سوری جی! غلطی سے مسٹیک ہو گئی
بھولا جب پیدا ہوا تو اس کا وزن پیدائش کے وقت ہی سات کلو کا تھا۔ وہ اپنے گاؤں کا پہلا بچہ تھا جو آپریشن سے ہوا۔
بھولے کے نقوش نہایت ہی عجیب تھے۔ جب بھولے کے نقوش پر زیادہ بات ہوتی تو بھولے کی ماں بات کاٹ دیا کرتی۔ بھولا صرف اس لیے بھولا کہلاتا تھا کیونکہ اس کی ماں کو وہ بھولا لگتا تھا۔
حقیقت میں تو بھولا اپنے نام کا الٹ تھا۔ ماں باپ کا اکلوتا بیٹا تھا وہ بھی پانچ لڑکیوں کے بعد۔ چودہری صاحب بھولے کے لیے کچھ بھی کرنے کو ہر گھڑی تیار رہتے۔ بھولا سیاہ رنگ، موٹے نقوش والا ایک بھینس نما بچہ تھا۔ وہ پانچ برس کی عمر میں دس برس کا لگتا، جوانی بھی بھولے پہ تیزی سے چڑہی، وہ صبح شام میں بڑھتا۔
خالص دیہاتی خوراک وہ دونوں ہاتھوں سے نگلتا، اس کے ساتھ کے بچے اس سے خوف زدہ ہو کر بھاگ جاتے۔ بھولا علاقے کے بچوں کے لیے خوف اور دہشت کی علامت تھا۔ جب وہ علاقے میں گھوم پھر رہا ہوتا تو لڑکیاں تو دور، وہ لڑکوں کو بھی چھیڑا کرتا۔
بھولے کی پیدائش کے بعد سے چودہری صاحب کے مال و اسباب میں تیزی سے اضافے ہوئے۔ بڑے منافع والے قرضے اور نا جانے کون کون سے ایسے پیشے کہ چودہری دن دگنی رات چوگنی ترقی کرتا اپنے علاقے کے امیر ترین لوگوں میں شامل ہو گیا۔
چودہری صاحب شراب و شباب کے رسیا تھے۔ بھولا بھی اس معاملے میں باپ پہ تھا ۔ جو کام باپ نے آدھی زندگی گزار کے کیا بھولا وہ پندرہویں سالگرہ تک کر گیا۔
دولت کا گھمنڈ، طاقت کا سرور اور جسمانی قوت کا تکبر بھولے کے جسم کی حرارت تھا۔ چودھری پہلے ایک چھوٹے درجے کا جاگیر دار تھا آہستہ آہستہ وہ تحصیل اور پھر ضلع کے لیول تک گیا۔ پھر سیاست نے اس کو جیسے نظر نہ آنے والے” پر” ہی عطا کر دیے ۔ چھوٹی چھوٹی سیڑھیاں چڑھتے اب وہ وزارت تک پہنچ گیا۔
سیاہ شیشے والی نئے ماڈل کی لینڈ کروزر میں جب بھولا پہلی بار ابا جی کو انتخابات میں کامیابی حاصل کرنے کے بعد اپنے ساتھ لایا تو فخر و تکبر سے اس کا سینا اور بھی چوڑا ہو گیا۔
اس رات حویلی میں بڑی دعوت کا انتظام کیا گیا۔ شہر سے ماڈرن قسم کی نائیکہ جوان اور شہری لڑکیوں کے ساتھ آئیں۔ بھولے نے اپنے تمام دوستوں کو بھی خوش کیا۔
اب بھولا اپنے علاقے میں خوف کی علامت بن چکا تھا وہ جب اپنی گاڑی میں گزرتا لوگ دور سےہی ڈر جاتے۔ گائوں کی سب ہی لڑکیاں بھولے کو دیکھ کر ایسے چھپ جاتیں جیسے باؤلے کتے کو دیکھ لیا ہو۔
ایک روز بھولے کو گھڑسواری کا شوق چڑھا ، اب دو سو کلو وزنی ہاتھی کے سے وجود والے کو گھوڑے پہ بیٹھانا ایک امتحان تھا۔ ایسے میں ایک غریب کمی کو حکم ملا کہ سرکار کے لیے سیڑھی بنے۔ تاکہ وہ اس پہ اپنا قدم رکھ کے گھوڑے کی سواری کر سکیں۔
غریب کمی خاموشی سے جھک گیا۔ بھولے نے اس کی کمر پہ جیسے ہی پیر رکھا، اس بیچارے کی ریڑھ کی ہڈی ہی ٹوٹ گئی۔ وہ درد سے تڑپنے لگا۔ باقی سب بھی اس کی حالت دیکھ کر لرز گئے۔
اسے لمحے بھولے نے اپنی بندوق اٹھائی، نشانہ لگایا اور تڑپتے ہوئے کمی کو گولی مار دی۔ ایک لمحہ کا سناٹا ہوا۔ پھر زوردار قہقہہ لگاتا بھولا فیل مست سی چال چلتا روانہ ہو گیا۔
اس واقعے کی اطلاع جب چودہری صاحب تک پہنچی تو وہ لرز اٹھے کہ بھولے یہ تو نے کیا کر دیا؟
بھولا ۔ وہ تو مر ہی رہا تھا میں نے اس کا کام آسان کر دیا۔
بھولے کو پھر اس طرح کے ایڈوینچر کا چسکا ہی لگ گیا۔ کوئی سولہ سال وہ یوں ہی کچلتا روندتا رہا۔ پھر ایک روز اس کا باپ مر گیا اور بھولے کے پیسے اب اتنے نہیں رہے تھے کہ وہ ایک حد سے زیادہ عیاشی کر سکے صحت بھی وقت کے ساتھ خراب رہنے لگی تھی۔ پھر گھر کی ذمہ داری نے رہی سہی طاقت بھی ختم ہی کر دی تھی۔ ایک روز اس نے علاقہ چھوڑنے اور بچوں کے اچھے مستقبل کے لیے دوسرے ملک جانے کا فیصلہ کیا۔
جانے سے کوئی دو روز پیشتر اس نے اپنے مشیر خارجہ سے اعلان کروایا کہ
بھائیو! غلطی سے مسٹیک ہو گئی تھی! وہ جسے میں نے کتا سمجھ کے مار دیا تھا، وہ میرا کمی تھا۔ ایک اچھا نوکر اور ایک اچھا باپ تھا۔ تو ایسا ہے کہ اگر اس کے خاندان میں کوئی زندہ ہے تو بھائی” دیت” کے پیسے لے جاؤ۔


