صحافت کا جنازہ ہے ذرا دھوم سے نکلے


صحافت کیا ہے؟ بس یہ عوام تک خبر پہنچانا، خبر کوئی بھی ہو، کسی کی بھی، کہیں کی بھی، کیونکہ خبر تو خبر ہے، اور جب کچھ نا بھی ہو رہا ہو تو یہ بھی ایک خبر ہی ہوتی ہے، آپ نے تو سن رکھا ہے کہ ہر خاموشی کسی طوفان کا پیش خیمہ ہوتی ہے، جب ہم جیسے جوان خون صحافت کی پٹری پر چڑھتے ہیں تو ہی پتہ چلتا ہے کہ اس ٹریک پر کئی جنکشن اور اسٹیشن آنے ہیں کچھ بڑے تو کچھ چھوٹے، ویسے تو صحافت نام ہے اس پٹری پر پیدل چلنے کا لیکن کچھ لوگ ٹرین کا سہارا بھی لے لیتے ہیں اور منزل مقصود تک جلدی پہنچ کر اپنی راہ لیتے ہیں پیدل چلنے والے کے پاس خبریں تو بہت ہوتی ہیں لیکن اس کا جنکشن دور ہوتا ہے کچھ تو اس راہ میں تھک ہار کر چھوڑ دیتے ہیں کچھ پہلے اسٹیشن پر ہی پڑاؤ ڈال دیتے ہیں اور کچھ میں سکت ختم ہو جاتی ہے۔

عوام خبر اس سے لیتے ہیں جو پہلے جنکشن پر اترتا ہے اس کے پاس خبر ہوتی ہے لیکن پوری نہیں بلکہ ادھوری کیونکہ وقوعہ جب وقوع پزیر ہو رہا تھا یہ صحافی وہاں سے گزر رہا تھا اس نے دیکھا آگے پہنچا اور بتا دیا بعد کے حالات کیسے تھے، کس کا عمل کیسا تھا یہ اس کی پہنچ سے دور تھا ہاں اس نے ایسا کیا کہ باقی سنی سنائی اور بات بڑھا دی، اس نے پیچھے رہ جانے والے رابطہ کر کے حالات پوچھ کر آگے بتا دیے۔

پیدل چلنے والے کچھ تو رپورٹر ہوتے ہیں کچھ نمائندے ہوتے ہیں اسٹیشن پر بیٹھے زیادہ تر اینکر ہوتے ہیں، اینکر کی مختلف اقسام ہیں، کچھ لمبا سفر طے کر کے پہنچے ہیں سب حالات سے واقف و آگاہ ہیں کچھ شہر میں رہتے تھے تو جلد ہی اسٹیشن پر پہنچ گئے، انھوں نے نا تو گاؤں دیکھا نا گاؤں کے حالات، خیر یہ سب کام کررہے ہیں کسی نہ کسی نیوز چینل کے لئے۔ چینل کی مشین کے یہ سب پرزے ہیں جیسے گھڑی میں وقت تو صرف 2 سوئیاں ہی بتاتی ہیں لیکن اس کے پہچھے چھوٹے، بڑے کئی پرزے ہوتے ہیں، چینل کی سوئیاں یہ اینکر ہیں نمبر رپورٹر اور باقی سب پیچھے والے پرزے باقی عملہ، لیکن یہ گھڑی کوئی بھی خرید سکتا ہے، کبھی بھی کہیں بھی آویزاں کر سکتا ہے، حتی کہ دیوار کے ساتھ بھی  لگا سکتا ہے، آج کل یہی ہو رہی ہے گھڑیاں دیوار کے ساتھ لگنا شروع ہو گئی ہیں، ایک سے دوسرے ہاتھ میں بکنا شروع ہو گئیں ہیں دیکھا جا رہا ہے کہ کتنے پرزے کم کیے جائیں، بس ضروری پرزے لگائے جائیں باقی نکال دیے جائیں، اور کچھ مالکان تو اس حد تک پہنچ گئے کہ گھڑی چلتی ہے تو ٹھیک ورنہ ہمارے پاس دوسرے ذرائع ہیں وقت معلوم کرنے کے، وقت کی رفتار کے ساتھ چلنے کے، نئی گھڑیاں خریدنے کے۔

ملک کے بڑے ٹیلی ویژن اسٹیشن سے رپورٹر سمیت دیگر عملہ کو نکالنے کا سلسلہ جاری ہے، کہیں تنخواہیں کاٹی جا رہی، کہیں تنخواہیں روکی جا رہی، کہیں دیگر مراعات واپس لی جا رہی ہیں تو کہیں جبری مشقت لی جارہی ہے کہ نوکری کرنی ہے تو کریں نہیں تو گھر کی راہ لیں۔ کسی نے اگر احتجاج کیا تو دوسرے نکالے جانے والوں کے ساتھ اسے بھی نکلنے کا عندیہ دے دیا، جو بچ گئے ان کی مستقل نوکریوں کو عارضی میں بدل دیا گیا، عارضی سے فائدہ یہ ہوگا کہ مراعات ختم کرنے کے ساتھ ساتھ ان کو کسی بھی وقت راندہ درگاہ کیا جا سکتا ہے۔ لیکن جتنے بھی لوگ نکالنے گئے ہر اسٹیشن سے ان سے بچت 10 لاکھ کے قریب ہے ان 10 لاکھ میں تقریبا 20 سے 30 گھروں کا چولہا جل رہا تھا۔

دوسری طرف مارکیٹ میں ڈاؤن سائزنگ کا الارم ہے کہ لگاتار بجتا ہی چلا جا رہا ہے، ٹی وی مالکان کو کوئی خاص نقصان تو نہیں ہورہا ہے بس یہ کہ نئی حکومت سے جب خود کچھ حاصل نہ کر سکے تو ورکز کو حکومت کے سامنے لا کھڑا کیا، احتجاج پر احتجاج کا سلسلہ جاری ہے، دراصل صحافت کا جنازہ کیا، صحافیوں کے جنازے اب نکل رہے ہیں

دل پریشان ہے، رات بھاری ہے، زندگی ہے کہ پھر بھی پیاری ہے، اور کیا تماشا ہے، کب سے جاری ہے؟ اس وقت پاکستان کے میڈیا ورکر کے یہ حالات ہیں، اس کہانی کو کون روکے گا؟

Facebook Comments HS

وقار حیدر

وقارحیدر سما نیوز، اسلام آباد میں اسائمنٹ ایڈیٹر کے فرائض ادا کر رہے ہیں

waqar-haider has 58 posts and counting.See all posts by waqar-haider