معصوم ذہن کیا سوچتے ہیں؟


پچھلے دنوں دہشت گردی کے واقعات ایسے ہوئے ہیں جو ذہن سے ہٹ ہی نہیں رہے ہیں خاص طور پر ساہیوال واقعہ۔ اس پر اتنا لکھا جاچکا ہے اور پڑھا جاچکا ہے، ہر محفل کا موضوع گفتگو یہی واقعہ تھا، لیکن جس نکتہ نظر سے میں دیکھ رہی ہوں وہ اتنا خطرناک ہے کہ اس طرف کوئی سوچ بھی نہیں رہا ہے۔ جس طرح آرمی پبلک اسکول میں بچوں کی شہادت کے بعد چھوٹے بچوں کے اذہان سے اس واقعے کو محو کرنے میں مہینوں لگے تھے اسی طرح کا یہ واقعہ بھی ہے۔

کھانے کی ٹیبل پر مجھ سے حسین نے یہ سوال کیا کہ ”ان بچوں کا کیا قصور تھا ان کے امی ابا اور بہن کو کیوں مارا گیا“ ، حسین کی امی نے فوراً کہا ”یہ بڑوں کی بات ہے بچے نہیں بولتے“ ، حسین نے ٹی وی کی طرف اشارہ کرکے کہا ”یہ بچے ہی سے پوچھ رہے ہیں، کہ گولی کیسے چلی، آپ کہاں جارہے تھے، ہمارے اسکول میں سب بچوں کو پتہ ہے کیا ہوا ان بچوں کے ساتھ“ ۔ اب چونکنے کی باری میری تھی۔

میں نے حسین کو پاس بٹھا کر اسے پورا واقعہ اس کی عمر کے حساب سے سمجھایا لیکن وہ پانچویں جماعت کا بچہ یہ سوال کر رہا تھا کہ پولیس کو بات تو کرنی چاہیے تھی، پوچھ گچھ تو کرتے، میں نے بتایا کہ وہ پولیس نہیں سی ٹی ڈی والے تھے، غلطی سے ایسا ہوا، بچے نے مجھے لاجواب کر دیا کہ ”ماں باپ کے ساتھ بچے تھے پھر تو انھیں زیادہ خیال رکھنا تھا کیونکہ یہ فورس تو دہشت گردوں کے لیے ہی بنی ہے، یہ غلطی نہیں کرسکتے“ ، بہر حال میں نے بچے کو تو مطمئن کر دیا لیکن خود سوچ میں پڑگئی۔

ہم اس واقعہ کی سنگینی ان بچوں کے دماغ سے نکال سکیں گے، کیا ہم انھیں سمجھا سکیں گے کہ یہ ظلم غلطی سے ہوا۔ جن بچوں کے ساتھ یہ واقعہ ہوا، وہ بچے تو ساری عمر اس ٹراما میں رہیں گے بلکہ یتیمی اور یسیری کا دکھ ساری عمر سہنا ہے۔ ان ہزاروں بچوں کا کیا ہوگا جنھوں نے یہ واقعہ ٹی وی پر دیکھا اور ذہنوں پر ایک عدم تحفظ چھا گیا کہ ماں باپ ساتھ ہوں تب بھی ہم محفوظ نہیں۔ ہم ظلم وستم کے اس دور میں جی رہے ہیں جس کی مثال تاریخ میں نہیں ملتی، کاش یہ مقدمہ نامعلوم اہلکاروں کے خلاف درج نہیں کروایا جاتا کیونکہ جو ڈیوٹی پر موجود تھے ان کے نام حاضری رجسٹر میں تو ہوں گے ورنہ ہم یہ کہنے میں حق بجانب ہوں گے کہ

ہم سب ایسے شہرِ ناپرساں کے باسی ہیں
جس کا نظم ونسق چلائیں نامعلوم افراد

اس واقعہ پہ جوکچھ بھی ہے بیان بازی بند کیجئے، اپنی کوتاہی مانیں اور سی ٹی ڈی والے اپنے آپ کو انصاف کے لئے پیش کریں تاکہ، مرنے والے والدین کی روحوں کو سکون ملے، ان بیان بازیوں سے کچھ نہیں ہونے والا بلکہ معصوم ذہنوں میں آپ کے نقوش کالے رنگ میں ثبت ہوگئے تو وہ کسی محافظ پر اعتبار نہیں کریں گے۔ بے گناہوں کو مار دیتے ہیں اور جو سارے جرائم کرکے دندناتے پھر رہے ہیں، حراست میں بھی ”وی“ کا نشان بناتے ہیں ان کو کیوں نہیں سزا دیتے انھیں کوئی کیوں گولی نہیں ماردیتا اس لیے کہنا بیکار ہے کہ دہشت گردی ختم کررہے ہیں بلکہ دہشت گردی پھیلارہے ہیں، معصوم ذہنوں میں دہشت بھر کر ہم اچھا نہیں کر رہے بلکہ ہم اپنے مستقبل سے کھیل رہے ہیں۔ بچوں کو بنیادی تعلیم تو دے نہیں سکتے ان کے معصوم ذہنوں کو تباہ کرنے کا بھی کوئی حق نہیں۔

Facebook Comments HS