صدارتی نظام: دل پھر طواف کوئے ملامت کو جائے ہے؟
ملک کی سیاسی فضا اس وقت حزب اقتدار اور حزب اختلاف کی باہمی چپقلش سے جہاں مکدر ہو رہی ہے تو اس کے ساتھ ساتھ سیاسی فضا میں پارلیمانی نظام کی بجائے صدارتی نظام لانے کی سرگوشیاں بھی سنائی دی رہی ہیں۔ اخباری اطلاعات کے مطابق سیاسی رہنماؤں کی نشستوں میں اس نوع کے مباحث جاری ہیں جو پارلیمانی نظام کی بجائے ملک میں صدارتی نظام کے نفاذ سے متعلق ہیں۔ اس نوع کی اطلاعات پر اس کے علاوہ کیا تبصرہ کیا جاسکتا ہے کہ ہم پہیے کو آگے کی بجائے پیچھے کی طرف گھمانے کے خبط میں مبتلا ہیں۔
پہیہ آگے بڑھے تو کوئی شخص منزل مقصود پر پہنچ سکتا ہے لیکن شاید ہم ترقی معکوس کے شوق میں مبتلا ہو چکے ہیں اس لیے ہر کچھ عرصے بعد اس ملک میں ایسی لایعنی بحثوں کے لیے گنجائش نکل آتی ہے جس منزل کے حصول کی راہ کھوٹی ہو جاتی ہے۔ صدارتی نظام بلا شبہ دنیا کے مختلف ممالک میں نافذ ہے اور کامیابی سے کارفرما ہے۔ جمہوریت میں دو طرح کے نظام ہائے مملکت پائے جاتے ہیں جن میں پارلیمانی اور صدارتی نظام شامل ہیں۔ پاکستان میں اس وقت 1973 کے آئین کے تحت پارلیمانی نظام رائج ہے جس میں دو فوجی آمروں کے دور میں کی جانے والی ترامیم نے اس آئین کی شکل بگاڑ دی۔
فوجی آمروں کی متعارف کردہ آئین میں کی جانے والی ترامیم کو اٹھارویں ترمیم کے ذریعے ختم کیا گیا اور آئین کو اس کی حقیقی روح کے مطابق بحال کیا گیا۔ پاکستان میں اختیارات کے ارتکاز اور ان کی تقسیم کا قضیہ بہت پرانا ہے۔ بد قسمتی سے پاکستان کی تاریخ حکمرانوں کے ارتکاز اختیارات کے خبط سے بھری پڑی ہے۔ اس ارتکاز اختیارات کے شوق میں حکمرانوں نے آئین سے کھلواڑ سے لے کر ان میں ایسی ترامیم متعارف کرائیں جس نے پورے نظام کی چولیں ہلا کر رکھ دیں۔
پارلیمانی نظام کے حق میں یہ دلیل دی جا سکتی ہے کہ اول یہ اس آئین کے تحت اس ملک میں نافذ ہے جو اس ملک کی ستر کی دہائی میں موجود سیاسی قیادت کے اتفاق رائے سے منظور کیا گیا۔ اس آئین پر اتفاق رائے ایک بہت مشکل امر تھا جسے بڑی مشکلوں سے ممکن بنایا گیا۔ موجودہ آئین اس ملک کی وہ دستاویز ہے جس پر چاروں وفاقی اکائیوں کا مکمل اتفاق ہے اور اس سے انحراف خاکم بدہن وفاق پاکستان کو کمزور کرے گا۔ اس کی مثال ماضی سے دی جا سکتی ہے کہ جب 1956 ء کا آئین تشکیل پایا تو اس میں مغربی پاکستان اور مشرقی پاکستان کی قیادت کا کلی نہیں تو بڑی حد تک اتفاق رائے شامل تھا۔
ایوب خان کے مارشل لاء کے نفاذ کے بعد جب ایک صدارتی نظام پر مشتمل آئین تیار کیا گیا تو اس میں اختیارات کا ارتکاز کر کے مرکز کو مضبوط بنایا گیا اور صوبوں کو اختیارات کے معاملے میں بے دست و پا کر دیا گیا۔ اس صدارتی نظام نے مشرقی پاکستان کو بہت گہری سیاسی محرومی سے دوچار کیا۔ یہ محرومی اس حد تک بڑھی کہ اس نے بنگالیوں کو وفاق پاکستان سے 16 دسمبر 1971 ءسے بہت پہلے فکری طور پر الگ کر دیا تھا۔ اس ملک میں بد قسمتی سے صدارتی نظام کے داعی وہ افراد رہے ہیں جو مطلق العنان حکمرانی کے قائل ہیں۔
ان کے نزدیک اختیارات کی تقسیم سے نظام ہائے ریاست بگاڑ کا شکار ہو رہا ہے۔ فرد واحد کی حکمرانی کے تجربات ہم ماضی میں کر چکے ہیں اور اس کا خمیازہ بھی اندوہناک سانحات کی صورت میں بھگت چکے ہیں۔ یہ ملک نت نئے تجربات کا متحمل نہیں ہو سکتا اس لیے ہمیں پوری یکسوئی سے ملک کو لاحق چیلجنز پر توجہ مرتکز کرنی چاہیے۔ پاکستان پیپلز پارٹی کے مرکزی رہنما رضا ربانی پارلیمانی نظام اور اٹھارویں ترمیم کے خلاف سازشوں پر کھل کر بولتے ہیں۔ ان کا یہ عمل قابل ستائش ہے تاہم انہیں اپنی جماعت کی سندھ میں صوبائی حکومت کو بھی یہ مشورہ دینا چاہیے کہ وہ اپنے صوبے میں بھی اختیارات کی تقسیم کو بھی ممکن بنائیں تاکہ صوبہ سندھ کی ضلعی حکومتیں بھی سیاسی، انتظامی اور مالی طور پر با اختیار ہوں۔ حال ہی میں سندھ بلدیاتی نظام میں ترمیم کی منظوری دی گئی ہے جس کے تحت بلدیاتی اداروں کے سربراہوں کو دو تہائی کی بجائے سادہ اکثریت سے ہٹایا جا سکے گا۔ اس ترمیم کے پس پردہ کراچی اور حیدر آباد کے میئر حضرات کو دباؤ میں رکھنے کی سوچ کار فرما ہے کہ جو ایم کیو ایم پاکستان سے تعلق رکھتے ہیں۔
نواز لیگ بھی بد قسمتی سے اختیارات کی تقسیم کی قائل نہیں اسی لیے اس کے پنجاب میں مسلسل دو صوبائی ادوار میں ضلعی حکومتیں بے اختیار رہیں۔ تحریک انصاف کی حکومت اس وقت وفاق میں قائم ہے۔ وہ اختیارات کی تقسیم کے حوالے سے مخمصے کا شکار ہے۔ اٹھارویں ترمیم کے بعد صوبے مالی اور انتظامی طور پر کافی با اختیار ہو چکے ہیں جس کے باعث وفاق میں موجود حکومت اس طرح صوبے کے معاملات میں اس طرح دخیل نہیں ہو سکتی جس طرح ماضی میں ہوتا رہا ہے۔
تحریک انصاف کی حکومت کے کچھ ”عقاب صفت“ عناصر اس صورت حال کو بدلنے کی سوچ کے حامل ہیں۔ یہ وہی عناصر ہیں جو سابقہ فوجی حکومت میں اختیارات کے ارتکاز کے مزے لوٹ چکے ہیں اور اب اختیارات کی تقسیم کی وجہ سے اپنے احکامات اس طرح صادر نہیں کر سکتے جس طرح ماضی میں کرتے رہے ہیں اس لیے وہ غیر رسمی ملاقاتوں میں صدارتی نظام کے حق میں دلائل سے دیتے پھرتے ہیں۔ صدارتی نظام کی بجائے پارلیمانی نظام میں ہی وفاق پاکستان آگے بڑھ سکتا ہے جس میں تمام صوبوں کے بسنے والوں کا حکومت سازی میں کسی نہ کسی حد تک کردار موجود ہوتا ہے۔ ایک مضبوط مرکز اور بے اختیار صوبوں کا ہم ماضی میں بہت تلخ تجربہ بھگت چکے ہیں۔ دنیا کی مضبوط جمہوریتوں کا خاصہ اختیارات کی تقسیم ہے اور ہم بھی اسی پر کاربند ہو کر آگے بڑھ سکتے ہیں۔ اس لیے ہمیں دل کو پھر ”کوئے ملامت ’کی زیارت سے باز رکھنا چاہیے کہ کہیں ہم پھر خاکم بدہن نامراد نہ ٹھہریں۔


