کیمپ جیل سے آصف ہاشمی کا جسٹس (ریٹائرڈ) ثاقب نثار کے نام کھلا خط
پاکستان پیپلز پارٹی کے رہنما اور متروکہ وقف املاک بورڈ کے سابق چیئرمین سید آصف ہاشمی نے کیمپ جیل لاہور سے سپریم کورٹ کے سابق چیف جسٹس میاں ثاقب نثار کے نام ایک کھلا خط لکھا ہے جو من و عن پیش ہے۔ سید آصف ہاشمی کو حکومت پاکستان نے اقلیتوں کے لئے خدمات سرانجام دینے پر 2013ء میں سِول ایوارڈ ستارہ امتیاز سے بھی نوازا تھا۔
جناب ثاقب نثار صاحب!
مورخہ 17 جنوری 2019ء کو ملک کے مختلف اخبارات میں آپ کا بیان بڑھا جس میں آپ نے کہا کہ بطور چیف جسٹس آف پاکستان مجھ سے کسی کی دل آزاری ہوئی تو معذرت کرتا ہوں، معاف کردیں! جناب ثاقب نثار صاحب پہلے تو دیکھنا پڑے گا کہ آپ نے جو ظلم اور زیادتیاں کی ہیں وہ قابل معافی ہیں یا نہیں؟ اس پر آپ بھی غور کریں اور ہم بھی غور کرتے ہیں۔ آپ نے بطور چیف جسٹس جو حلف اٹھایا تھا کیا آپ نے حلف اٹھاتے وقت یہ وعدہ نہیں کیا تھا کہ میں اپنے فرائض منصبی دیانت داری اور ایمانداری سے ادا کروں گا؟
جناب ثاقب نثار صاحب!
آپ عزت مآب سپریم کورٹ آف پاکستان کے چیف جسٹس تھے۔ آپ نے مجھے دبئی سے بلاتے وقت وعدہ کیا تھا کہ مجھے گرفتار نہیں کیا جائے گا آپ کا موقف سنا جائے گا۔ آپ کے ساتھ انصاف کیا جائے گا۔ نہایت افسوس کی بات ہے کہ آپ نے اپنے عظیم عہدے اور سپریم کورٹ کے تقدس کو پامال کردیا اور مجھے بات کرنے کا موقع نہیں دیا گیا اور میرا کوئی موقف نہیں سنا گیا۔ آپ نے تکبر میں آکر مجھے سنے بغیر فوری گرفتار کرا دیا۔
جناب ثاقب نثار صاحب! میں آپ کے حکم پر حسب وعدہ فوری آپ کے پاس حاضر ہوگیا۔ میں نے پوری کوشش کی کہ پاکستان آکر اپنے مقدمات کی پیروی کروں لیکن باوجود کوشش کرنے کے مجھے پاسپورٹ نہیں مل سکا۔ میرے والد محترم کا انتقال ہوا، اُس وقت بھی مجھے پاکستان آنے کی اجازت نہیں دی گئی، پاسپورٹ نہیں ملا۔ میری عدم موجودگی میں میرے خلاف سیاسی جھوٹے مقدمات کا یک طرفہ فیصلہ سنایا گیا جن میں کوئی صداقت نہیں تھی۔ کوئی کیس ایسا بھی نہیں جو کہ میری موجودگی میں پاکستان میں ہوتے ہوئے سنا گیا ہو۔
جھوٹے کیس میں انٹرپول کو میرے ریڈ وارنٹ جاری کئے گئے۔ انٹرپول نے پاکستان سے پوری تحقیق کر کے پاکستان کے اس اقدام کے خلاف 68 پوانٹس بنائے اور میرا ریڈ وارانٹ ختم کردیا۔ میں نے ہمیشہ عدالتوں کو ماں باپ کا درجہ دیا ہے۔ آپ اپنے ضمیر سے پوچھیں کہ کیا آپ نے اپنے وعدے، اپنے حلف اور سپریم کورٹ کے تقدس کا بھرم نہیں توڑ دیا؟ حالانکہ یہ بات کرسٹل کلیئر ہے اور کسی بھی فورم پر چیک کرا لیں کہ میرے خلاف جھوٹے کیس محض سیاسی پارٹی بازی کی وجہ سے بنائے گئے۔
میں آپ کے اس غیرقانونی حکم کی وجہ سے گزشتہ ایک سال سے کیمپ جیل لاہور میں پابند سلاسل ہوں، اس ناانصافی اور ظلم کی تمام تر ذمہ داری آپ پر آتی ہے۔ نیب اور ایف آئی اے افسران میرے خلاف عدالتوں میں ایک روپے کی کرپشن یا بددیانتی ثابت نہیں کر سکے۔ میں آپ کو پورے وثوق سے کہتا ہوں کہ اگر آپ میرا موقف سن لیتے تو مجھے یقین تھا کہ آپ الٹا اُن کے خلاف کارروائی کرنے کا حکم دیتے جنہوں نے میرے خلاف جھوٹے کیس بنائے ہیں لیکن آپ نے مجھے سنے بغیر گرفتار کرا دیا۔ آپ نے اپنی ریٹائرمنٹ پر بڑی آسانی سے کہہ دیا کہ میں معذرت خواہ ہوں۔
میرے مقدمات میں پندرہ دن سے لے کر دو ماہ تک کی تاریخیں دے دی جاتی ہیں۔ میرے ساتھ کئی قیدی اور حوالاتی چار سال سے لے کر دس سال تک جیلوں میں بے یارومددگار اور ذلیل و خوار ہو رہے ہیں اور بہت سے قیدی حوالاتی آپ کے نام نہاد انصاف کے انتظار میں وفات پا چکے ہیں۔ یہ عہدے اور دولت آنی جانی چیز ہے۔ آپ میرے پرانے جاننے والے ہیں۔ میری والدہ محترمہ ڈاکٹر متین فاطمہ آپ کے لئے کسی تعارف کی محتاج نہیں۔ میں خود بھی جناب ذوالفقار علی بھٹو کے ساتھ اور شہید بی بی کے ساتھ اہم عہدوں پر رہا ہوں لیکن افسوس کہ آپ نے حقائق جانتے ہوئے چشم پوشی اختیار کی۔
مجھے خدا تعالیٰ پر مکمل یقین اور بھروسہ ہے کہ آپ اب چلے گئے ہیں اور جناب جسٹس آصف سعید کھوسہ نے اعلیٰ عدلیہ میں چیف جسٹس کا عہدہ سنبھال لیا ہے۔ مجھے اُن سے انصاف کی توقع ہے۔ میں نے ایک روپے کی کرپشن یا لالچ نہیں کیا۔ میری پوسٹ ایک اعزازی پوسٹ تھی۔ میرا دامن صاف ہے۔ میں انشاء اللہ تعالیٰ بہت جلد بری الذمہ ہو کر اپنے دوستوں کو ساتھ لے کر آپ کے پاس آکر آپ کی شفقت اور مہربانی کا شکریہ ادا کروں گا اور اپنی ریٹائرمنٹ پر آپ نے قوم سے جو معذرت کی ہے اُس کا جواب بھی دوں گا، آپ بھی منتظر رہیں۔
والسلام
سید آصف ہاشمی، کیمپ جیل لاہور


