آسیہ بی بی کی بریت سے سبق سیکھنے کی ضرورت


ایسے ہی ایک معاملہ میں ملتان کی بہاؤالدین ذکریا یونیورسٹی میں انگریزی کے استاد جنید حفیظ جیل میں قید ہیں۔  ان کے خلاف چھے برس قبل یونیورسٹی کے مذہبی عناصر نے توہین مذہب کے الزامات عائدکیے تھے۔  شروع میں کوئی وکیل دھمکیوں اور فتوؤں کے خوف سے ان کا مقدمہ لینے کے لئے تیار نہیں تھا لیکن جب انسانی حقوق کے لئے کام کرنے والے حوصلہ مند راشد رحمان نے ان کا وکیل بننا قبول کرلیا تو عدالت میں ایک ہی سماعت کے بعد انہیں ان کے دفتر میں ہی گولیاں مار کر ہلاک کردیا گیا۔ اس کے بعد سے جنید حفیظ کی طرف سے کوئی وکیل پیش نہیں ہو سکا اور یہ شخص کسی باقاعدہ سزا کے بغیر مقید ہے۔

اس قسم کے المیہ کی بنیادی وجہ توہین مذہب کی وہ شقات ہیں جو سابق فوجی آمر جنرل ضیا الحق کے دور میں قانون کا حصہ بنائی گئی تھیں اور جن کی بنیاد پر کسی بھی شخص پر جھوٹا الزام لگا کر اس کی اور اہل خاندان کی زندگی اجیرن کی جاسکتی ہے یا اسے ہلاک کردیا جاتا ہے۔  پنجاب کے سابق گورنر سلمان تاثیر نے آسیہ بی بی سے ملنے کے بعد توہین مذہب کے انہی قوانین کے بارے میں رائے دی تھی اور ان میں مناسب ترمیم کا مطالبہ کیا تھا۔

اس کے نتیجے میں جنوری 2011 میں سلمان تاثیر کو ان کے ہی سرکاری محافظ ممتاز قادری نے اسلام آباد میں قتل کردیا تھا۔ بعد میں مذہبی گروہوں نے ممتاز قادری کو ’اسلام کا ہیرو‘ بنا کر پیش کرتے ہوئے اس کے جرم کو شاندار کارنامہ کے طور پر پیش کیا۔ سپریم کورٹ کے حکم پر ممتاز قادری کو 26 فروری 2016 کو پھانسی تو دے دی گئی لیکن اس کے نام پر ناموس رسالت کی حفاظت کے لئے لبیک تحریک کے نام سے ایک نیا انتہا پسند مذہبی ٹولہ سامنے آیا تھا جس نے دھونس، دھمکی، دشنام طرازی اور قانون شکنی کی نئی روایت قائم کی۔ اس کے لیڈر اب اگرچہ قید میں ہیں لیکن اس گروہ کی سرگرمیوں اور ان کے لئے دیگر مذہبی جماعتوں اور لیڈروں کی براہ راست یا بالواسطہ حمایت کی وجہ سے ملک میں خوف و ہراس کا ایسا ماحول پیدا ہو چکا ہے جس میں دلیل اور حجت کی گنجائش باقی نہیں رہی ہے۔

اس پس منظر میں سپریم کورٹ کا فیصلہ گو کہ روشنی کی کرن کی حیثیت رکھتا ہے تاہم اگر حکومت اور پوری قوم نے اس کرن کی حفاظت کرنے کا قصد نہ کیا اور آسیہ بی بی کیس سے سبق سیکھتے ہوئے ملکی قوانین میں ترمیم کے علاوہ سماج سدھار کا کام شروع نہ کیا گیا تو اس ایک معاملہ میں سپریم کورٹ کے فیصلہ سے صورت حال تبدیل نہیں ہوسکے گی۔ اور ملک میں مذہب سے محبت کے نام پر بے گناہوں کو بھینٹ چڑھایا جاتا رہے گا اور مذہبی اقلیتیں مسلسل خوف اور دباؤ کا شکار رہیں گی۔

مذہبی لیڈروں اور گروہوں نے اپنی سیاست چمکانے کے لئے ملک میں نافذ توہین مذہب کے قوانین کو یوں مقدس بنا دیا ہے جیسے وہ اللہ کی کتاب کا حصہ ہوں۔  حالانکہ یہ قوانین کئی حوالوں سے کمزور ہیں اور نا انصافی کا سبب بنتے رہے ہیں۔  الزام لگنے کے بعد ’ملزم‘ کی ضمانت یا اسے ریلیف ملنے کا امکان ختم ہوجاتا ہے۔  مذہبی گروہوں کے دباؤ کی وجہ سے زیریں عدالتیں حتی کہ ہائی کورٹ تک ان شقات کے تحت مقدمات میں میرٹ کی بنیاد پر فیصلہ کرنے کا حوصلہ نہیں کرتیں۔

یہ بات اب آسیہ بی بی کیس میں واضح ہو کر سامنے آچکی ہے۔  سپریم کورٹ نے جن شاہد کو بے کا راور جھوٹ کاپلندہ قرار دیا ہے، انہی کی بنیاد پر ہائی کورٹ نے بھی آسیہ بی بی کی موت کی سزا برقرار رکھی تھی۔ پاکستان کو قانون اور انصاف کی آماجگاہ بنانے کے لئے ان قوانین میں مناسب تبدیلیاں وقت کی ضرورت ہیں۔  انسانی حقوق کے لئے کام کرنے والے تمام عالمی ادارے ان تبدیلیوں پر زور دیتے رہے ہیں۔  ان قوانین کے تحت ملزموں کی نہ تو ضمانت ہوتی ہے اور نہ ہی عدالتیں انہیں انصاف دینے کے قابل ہوتی ہیں۔  اسی طرح جھوٹے الزام لگانے والوں کی گرفت نہیں ہو سکتی۔

چیف جسٹس آصف سعید کھوسہ نے آج کی سماعت کے دوران بار بار یہ کہا ہے کہ عدالت نے معاملہ کی حساسیت کی وجہ سے جھوٹے بیان دینے والے لوگوں کے خلاف مقدمہ قائم کرنے کا حکم نہیں دیا۔ اب پارلیمنٹ اور حکومت کو اس سقم کو دور کرنے کے لئے سنجیدگی سے کام کرنے کی ضرورت ہے تاکہ مذہب کے تقدس کو جھوٹ سے آلودہ کرنے کی روایت کو جڑ سے اکھاڑا جا سکے۔

Facebook Comments HS

صفحات: 1 2

سید مجاہد علی

(بشکریہ کاروان ناروے)

syed-mujahid-ali has 3148 posts and counting.See all posts by syed-mujahid-ali