جمہوریت بہترین انتظام ہے

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

ایک زمانے میں آصف زرداری بڑے دھڑلے سے کہا کرتے تھے کہہ جمہوریت بہترین انتقام ہے۔ اسی زمانے میں بزرگ یہ فرماتے تھے کہ بری جمہوریت کا علاج مزید جمہوریت میں پوشیدہ ہوتا ہے۔ الیکشن سے پہلے ہمیں بھی بہت شوق تھا کہ اس ملک میں خوب جمہوریت پنپے۔ عوام کے ووٹ کو توقیر ملے۔ سول بالادستی کا نعرہ بلند ہو۔ دو جمہوری ادوار جیسے تیسے گذر گئے ہیں اب تیسرا دور آئے گا اور پھر راج کرے گی خلق خدا وغیرہ وغیرہ۔ لیکن بدقسمتی سے اس نام نہاد دور جمہوری نے ذہن سے پارلیمان کی بالا دستی کا سارا فتور ہی ختم کر دیا۔ عوام کے مینڈیٹ کی حرمت والا سارا خناس ہی ختم کر دیا۔ اب اس دور میں جمہوریت ایک نظام نہیں ہے یہ ایک ڈھال ہے جس کے پردے میں مطلق العنانیت جلوہ افروز ہے۔ جس کی آڑ میں آمریت قہقہے لگا رہی ہے۔
اگر تیسرے جمہوری دور میں اقتدار کی منقلی کے لیے انتخابات متنازع نہ ہوتے، الیکشن سے پہلے میڈیا پر پانچ سال تک کرپشن، غداری اور کفر کے فتوے نہ لگتے ۔ دھونس اور دھانلی سے الیکٹیبلز کو ایک نو آموز پلیٹ فارم پر اکھٹا نہ کیا جاتا، سیاسی جماعتوں کی قیادت کی برسرعام پکڑ دھکڑ نہ شروع کی جاتی، الیکشن میں انتخاب منصفانہ ہوتا، فارم پینتالیس میسر ہوتا، دھاندلی کو ریکارڈ کرنے والے کیمرے چل رہے ہوتے، آر ٹی ایس مبینہ طور پر کام کرنا چھوڑ نہ دیتا، انتخابات کے بعد متنازع حلقوں کی ری کاونٹنگ کی اجازت دے دی جاتی، اپنی مرضی کے نتائج حاصل کرنے کے لیئے نتائج میں تعطل نہ ہوتا۔ نامعلوم اشاروں پر چھوٹی چھوٹی جماعتوں کو اکھٹا کر کے الا ئنس نہ بنائے جاتے، ووٹنگ کی رفتار کو حد سے زیادہ سست نہ کیا جاتا تو ہم اس حکومت اور اس اسمبلی پر ایمان لاتے اور جمہوریت کے سفر کے ایک اور مرحلے کو صدق دل سے قبول کرتے۔
اس سارے عمل میں جو کچھ ہوا، ایسا نہیں کہ کسی کو اس کا علم نہیں ہے۔ سب جانتے ہیں کہ کیا ہوا ہے؟ کیسے ہوا ہے؟ کب ہوا ہے؟ کس نے کیا ہے؟ المیہ یہ ہے کہ اس سب کے بارے میں کسی کو کچھ کہنے کی جرات نہیں۔ ایوان لوٹوں سے بھر دیا گیا ہے، میڈیا اس معاملے پر خاموش تماشائی بنا کھڑا ہے۔ سچ بولنے والوں کو نوکریوں کے لالے پڑے ہوئے ہیں۔ نظام کی قلم سے حفاظت کرنے والے اب بچوں کی فیسوں کے لیئے ادھار پکڑ رہے ہیں۔
اب صورت حال یہ کہ جمہوریت کا نعرہ بلند کرنے والوں کے لیے یہ لفظ طعنہ بنا دیا گیا ہے۔ نیب سے غلط فیصلوں کا پوچھیں تو کہتے ہیں کہ جمہوریت ہے اور اس میں ایسا ہی ہوتا ہے۔ عدالتوں کے متنازع فیصلوں کی بات کریں تو جواب ملتا ہے کہ جمہوریت ہے، اس میں ہمارا کیا قصور ہے۔ غیر جمہوری اداروں کی پاریلمانی امور میں مداخلت پر بات کریں تو سب جمہوریت کی ڈھال کے پیچھے چھپ جاتے ہیں۔ عثمان بذادر کی نااہلی کا ذکر کریں تو جمہوریت کا طعنہ دیا جاتا ہے۔ کہتے ہیں زہر سے ہی زہر کو مارا جاتا ہے۔ اسی جمہوریت کے لیئے لوگ قربانیاں دیتے تھے اسی کے لیے پھانسی پر لٹکتے تھے، اسی کی خاطر کوڑے کھاتے تھے، اسی کے نام کے نعرے لگاتے تھے، اس کی خاطر ملک بدر ہوتے تھے اور ایسے تمام فتنہ پردازوں کے لیے یہی جموریت ایک کلنک کا ٹیکہ بنا دی گئی ہے۔
وہ جو آصف زرادری کہا کرتے تھےکہ جمہوریت بہترین انتقام ہے وہ کسی اور زمانے اور ملک کی باتیں ہوں گی۔ اب جو جمہوریت ہمارے ہاں نافذ ہے یہ اگر کسی سے انتقام لے رہی ہے، وہ پاکستان کے عوام ہیں۔ جمہوریت پسند ہے۔ عوام کی بالادستی کا نعرہ بلند کرنے والے ہیں۔ ووٹ کو عزت دو کا مطالبہ کرنے والے ہیں۔
اب جو کچھ ہو رہا ہے اس کا نام ضرور جمہوریت ہے مگر نام سے کیا فرق پڑتا ہے۔ اب وہی دور آمریت ہے، اب وہی سیاسی جماعتوں کے خلاف انتقام کی صورت ہے ، اب پھر آزادی اظہار پابند سلاسل ہے۔ وہی سیاسی قیادت سے انتقام ہے جو آمریت کے ادوار کی روایت ہے۔
اس دور تاریک کا المیہ یہ ہے کہ سسک سسک کر جہاں جمہوری اداروں نے اپنی جگہ بنانا شروع کی تھی وہ جگہ پھر مقبوضہ ہو چکی ہے۔ ہم مقبوضہ جہموریت، مقبوضہ میڈیا اور مقبوضہ پارلیمان کے دور میں جی رہے ہیں۔ یہ دور ایسا ہے جہاں سانس لینے کے لیے بھی اجازت چاہیے، جہاں بات کہنے کے لیے بھی اذن درکار ہے۔ جہاں سوال کرنے کے لیے جان پر کھیلنا مقدر ہو گیا ہے۔ جہاں لفظوں، خوابوں اور آوازوں پر پابندی ہے۔ جمہوریت پسند ایک دوجے کا منہ تک رہے ہیں۔ ہکا بکا ایک دوسرے کو دیکھ رہے ہیں کہ وہ انتظار تھا جس کا یہ وہ سحر تو نہیں۔
اب میاں صاحب چاہے جیل میں عوام کے ووٹ کی عزت کا نعرہ لگائیں، یا آصف زرادری بے نظیر بھٹو اور ذوالفقار علی بھٹو کی قربانیوں کی مثالیں دیں۔ اس سے کوئی فرق نہیں پڑتا۔ اب ایک نیا جمہوری دور ہے جو دراصل جمہوریت کا لبادہ ہے ۔ جس کے پیچھے وہی قوتیں خندہ زن ہیں جو ماضی میں بھِی آئین کی بے توقیری کر چکی ہیں۔۔ اب جمہوریت اس ملک میں نہ نظام ہے، نہ انتقام ہے اب یہ بس ایک مخصوص حلقے کے لیئے بہترین انتظام ہے۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

عمار مسعود

عمار مسعود ۔ میڈیا کنسلٹنٹ ۔الیکٹرانک میڈیا اور پرنٹ میڈیا کے ہر شعبے سےتعلق ۔ پہلے افسانہ لکھا اور پھر کالم کی طرف ا گئے۔ مزاح ایسا سرشت میں ہے کہ اپنی تحریر کو خود ہی سنجیدگی سے نہیں لیتے۔ مختلف ٹی وی چینلز پر میزبانی بھی کر چکے ہیں۔ کبھی کبھار ملنے پر دلچسپ آدمی ہیں۔

ammar has 178 posts and counting.See all posts by ammar