خدا بے نیاز کیسے ہے، ایک خیال

فروری دو ہزار دس کی بات ہے۔ انگلستان سے چھٹیاں گزارنے پاکستان پہنچا تو دوستوں اور اساتذہ سے ملنے ملانے کا سلسلہ شروع ہوا۔ ایک صبح پروفیسر صاحب سے ملنے ان کے دفتر پہنچا۔ وہ ہمیشہ کی طرح مسکرا کے بڑی محبت سے ملے، وہ انہی دنوں آکسفورڈ سے اپنا پوسٹ ڈاکریٹ مکمل کر کے وطن واپس پہنچے تھے۔ گفتگو کے دوران پوچھنے لگے، تُم کیا سمجھتے ہو یہاں کرپشن کیوں بہت زیادہ ہے اور وہاں یورپ میں کیوں نہیں

Read more

دنیا پور سے دین پور تک

قاسم کا فون آیا، بھائی جان آپ کہاں ہیں، ایک دوست کے معاملات پہ بات کرنی ہے۔ میں نے کہا گاڑی چلا رہا ہوں، چالیس منٹ تک گھر پہنچ رہا ہوں، گھر پہنچا تو قاسم ڈیرے پہ انتظار کر رہا تھا۔ سلام دعا ہوئی، معاملات پہ بات چیت کے بعد بولا، بھائی جان یہ قریب ہی میں ایک بزرگ آن رُکے ہیں، دین پور شریف (خانپور) سے تشریف لائے ہیں، میں ملاقات کر کے آ رہا ہوں، دل ابھی تک

Read more

یتیموں کو چھاؤں دینے والے درخت

میری اُس سے پہلی باضابطہ ملاقات میلوڈی فوڈ پارک اسلام آباد میں دو ہزار گیارہ میں ہوئی تھی، میں اُن دنوں جرمنی سے پاکستان آیا ہوا تھا۔ اب تو وہ پولیس کا ایک بڑا افسر بن چکا ہے۔ خیر وقت گزرتا گیا اورربط مضبوط ہوتا گیا۔

جولائی دوہزار سترہ میں، میں پیرس میں اینے کمرے میں بیٹھا رچرڈ نکسن کی ”لیڈرز“ پڑھ رہا تھا کہ اُسکا پیغام ملا، ”یار تیری مدد چاہیے! میں نے پوچھا اتنے بڑے افسر کو بھلا میری کون سی مدد درکار ہوسکتی ہے؟ بولا میرا ایک بڑا پیارا دوست جو اب اس دنیا میں نہیں ہے، مجھے اُس کے لواحقین کو امداد بھیجنی ہے، تمہاری مدد چاہیے۔ میں نے کہا کیسی مدد؟ بولا مُجھے حیا آتی ہے اس لئے میں چاہتا ہوں کہ وہ امداد تم ان تک پہنچاؤ۔

میں سوچ میں پڑ گیا کہ کیسا عجیب شخص ہے جس کو نیکی کرتے ہوئے حیا آ رہی ہے کہ کہیں کسی جگہ پہ کوئی ریاکاری کا پہلو نہ نکل آئے اور میری نیکی نہ ضائع ہو جائے، اگر نیکی کرتے وقت اس کا یہ حال ہے تو گناہ تو اس سے سرزد ہو ہی نہیں پاتا ہوگا کبھی۔

Read more

برائے مہربانی سم سیدھی ڈالئے

نیگومبو (Negombo) ٹاؤن سری لنکا انٹرنیشنل ایئر پورٹ سے چند منٹوں کی دوری پر سمندر کے ساحل پر واقع ایک مشہور سیاحتی علاقہ ہے۔ دنیا کے مختلف کونوں سے لوگ یہاں چھٹیاں گزارنے آتے ہیں، پچھلے جولائی میں وہاں ایک ہفتہ گزارنے کا موقع ملا اور اس ایک ہفتے کے دوران وہاں کافی سارے لوگوں سے مل کربہت کُچھ سیکھنے کا اتفاق ہوا۔ ایک سہہ پہر کو جیٹ ونگ (Jetwing) ہوٹل کے عقب میں ساحل سمندر پر بیٹھا کتاب کا

Read more

اے ٹی ایم مشین، ضرار حیدر کی بٹوہ چوری اور قیامت کا دن

ستمبر دو ہزار نو کی بات ہے، رات کے گیارہ بج چکے تھے، مطیع اللہ اور میں لندن کے علاقہ ایسٹ ہیم (Eastham) کے مین بازار (High Street) میں بارکنگ روڈ کی طرف واقع ایک بینک کے سامنے سڑک کے دوسری طرف نصب بینچ پر بیٹھے باتوں میں مگن تھے کہ اچانک ایک شخص دوڑتا ہوا آیا اور بینک کے ساتھ ملحقہ اے ٹی مشین والے کمرے میں داخل ہو گیا، کافی دیر وہ اندر مشین سے ہاتھا پائی میں

Read more

قصہ ایک خدا ساختہ خود ساختہ کا

امجد اسلام امجد کی نظم ”سیلف میڈ (خود ساختہ) لوگوں کا المیہ“ ہمیشہ سے اس کی پسندیدہ تھی۔ اُن دنوں وہ نیا نیا خیبر پختونخواہ کے ضلع سوابی میں بطور اسسٹنٹ کمشنر تبادلہ ہو کر گیا تھا۔ ایک صبح جب وہ دفتر جانے کے لئے تیار ہو رہا تھا تو اس کی نظر اپنے جوتوں پر پڑی، سُرخ رنگ کے جوتے پر کسی نے کالی پالش چڑھا دی تھی۔ اُس نے جوتا پالش کرنے والے کو بُلا بھیجا، آنے والا

Read more

ماں جی! آپ زندہ ہیں؟

(پانچ نومبر 2017) دفتر میں اطلاع ملتی ہے کہ بڑے صاحب تھوڑی دیر میں پہنچ رہے ہیں۔ سارے افسر اور سٹاف دروازے پر بڑے صاحب کا استقبال کرتے ہے اور پھر سب لوگ اُس کو اُس کے کمرے تک چھوڑ کے اپنے اپنے کاموں میں لگ جاتے ہیں۔ چائے لے کر آنے والا لڑکا چائے رکھ کے واپس جانے لگتا ہے تو اسے کہا جاتا ہے کہ ڈی سی ہیڈکوارٹرز کو پیغام پہنچائیں کہ مجھ سے ابھی آ کر ملیں۔

Read more

افسر شاہی ہاتھ یا خدائی ہاتھ

محمد یار صاحب کا تعلق ضلع سرگودھا کی تحصیل بھلوال کے ایک گاؤں سے ہے۔ وہ نوے کی دہائی میں محکمہ مال میں پٹواری بھرتی ہوئے مگر پھر وقت سے پہلے ریٹائرمنٹ لے لی اور اب تھوڑی سی زمین، چند مال مویشی اور ڈھیر ساری کتابوں کے ساتھ بڑی اطمینان بخش زندگی گزار رہے ہیں۔ بہت کم مگر خوبصورت بولتے ہیں، اُن کے لہجے میں خلوص اور فکر مندی ہمیشہ جھلکتی ہے۔ کسی سے حسد یا کینہ نہیں رکھتے، کسی

Read more