آسیہ بی بی کی بریت سے سبق سیکھنے کی ضرورت


سپریم کورٹ آف پاکستان نے آسیہ بی بی کے خلاف توہین مذہب کیس پرنظر ثانی کی اپیل کو مسترد کرتے ہوئے بالآخر اس طویل اور تکلیف دہ مقدمہ کو منطقی انجام تک پہنچانے کا حوصلہ مندانہ اور نہایت اہم اقدام کیا ہے۔  سپریم کورٹ کے بنچ نے اکتوبر میں اپنے ابتدائی فیصلہ میں آسیہ بی بی کے خلاف تمام الزامات مسترد کرتے ہوئے گواہوں کے جھوٹ اور مقدمہ کی کمزوریوں کا پردہ فاش کیا تھا۔ اس فیصلہ میں ملک کی اعلیٰ ترین عدالت نے یہ اصول بھی واضح کیا تھا کہ کسی بے گناہ کو صرف مذہب کا نعرہ بلند کرنے کی وجہ سے سزا نہیں دی جاسکتی۔

چیف جسٹس آصف سعید کھوسہ نے آج مدعی قاری سلام کے وکیل کی طرف سے اپیل مسترد کرتے ہوئے ایک بار پھر واضح کیا ہے کہ اسلام بے گناہوں کو سزا دینے کی تلقین نہیں کرتا بلکہ اسلامی شریعت معاشرے میں اقلیتوں کی حفاظت کرنے اور ان کے حقوق ادا کرنے کا حکم دیتی ہے۔  عدالت عظمی کے بار بار اصرار پر بھی جب مدعی کے وکیل آسیہ بی بی کو بری کرنے سے متعلق فیصلہ میں کوئی کمزوری، قانونی سقم یا غلطی کی نشاندہی کرنے میں ناکام رہے تو سہ رکنی بنچ نے اس اپیل کو مسترد کرتے ہوئے آسیہ بی بی کو بری کرنے کا فیصلہ برقرار رکھا۔

اس تاریخ ساز فیصلہ کے بعد آسیہ بی بی اب بیرون ملک روانہ ہوسکے گی۔ اس کی دونوں بیٹیاں اور دیگر اہل خانہ کو پہلے ہی کینیڈا میں پناہ دی جاچکی ہے۔  آسیہ بی بی بھی اب ان سے ملنے اور اپنے اہل خاندان کے ساتھ حفاظت سے رہنے کے لئے آزاد ہیں۔  ملکی تاریخ کے اس المناک مقدمہ کا فیصلہ اگرچہ ایک بے گناہ کی رہائی کی صورت میں حوصلہ افزا ہے لیکن اس کے ساتھ ہی یہ سچ بھی اہل پاکستان کو اس بگڑتے ہوئے سماجی مزاج کی یاد دلاتا رہے گا کہ اس ملک میں اعلیٰ ترین عدالت سے رہائی پانے اور اپنے خلاف تمام الزامات مسترد ہونے کے باوجود کوئی شہری آزادی اور حفاظت سے رہنے اور اپنے گھر واپس جانے کے قابل نہیں ہے۔

آسیہ بی بی بھی اپنے گاؤں یا علاقے میں تو کیا اب پاکستان میں رہنے کا حوصلہ بھی نہیں کرسکتی۔ گزشتہ 9 برس کے دوران اس مقدمہ کی وجہ سے آسیہ کو ایک ایسے الزام میں جیل کاٹنا پڑی جو اس سے سرزد نہیں ہؤا تھا اور جس کے بارے میں سپریم کورٹ نے تفصیل سے طے کردیا ہے کہ گواہوں نے جھوٹ بولا اور اس معاملہ کو جان بوجھ توہین مذہب کا کیس بنا کر ایک بے گناہ خاتون کو پھانسی کے پھندے تک پہنچانے کی کوشش کی گئی۔

جون 2009 میں ہونے والے اس سانحہ کی وجہ سے آسیہ بی بی کو طویل قید و بند کی صعوبت برداشت کرنا پڑی اور پھانسی کے خوف میں زندہ رہنا پڑا۔ لیکن یہ تکلیف صرف اس خاتون تک ہی محدود نہیں تھی بلکہ اس کے اہل خاندان کو جن میں دو کمسن بیٹیاں بھی شامل تھیں، یہ سارا وقت اپنی جان بچانے کی فکر لاحق رہی۔ پاکستان میں اس معاملہ کو لے کر ایک ایسا ماحول بنا دیا گیا تھا کہ دنیا بھر میں پاکستان اور اسلام کے بارے میں چہ میگوئیاں کی گئیں اور یہ تاثر قوی تر ہؤا کہ پاکستان میں اقلیتی عقیدہ سے تعلق رکھنے والے لوگ محفوظ نہیں ہیں۔

سپریم کورٹ کے فیصلہ نے اگرچہ اس اصول کو نمایاں کیا ہے کہ توہین مذہب کے نام پر جھوٹے الزام کو قبول نہیں کیا جاسکتا اور صرف اس لئے کسی بے گناہ کو پھانسی کی سزا نہیں دی جاسکتی کیوں کہ ملک کے کچھ مذہبی عناصر لوگوں کو مشتعل کرنے میں مصروف ہیں اور کسی بنیاد کے بغیر ججوں اور وکیلوں کے خلاف کفر اور قتل کے فتوے جاریکیے جاتے ہیں۔

اس کے باوجود گزشتہ برس اکتوبر کے آخر میں سپریم کورٹ کا واضح اور مدلل فیصلہ سامنے آنے کے باوجود یہ عناصر بدستور مذہب کی آڑ میں لوگوں کو مشتعل کرنے میں مصروف رہے تھے۔  احتجاج اور دھرنا ختم کروانے کے لئے حکومت کو ان قانون شکن اور سماج دشمن عناصر کے ساتھ تحریری معاہدہ کرنا پڑا تھا جس میں یہ وعدہ کیا گیا کہ آسیہ بی بی کو نظر ثانی کی اپیل تک ملک سے جانے کی اجازت نہیں دی جائے گی۔ حالانکہ آٹھ برس کے طویل اور جان گسل انتظار اور قید کے بعد آسیہ بی بی آزاد ہوجانی چاہیے تھی اور اس کے ملک سے باہر جانے پر کوئی پابندی عائد کرنا غیر اخلاقی ہونے کے علاوہ سپریم کورٹ کے حکم کی خلاف ورزی کے مترادف تھا۔ آسیہ بی بی کو فیصلہ کے بعد ملتان جیل سے تو رہا کر والیا گیا لیکن حکومت کو انہیں کسی خفیہ مقام پر ’محفوظ‘ رکھنا پڑا۔ گویا وہ اپنے خلاف الزامات مسترد ہونے کے باوجود آزاد نہیں تھی اور اپنی مرضی سے نقل و حرکت نہیں کرسکتی تھی۔

آسیہ بی بی کیس میں سپریم کورٹ کا حتمی فیصلہ خوش کن ہونے کے باوجود اس تکلیف دہ صورت حال کی یاددہانی بھی کرواتا رہے گا کہ ملک کی جیلوں میں توہین مذہب کی شقات کے تحت جھوٹے مقدمات کی وجہ سے درجنوں بے گناہ اب بھی بے یقینی کی زندگی گزارنے پر مجبور ہیں۔  نہ ان کے مقدموں کا فیصلہ ہوتا ہے اور نہ ہی انہیں رہائی ملتی ہے۔  مذہب کی بنیاد پر پیداکیے گئے تعصب اور شدت پسندی کی وجہ سے یا تو ایسے مظلوموں کو کچھ ’نامعلوم‘ عناصر قتل کردیتے ہیں یا وہ ساری زندگی ایک ایسے گناہ کی سزا بھگتتے رہتے ہیں جو ان سے سرزد نہیں ہؤا۔

مزید پڑھنے کے لیے اگلا صفحہ کا بٹن دبائیں

Facebook Comments HS

صفحات: 1 2

سید مجاہد علی

(بشکریہ کاروان ناروے)

syed-mujahid-ali has 3148 posts and counting.See all posts by syed-mujahid-ali