عمران خان عقبی دروازے سے قومی اسمبلی میں آئے تاکہ شہبازشریف سے ہاتھ نہ ملانا پڑے


مسلم لیگ (ن) کے رہنما اور سابق وزیر دفاع خرم دستگیر نے کہا ہے کہ وزیراعظم عمران خان کواپوزیشن کے ساتھ بڑے دل کا مظاہرہ کرنا ہوگا کیونکہ ان کے وزرا پارلیمنٹ میں بدکلامی اور بدتہذیبی سے ماحول خراب کرتے ہیں۔

نجی ٹی وی سے گفتگو کرتے ہوئے خرم دستگیر نے کہا کہ پارلیمنٹ میں ماحول حکومتی وزرا کی بدکلامی اور بدتہذیبی کی وجہ سے خراب ہوا ہے۔ جن لوگوں نے پارلیمنٹ کے باہر 126 دن دھرنا دیا اور گیلی شلواروں کی باتیں کیں، پی ٹی وی پر ڈنڈا بردار افراد سے قبضہ کیا، پارلیمان کے جنگلے گرا کر حملہ آور ہوئے، وہ آج ہمیں اخلاقیات کا بھاشن دیتے ہیں ۔

انہوں نے کہا کہ حکومت کو سوچنا ہوگا کہ وہ پارلیمان کو کس طرف لے کر جا رہے ہیں کیونکہ مسلم لیگ (ن) عوامی نیشنل پارٹی، متحدہ قومی موومنٹ، پیپلز پارٹی اور جے یو آئی کی کوشش ہے کہ احسن طریقے سے معاملات کو آگے بڑھایا جائے۔ اگر شہباز شریف نے عمران خان کو سلیکٹڈ وزیراعظم بولا تو پھر کڑوا سچ سننے کا حوصلہ رکھنا چاہیے

خرم دستگیر نے کہا کہ چوبیس جنوری کو جب وزیراعظم ایوان میں داخل ہوئے تو وہ نشستوں کے اندر سے اپنی کرسی کی جانب گئے تاکہ شہباز شریف سے ہاتھ نہ ملانا پڑے۔ اب عمران خان لیڈر آف ہاؤس ہیں۔ انہوں نے اس ایوان کو چلانا ہے تو بڑے دل کا مظاہرہ بھی کرنا ہو گا۔

Facebook Comments HS