تعلیم کی تباہی اور اس کا حل


مرحوم محمد خان جونیجو (سابق وزیر اعظم) وہ انسان تھے جس نے سندھ کی تعلیم کی بربادی کی بنیاد رکھی۔ مرحوم کے دور میں ہر ایرے غیرے کو ماسٹر بنایا گیا، سلیکشن کا کرائٹیریا میٹرک پاس، (وہ بھی جعلی ڈگری) نہ این ٹی ایس کے ذریعے ٹیسٹ اور نا ہی انٹرویو کا جھنجھٹ، امیدوار شام کو اپنی بھیڑ بکریاں باڑہ میں بند کر کے آتا تھا کہ اس کا ابا جان آرڈر لیے کھڑا ہوتا تھا، بیٹا پریشان کہ میں ماسٹر کیسے بنا۔ ابا، وہ فلاں وڈیرے نے کہا تیرا چھورا واندا بیٹھا ہے یہ لو ماسٹری کا آرڈر کیا یاد کروگے۔

ایسے ہزاروں استاد بھرتی کیے گئے جنہیں اپنا نام لکھنا تک نہ اتا تھا،

جونیجو مرحوم کے بعد پیر مظہر الحق نے تعلیم کا ستیاناس کرنے میں کمی نا کی، الزامات کے مطابق جناب پیسوں کا بہت شوقین تھا اور جاتے جاتے 1500 لوگوں سے پیسے لے کر جعلی آرڈر پکڑا کر گیا، (جو بیچارے آج تک جھولیاں اٹھا اٹھا کر دلبد دعائیں دے رہے ہیں )

مہتاب ڈہر جسے قدرِ ایماندار سمجھا جاتا تھا اس نے پچاس ارب روپے اسکولوں کی مرمت کے ایسے لگائے کہ ڈکار تک نہ لی۔

اس وقت سندھ حکومت فی بچے پر 50 ہزار روپے خرچ کر رہی ہے اور رزلٹ زیرو ہے، یا تو اساتذہ اسکول آتے ہی نہیں ہیں اور اگر آتے بھی ہیں تو دو گھنٹے بیٹھ کر فیس بک کا استعمال کرکے چلے جاتے ہیں۔

اور سبحان اللہ اب ان کی حاضری کو یقینی بنانے کے لئے بایو میٹرک سپروائزرز رکھے گئے ہیں، جنہوں نے ہر استاد سے فکس کیا ہوا ہے کہ ہر تنخواہ پر میرا خیال رکھنا (جو دو ہزار سے پانچ ہزار تک ہے ) ۔ اور پھر اٹینڈنس لینے والے دن استاد کو کال کر کے 8 : 00 بجے اسکول پہنچ جانے کا بتایا جاتا ہے۔

کچھ روز پہلے ایک سرکاری اسکول میں فنکشن تھا انہوں نے دعوت دی، اور ایک دانشور ادیب کو تقریر کے لئے دعوت دی گئی (موصوف خود اسکول ٹیچر ہے لیکن ایک دن بھی ڈیوٹی نہیں کی کیونکہ جناب کامریڈ ہیں سندھ دھرتی کا درد رکھنے والے، پنجاب سامراج سے سندھ کے حقوق کی جنگ جو لڑ رہا ہے ) جناب نے تقریر کا آغاز کچھ یوں کیا جی اے سندھ جی اے طلباء۔

بچوں تم نے پرائیویٹ اداروں کو بند کروانا ہے، تم نے سندھ کی جنگ کی لڑنی ہے، ۔ اور یہ سندھ کا حلالی فرزند اپنا مذہبی قومی ملی فریضہ ادا کر کے نیچے اترا، اور سامعین کی زبان سے بے اختیار نکلا۔

انا للہ و انا الیہ راجعون۔

حالیہ اعلیٰ عدالتوں کے فیصلوں پر مجھ جیسے ہزاروں لوگوں کو حیرانی ہے، ماء لارڈ، آرٹیکل 25 کے تحت مفت تعلیم دینا ریاست کی ذمہ داری ہے (نہ کہ سٹی اسکول یا بیکن ہاؤس کی) ، اگر آپ کو کچھ کرنا ہے تو تعلیمی اداروں میں اصلاحات لائیں کالی بھیڑوں سے ان کو صاف کریں۔ جب سرکاری تعلیمی ادارے ٹھیک ہو گئے تو از خود سٹی اسکول اور بیکن ہاؤس کو تالے لگ جائیں گے۔

لیکن افسوس شاید ججز بھی سمجھتے ہیں کہ سرکاری ادارے کبھی درست ہو ہے نہیں سکتے ہیں، ایک چپڑاسی سے سیکرٹری تک سب سندھ کی تعلیم کے ساتھ کھلواڑ میں شریک ہیں، اور سب سیاستدانوں کے منظور نظر ہیں۔

اب یہ مرض لا علاج بن چکا ہے لیکن پھر بھی چند تجاویز ہیں شاید سندھ کی تعلیم کی ڈوبتی ہوئی ناؤ بچ جائے۔

1۔ سرکاری تعلیمی بورڈز بند کیے جائیں، اور اسکولوں کا الحاق فیڈرل بورڈ اور آغا خان بورڈ سے ہو،

2۔ پچاس فیصد سے کم رزلٹ آنے پر اسکول کے اسٹاف کی 50 فیصد سیلری کم کی جائے۔

3۔ دوسرے سال امپروومینث نہ آنے پر اس اسکول کے اسٹاف کو ٹرمینیٹ کیا جائے۔

4۔ اساتذہ کو کم از کم 50 ہزار ماہانہ تنخواہ دی جائے۔

5۔ اس کے علاوہ ہیلتھ کی طرح PPHI جیسی این جی اوز کو سرکاری تعلیمی ادارے دیے جائیں اور سرکاری اسٹاف کی جاب برطرفی کا اختیار بھی اس این جی او کو دیا جائے۔

6۔ آخری حل یہ ہے کہ تمام اساتذہ، لیکچررز پروفیسرز کو گولڈن ہینڈ شیک دے کر چھٹی دی جائے اور جس طرح کے پی کے حکومت نے ہیلتھ کارڈ کا اجراء کیا ہے اسی طرح ہر خاندان کو فی بچہ ”ایجوکیشن کارڈ“ دیا جائے، پھر جہاں دل چاہے تعلیم حاصل کریں۔

آج آپ سٹی، بیکن، آرمی اسکولز، فوجی فاؤنڈیشن اسکولز ایچی سن اور آغا خانی اسکولز کو بند کریں گے تو وہ بچے کہاں تعلیم حاصل کریں گے؟

کیا عدلیہ متبادل اسکول اور معیاری تعلیم فراہم کرے گی؟ اگر نہیں تو خدارا جو مرض ہے اس کا علاج کریں، نہ کہ حکیموں کی طرح تجربات کریں۔

Facebook Comments HS