خیرپور میڈیکل کالج کے طلب علم کراچی پریس کلب کے سامنے احتجاج پر کیوں بیٹھے ہیں؟
گذشتہ ایک مہینہ خیرپور، سکھر اور اس کے بعد لاڑکانہ میں بے نظیر بھٹو شہید کی مزار پر جاکر احتجاج کرنے والے خیرپورمیڈیکل کالج کے 500 طلبہ و طلبات، ان کے دوست احباب، والدین، رشتہ دار، کالج کے ڈاکٹرز، پروفیسرز اور دیگر عملہ اپنی فریاد نہ سنے جانے پر مجبور ہو کر کراچی پہنچے ہیں اور کراچی پریس کلب پر گذشتہ چار روز سے احتجاجی کیمپ لگا کر بیٹھے ہیں۔ ان کا مطالبہ انتہائی جائز اور معقول ہے کہ خیرپورمیڈیکل کالج کی رجسٹریشن بحال کی جائے جو کہ پاکستان میڈیکل اینڈ ڈینٹل کونسل نے اپنے معیار پر پورا نہ اترنے کی وجہ سے منسوخ کر دی ہے۔
پاکستان میڈیکل اینڈ ڈینٹل کونسل نے بالکل صحیح کیا ہے، ظاہر ہے جب کالج میں ضرورت کے مطابق مشینری، فیکلٹی اور عمارت نہیں ہوگی تو اس ادارے کو ڈاکٹر پیدا کرنے کی اجازت نہیں دی جا سکتی۔ اس معاملے میں سارا قصور سندھ حکومت کا ہے جس نے کالج کی عمارت تو 2012 میں بنا دی، طلبا کے پانچ بیچز بھی داخل کر لیے مگر پاکستان میڈیکل اینڈ ڈینٹل کونسل کے گذشتہ چار انسپیکشنز میں اٹھائے گئے اعتراضات پر کان تک نہیں دھرا اور نتیجہ یہ سامنے آیا کہ خیرپور میڈیکل کالج کی رجسٹریشن منسوخ ہو گئی ہے اور مستقبل کے 500 ڈاکٹر دن رات شہر شہر احتاج کر رہے ہیں مگر سندھ حکومت کے کان پر جوں تک نہیں رینگ رہی۔
سندھ اسمبلی نے دو مرتبہ بل پاس کیا تھا کہ خیر پور میڈیکل کالج کو وہ تمام سہولیات فراہم کی جائیں گی جو ایک ادارے کو میسر ہونی چاہییں، جس کی بنیاد پر پاکستان میڈیکل ڈینٹل کونسل نے پانچ سالوں میں 4 بار کالج کا معائنہ کیا، لیکن کالج کو رجسٹرڈ کرنے سے قاصر رہی کیونکہ کالج میں ایسی چیزوں کی کمی ہے جن کے بغیر ایک میڈیکل کالج مکمل ہو ہی نہیں سکتا اور نہ ہی کالج کی عمارت کا کام مکمل ہوا ہے ایک طرف کالج میں پروفیسرز کی کمی ہے تو دوسری طرف کالج میں فیکلٹی، ڈاکٹرز اور دیگر عملہ بھی ریگیولر نہں ہوسکا ہے اور ان کا بھی مستقبل داؤ پر لگا ہوا ہے، کالج میں نہ سی ٹی اسکین اور ایم آر آئی مشین ہے نہ بایو کیمسٹری، فزیولاجی، ایناٹومی کے پروفیسرز کی تعداد پوری ہے۔
پاکستان میڈیکل اینڈ ڈینٹل کونسل کے کسی بھی کالج کو رجسٹریشن دینے کے لئے ایک ہزار مارک کا ایک نظام رائج ہے جس میں سے 750 مارکس، پاسنگ مارک ہوتے ہیں، خیر پور میڈیکل کالج کو پاکستان میڈیکل اینڈ ڈینٹل کونسل کی طرف سے ایک ماہ قبل آخری انسپیکشن میں 700 مارکس ملے اور صرف 50 مارکس سے میڈیکل کالج رجسٹر ہونے سے رہ گیا ہے۔ انتہائی ستم ظریفی ہے کہ پیپلز پارٹی حکومت کا دعوی ہے کہ انہوں نے سندھ میں صحت کے شعبے میں انقلاب برپا کر دیا ہے لیکن زمینی حقیقت یہ ہی ہے کہ سابق وزیر اعلی سندھ سید قائم علی شاہ کے اپنے شہر میں ان کے ہی قائم کردہ مییڈیل کالج کی رجسٹریشن صرف 50 مارکس کم ملنے پر نہ مل سکی ہے جو کہ ایک ایم آر آئی مشین، ایک سی ٹی اسکین مشین کے کالج کی ٹیچنگ اسپتال میں ہونے سے ہو جاتی اس پر اور بھی افسوس کی بات یہ ہے کہ جب خیرپورمیڈیکل کالج 500 طلبہ اور طلبات، ان کے دوست احباب، والدین، رشتہ دار، کالج کے ڈاکٹرز، پروفیسرز کراچی پریس کلب پر احتجاجع کیمپ لگا کر بیٹھے ہیں پھر بھی سندھ حکومت خاموش تماشائی بنی بیٹھی ہے۔



