مہاتما گاندھی : سماجی لاشعور کی تیرگی میں دیے کی لو
تزکیہ نفس کی بات چلی تو ہمیں انسانی جبلت کے ساتھ بندھے ہوئی چند بنیادی باتوں کو سوچنے کی ضرورت پیش آتی ہے کہ جبلی طمانیت کے بغیر تزکیہ نفس کیا معنی رکھتا ہے؟ تزکیہ نفس کی فکر ذاتی سوچ ہے۔ اس کے ذاتی ہونے کے باوجود اس حقیقت سے انکار ممکن نہیں کہ انسان ایک سماجی اکائی ہے اور اس کا معاشرے کے ساتھ رشتہ اٹوٹ ہے۔ اس مقام پر فکر کے ذاتی خد وخال، معاشرتی رہن سہن کے ساتھ جڑنے لگتے ہیں۔ سو سمجھنے کی کی خاطر ہمیں سگمنڈ فرائڈ کے کچھ افکار کی ضرورت ہو گی۔ فرائڈ نے بے شک انسان کی انفرادی نفسیات کے بہت سے پردے چاک کیے ہیں مگر فرائڈ انسان کی جبلت کو باریک بینی سے معاشرے کے تناطر میں دیکھتا ہے۔
فرائڈ کے نزدیک انسان اور معاشرے کا رشتہ معاونت کا نہیں، یہ ایک مخالفت کا رشتہ ہے۔ فرائڈ کے مطابق انسان کی جبلت کی بے محابہ تسکین کا عمل معاشرے کی باہمی صحت کے لئے قابل عمل نہیں۔ اس لئے معاشرہ جبلت پر پابندی لگا کے رکھتا ہے۔ یہ پابندی انسان کی ذاتی رضا نہیں۔ اس معاشرتی پابندی کو سپریشن کہتے ہیں۔ ایسی غیر فطری پابندیوں کے مضر اثرات سے بھی انکار نہیں اور اسی وجہ سے معاشرہ پابندیوں کو نئی نئی شکلوں میں ڈھالنے دینے کی کوشش کرتا رہتا ہے جو قابل عمل بھی ہوں اور جن کی وجہ سے پابندی کے مضر نفسیاتی اثرات سے بچاؤ بھی ممکن ہو۔
یوں ذاتی پابندی جبلی سطح سے اوپر اٹھ کر معاشرتی طور پر کارآمد رویے یا سبلی میشن میں تبدیل ہو جاتی ہے اور کلچر اس نئے معاشرتی رویے کی طنابیں سنبھال لیتا ہے۔ یہ ساری بات دراصل اندرون ذات کی خواہشات اور ضروریات کو قابل قبول اور قابل عمل معاشرتی رویوں کی کٹھالی میں ڈھالنے کی سعی ہے۔ اس طرح سے فرائڈ انسان اور معاشرے میں توازن کی تشریح کرتا ہے۔
گاندھی کے یہاں عدم تشدد کی روایت کے فروغ میں جبلی رجحانات سے پرہیز اہم بات سمجھی جاتی ہے۔ بات صرف اتنی سی ہے کہ گاندھی نے جبلی ”سپریشن“ کو ”سبلی میشن“ کے ذریعے بہتر معاشرے کے قیام کے ساتھ وابستہ کر دیا ہے۔ اور سیاسی رویے اور سیاسی جد و جہد کو بقائے باہمی کی روایت میں بدلنے کی بات کی ہے اور اس کے واسطے ستیہ گرہ کا پیمانہ وضع کیا ہے جو ہر حال اور ہر صورت میں سچائی کے ساتھ اپنے اندر اور باہر کی دنیا کا صاحب راز بننے کی تعلیم پر مبنی ہے۔
نفسیات کے علم میں جیسے تحلیل نفسی کا عمل ہے جو بہت انفرادی ہے۔ اس میں مریض یا عام انسان اور اس کے ڈاکٹر کے درمیان رشتے کی نوعیت سچائی پر مبنی ہوتی ہے اور اسی سلسلے کی دوسری شرط یہ ہے کہ ڈاکٹر مریض کو کسی بھی مذہبی نیکی بدی کے نقطہ نظر سے نہیں دیکھے گا۔ اس کے بر عکس مسیحی سلسلے میں ”کنفشن“ یک طرفہ راستہ ہے اور نیکی بدی اور جزا سزا کے مذہبی خیالات سے بندھا ہوا ہے۔ یہ بدی یا جرائم کی واقعاتی ذمہ داری تک کی بات ہے مگر ان کے نفسیاتی محرکات کی آگاہی کے معاملے میں ناکام ہے جن کی وجہ ناپسنددیدہ واقعات رونما ہوتے ہیں۔
تحلیل نفسی مریض کے اندرون ذات کی صفائی ہے تا کہ مریض کے لاشعور کی تاریکی میں جس سے وہ خود بھی ڈرتا ہے وہاں تک روشنی پہنچ سکے تا کہ وہ لاشعور کی تاریکی میں پناہ ڈھونڈنے کی بجائے شعور کی روشنی میں کشف ذات اور حقیقت سے آگاہی حاصل کرے اور اپنے اندر چھپے خوف سے نجات پائے۔ گاندھی سچ کے بارے یہی پیمانہ استعمال کرتے ہوئے فکر و نظر کو سماجی سیاہ بختی کے ادراک کا وسیلہ گردانتے ہیں۔ یوں بقول ایرک ایرکسن، فرائڈ اور گاندھی کے درمیان ایک مماثلت ہے جو انسانی ذہن کے تاریک گوشوں کی نقیب ہے۔
گاندھی کے فکر و عمل کا کینوس بہت وسیع ہے۔ یہ ایک بہت بڑا سماجی کینوس ہے جس کی تحلیل نفسی عملی طور پر مشکل کام ہے۔ اس مشکل کی بناء پر گاندھی کے اپنے زمانے میں سیاسی محاذ پر کئی مرتبہ تشدد پھوٹ پڑنے کے باوجود اور گاندھی کو سیاسی عمل میں بہت سی جگہوں پر ناکام ہونے کے باوجود، اس وجہ سے نظر انداز کرنا ناممکن ہے کہ انہوں نے سیاست کے مطالعے اور میدان عمل میں ایک نئی تھیوری کا اضافہ کیا ہے۔ انسانی تا ریخ جو سیاسی تنازعات کے حل کے لئے تشدد کی تاریخ ہے، اس میں گاندھی کی 1931 سالٹ مارچ کی تحریک کا ذکر ضروری ہے۔

سالٹ مارچ کی عدم تشدد اور عدم تعاون کی یہ تحریک گاندھی کی اپنی سیاسی تاریخ میں کامیابی کی شاید واحد ٹھوس مثال ہے جس میں سیاسی عمل کار بلا خوف و خطر ایک ایک کرکے آگے بڑھتے رہے اور حکومتی تشدد کا جواب تشدد سے دینے کی بجائے زخمی ہو کر گرتے رہے مگر سیاسی مزاحمت کی انسانی تاریخ میں اخلاقیات کا ایک نیا باب رقم کر گئے۔ اور ان کی تھیوری کی کامیابی کی دلیل یہ ہے کہ انگریز کی حکومتی طاقت پر اخلاق کی طاقت نے فتح پائی۔
عدم تشدد کے اسی سبق کی مثالیں ہمیں بیسویں صدی میں مارٹن لوٹھر کنگ کی امریکہ میں سول حقوق کی جد وجہد میں اور اس کے بعد گاندھی کے پچھلے وطن جنوبی افریقہ میں نسل پرستی کے اختتام کے بعد کی تاریخ میں ملتی ہیں۔ جب نیلسن منڈیلا کے ہاتھ ملکی معاملات کو نئے سرے سے اسطوار کرنے کا موقع آیا تو سچائی اور رواداری کمشن سے ذریعے پرانی دشمنیاں امن کے ذریعے چکانا ممکن ہوا۔ سیاست میں عدم تشدد اور رواداری کے یہ ثبوت جس سیاسی اور معاشرتی تھیوری کی وجہ سے بہم پہنچے اس کی خشت اول گاند ہی کے فکر کی دین ہے۔
اس جگہ بہت سے نئے سوال جنم لیتے ہیں مگر ایک اہم سوال جو کسی نے گاندھی جی کیا تھا کہ آپ کی عدم تشدد کی تعلیم بجا سہی مگر وہ جہاز جو آپ پر دور سے بم گرا کر آپ کو نیست و نابود کرنا چاہتا ہے، اس بارے میں آپ کیا کہیں گے؟ اس سوال کی جو اہمیت مہاتما گاندھی کے زمانے میں تھی، آج اس سے بھی زیادہ ہو چکی ہے۔ جواباً گاندھی نے اپنے عدم تشدد کے اصول پر کاربند رہنے پر اصرار کیا اور کہا کہ فنا ہو کر عدم تشدد کی اخلاقی قوت کی علامت میں ڈھل جانا تشدد کے طور اطوار کو جاری رکھنے سے بار ہا بہتر ہے۔
ان کا یہ جواب ہماری حسیات جو طاقت کا جواب طاقت سے دینے کی عادی ہیں، ان پر گراں گزرتا ہے اور غیر منظقی معلوم ہوتا ہے۔ مگر اس کو سمجھنے کے لئے ہمیں پھر سے مذہب اور نفسیات کی جانب رجوع کرنا ہو گا مگر یہ ذہن نشین رہے کہ انہوں نے کہا تھا کہ اگر آنکھ کے بدلے آنکھ کا انصاف پر مبنی اصول لاگو کیا جائے تو دنیا کے تمام انسان اندھے اور کانے ہو جائیں گے۔
زندگی کی رنگا رنگی سے منور حسیات کے دائرے میں موت ایک خوف ہے جسے دنیا کے ہر کلچر اور تہذیب نے سمجھا بھی ہے اور اس خوف سے نجات کی راہیں تلاش کرنے کی کوشش بھی کی ہے۔ پرانے مصر میں آگے کا سفر اس دنیا کے پورے لوازمات کے ساتھ کرنے میں عافیت سمھجی جاتی رہی ہے۔ اسلام اور مشرق وسطیٰ کے دیگر مذاہب میں حیات بعد از موت ہے اور ہندو نظام فکر میں آخری نجات سے پہلے بار بار نئی زندگی کا تصور ہے۔ اس نظریہ کے مطابق انسان اس دنیا میں اپنی ذات سے اوپر اٹھ کر اچھے عمل سے آگے کا راستہ آسان کرتا ہے اور مذہبی آدمی شہادت میں اپنی مکتی تلاش کرتا ہے۔
بات دراصل موت کی نہیں زندگی کو بہتر کرنے کی ہے۔ تاریخ گواہ ہے کہ انا الحق کا نعرہ لگاتے ہوئے کئی منصو ناچتے گاتے دار پر جھول جاتے ہیں۔ اور وہ انقلابی جو اپنے آئیڈیل کی خاطر جان دے دیتا ہے، وہ ضرور سوچتا ہے کہ اس کا ہاتھ کتنے ہی ایسے ”ہاتھوں سے ہم آغوش“ ہے جو زندگی کے خواب دیکھتے ہیں۔ آج تک کس سورما نے موت کو شکست دی ہے۔ زندگی کی ساری راہیں جسمانی موت کے گھاٹ کی جانب رواں دواں ہیں۔ مہاتما گاندھی کی عدم تشدد کی راہ بھی انہیں راہوں میں سے ایک ہے مگر امن و آشتی کی راہ میں موت حیات نو کی امید ہے۔
بلا سے ہم نہ دیکھا تو اور دیکھیں گے // فروغ گلشن و صوت ہزار کا موسم۔ا

