مجھے منظور پشتین پر اعتبار کیسے آیا؟
پی ٹی ایم کے سربراہ منظور پشتین کے بارے میں میرے خیالات اچھے نہیں تھے. گزرے روز اس کی کسی تقریر کا ایک کلپ کسی دوست نے بھیجا، سنا تو پندرہ برس قبل کا ایک منظر میری آنکھوں کے سامنے آ گیا .
انسان میں تجسس کا مادہ پایا جاتا ہے اگر کوئی چیز اس کے دماغ میں کلک کر جائے تو اُس کے ذہن میں کیوں، کیسے، کہاں اور کب جیسے سوالات سر اُٹھاتے ہیں۔ پھر وہ ان کے جوابات کی تلاش میں نکل پڑتا ہے
میرے گاؤں کے ساتھ والے گاؤں کا ایک آدمی جب بازار میں آتا تو لڑکے بالے اُسے دیوانہ سمجھ کر پتھر مارتے۔ نام اُس کا عبدالرشید تھا اور وہ عبدالقادر بتاتا تھا۔ مجھے تجسس ہوا اور یہ جاننے کی کوشش کی کہ یہ اپنا نام غلط کیوں بتاتا ہے؟ اس کے ساتھ ایسا کیا ہوا کہ اپنا ذہنی توازن کھو بیٹھا؟
اس کے بارے میں مجھے جو معلومات ملیں، انہوں نے مجھے ہلا کر رکھ دیا۔ اب سے پندرہ سال قبل یہ شخص ساٹھ کے پیٹے میں تھا اور اپنی زندگی کا سنہرا دور اس نے اپنے خاندان سے کہیں بہت دور گزارا تھا۔
یہ ستر کی دہائی کا واقعہ ہے کہ وہ اپنے گھر سے رات کے اندھیرے میں غائب ہو گیا ۔ خاندان والوں نے اپنی بساط کے مطابق اسے ڈھونڈنے کی ہر جگہ کوشش کی مگر وہ ایسا غائب ہوا کہ پتہ نہیں چل رہا تھا کہ زمین کھا گئی یا آسمان ۔ سال گزرتے رہے۔ خاندان کی تلاش کی سرگرمیاں ماند پڑ گئی۔ اس کی بیوی اپنا ذہنی توازن کھو بیٹھی۔ بچے دربدر ہو گئے کیونکہ ان کا کوئی پرسان حال نہیں رہا تھا۔
عبدالرشید تیس سال بعد واپس لوٹ آیا۔ مگر وہ جب واپس آیا تو اس کا ذہنی توازن بگڑا ہوا تھا۔ وہ خالی خالی آنکھوں سے خلا میں دیکھتا اور اپنا نام عبدالقادر بتاتا تھا۔ وہ گھر سے غائب نہیں ہوا تھا بلکہ اُسے اُٹھایا گیا تھا اور الزام یہ لگایا گیا تھا کہ یہ ملکی مفادات کے خلاف کام کرتا ہے ۔ اس پر اتنا ٹارچر کیا گیا کہ وہ پاگل ہو گیا۔ وہ اپنی زندگی کے تیس سالوں کا حساب کس سے مانگتا؟ اس کے خاندان والے لب کشائی کرتے تو انھیں خاموش کروا دیا جاتا۔
گمشدگی کے عرصے میں اس کی بیوی پاگل ہوگئی۔ بچے جوان ہو گئے مگر وہ بچے باپ کی شفقت سے محروم رہے ۔
لاپتہ ہونے والے افراد کا درد ان کے اپنے عزیز ہی جان سکتے ہیں جو روز جیتے اور روز مرتے ہیں ۔ پاکستان میں جبری گمشدگیوں کے حوالے سے گزرے سال میں سب سے زیادہ شکایات سامنے آئیں۔
2015 ء میں 649 جبکہ دو ہزار سولہ میں 728، 2017ء میں 868 اور گزرے سال یعنی دو ہزار اٹھارہ میں 899 افراد لاپتہ ہوئے۔ یہ رپورٹ اس کمیشن کی ہے جو لاپتہ افراد کے بارے میں انکوائری کر رہا ہے اور اس کے چیئرمین نیب کے موجودہ سربراہ جسٹس جاوید اقبال ہیں ۔
جسٹس جاوید کا کہنا ہے کہ جبری گمشدگیوں کے واقعات میں فوج اور ملکی ادارے ملوث نہیں۔ اصل میں غیر ملکی ادارے ملوث ہیں جو لوگوں کو لاپتہ کرتے ہیں تاکہ پاکستان کی فوج اور ملکی سلامتی ادارے بدنام ہوں ۔
سوال پیدا ہوتا ہے کہ ستر کی دہائی میں عبدالرشید کو اُٹھانے والے کون تھے؟ ستر کی دہائی میں تو پاکستان کے اندر غیر ملکی اتنی تعداد میں نہیں تھے۔ سوال تو یہ بھی ہے کہ اگر پاکستان کے شہریوں کو لاپتہ کرنے میں غیر ملکی اداروں کا ہاتھ ہے تو لاپتہ افراد کے لئے آواز اٹھانے پر ریاست پاکستان کیوں غضب آلود ہوتی ہے؟
حکومت کے اہم اتحادی بلوچستان نشنیل پارٹی کے سربراہ سردار اختر مینگل کا کہنا ہے کہ بلوچستان سے گمشدہ افراد کی تعداد پانچ ہزار کے قریب ہے۔ یہ وہ لوگ ہیں جو دس برس سے لاپتہ ہیں۔ سردار اختر مینگل خود اس کرب سے گزر رہے ہیں۔ گزشتہ چالیس سال سے وہ اپنے لاپتہ بھائی کی تلاش میں سرگرداں ہیں۔
سردار اختر مینگل کے بڑے بھائی اور سردار عطاءاللہ مینگل کے بیٹے اسد مینگل کو بھی ستر کی دہائی میں اُٹھا لیا گیا تھا۔ اس دور کو پاکستان میں جبری گمشدگیوں کا آغاز سمجھا جاتا ہے
منظور پشتین کی باتیں سن کر مجھے عبدالرشید کا خاندان یاد آ گیا کیونکہ منظور پشتین کی باتوں میں صداقت ہے ۔
اگر یہ بات مان لی جائے کہ لاپتہ ہونے والے افراد ملکی مفادات کے خلاف کام کرتے ہیں تو انھیں پاکستانی عدالتوں کے سامنے پیش کیا جائے جہاں وہ اپنا دفاع پیش کر سکیں۔ اگر وہ گہنگار ہوں تو انھیں آئین اور قانون کے مطابق سزا دی جائے۔ اگر وہ بے گناہ ہیں تو انھیں رہا کیا جائے تاکہ ان کے پیاروں کا وہ کرب ختم ہو جس سے وہ ہر روز گزر رہے ہیں ۔


