اتنے کمال ہیں تو خالق کے بنائے کیمروں کی کیا شان ہوگی۔ جب سے یہ کائنات بنی اس وقت سے لے کر آج تک اور آج سے لے کر قیامت تک اس زمین پر جنم لینے والے ہر انسان کی ایک ایک حرکت، ایک ایک عمل، ایک ایک نیکی اور ایک ایک برائی ان آسمانی کیمروں میں لمحہ بہ لمحہ اپنی تمام تر تفاصیل کے ساتھ محفوظ ہو رہی ہے۔ قیامت آ جاتی ہے اور میدانِ سزا و جزا لگ جاتا ہے، ہر انسان کے سامنے ایک اسکرین نصب کر دی جاتی ہے اور اس اسکرین کے ساتھ ایک یو ایس بی ڈرائیو لگا دی جاتی ہے جس میں اس انسان کی آغاز سے انجام تک کی پوری زندگی کی مکمل فلم موجود ہے۔

اب ہر انسان اپنے اپنے سامنے لگی اسکرین پر اپنی ہی زندگی کی فلم دیکھ رہا ہے، اور اپنے ہی سامنے بالکل ننگا ہو رہا ہے۔ اس کے اپنے اعضاء اس کے خلاف گواہی دے رہے ہیں، ان اعضاء کی زبان نہیں ہے مگر وہ بول رہے ہیں، پاؤں بول رہے ہیں کہ کتنی برائیوں کے لئے چل کر گئے، ہاتھ بول رہے ہیں کہ کیسے کیسے پاک دامنوں کو ناپاک کرتے رہے، زبان بول رہی ہے کہ کون کون سی شراب چکھی، کان بول رہے ہیں کہ کون کون سی لغویات سنیں، غرض ہر زنا، ہر چوری، ہر نماز، ہر صدقہ سامنے اسکرین پر چلتا جائے گا اور پھر فلم کے اختتام پر اسکرین کے دائیں کونے پر نیکیوں کی تعداد نمودار ہوگی جبکہ اسکرین کے بائیں کونے پر برائیوں کی تعداد نمودار پوگی اور پھر جو چیز تعداد میں کثیر ہوگی وہ جزا اور سزا کا فیصلہ کرے گی۔ یعنی داہنے ہاتھ والے کامیابی پائیں گے اور بائیں ہاتھ والے ناکام ٹھہریں گے۔

نوٹ: یہ سب ایک منطقی وضاحت تھی، حقیقت میں کیا ہوگا یہ خدا جانتا ہے۔ خدا ہم سب کو داہنے ہاتھ والوں میں شامل ہونے کی توفیق عطا فرمائے اور بائیں ہاتھ والوں کے انجام سے محفوظ رکھے، آمین

Facebook Comments HS