ڈاکٹر نائلہ علی خان کا آکسفورڈ اسلامک سٹڈیز کی ڈی لانگ باس کے ساتھ انٹرویو
دوسری طرف تاریخ کشمیر کو کئی دوسرے مفادات اور منشا کو لے کر تعمیر کرنے کی کوششیں بھی کی جاتی رہی ہیں۔ یہ کوششیں تخریب کا نمونہ بھی ہیں اور بائیں بازو کی طرف سے ملی ٹینسی کو رومان پرور بنانے کے لئے تاریخ لکھنے کی الگ سے کوششیں بھی۔ جو بھی ہو، مشکلات میں پھنسی کشمیری قوم کی عزت نفس کا کوئی خیال نہیں رہنے دیا گیا۔ کسی بھی تحریک میں جب حکمرانی کے طریقہ کار کو مشعل راہ نہ بنایاجائے، سماجی بہبود کی ضرورت کو نظر انداز کیا جائے اور جمہوری طور طریقوں کو تلاش کرنے کی کوشش نہ کی جائے، تو منطقی انجام پر پہنچ جانا مشکل تر مرحلہ بن جاتا ہے۔ عمل تقرر مخالفت کی تائید کرنے کا نتیجہ راستے کی گمنامی بھی بن جاتی ہے۔ ڈی لانگ باس کے سوال کا جواب میری تصنیف ”دی فکشن آف نیشنلٹی ان این ائرا آف ٹرانس نیشنلزم“ میں تفصیلی طور موجود ہے۔
اگلا سوال شیخ محمد عبداللہ کی حکومت پر تنقید کرنے والوں کے حوالے سے میری تحقیق اور کچھ تحریروں کے بارے میں تھا اور سوال کا زیادہ زور آج کے حالات میں میری تحقیق کی افادیت پر ٹکا تھا۔ جواب میں میں نے کہا کہ شیخ محمد عبداللہ کی شخصیت پچاس سال تک ہندوستان کی سیاست پر چھائی رہی۔ اُن کی ذات سماجی، معاشی، علاقائی، لسانی اور بھی کئی دیگر حوالوں سے ٹکڑوں پر تعمیر ہوئی ریاست جموں کشمیر کے نظریاتی، سیاسی و سماجی منظر نامے پر ایک مدت تک وحدانیت کی علمبردار تھی۔ اُنہوں نے مذہبی، سماجی اور جماعتی بندشوں کو سر کرتے ہوئے اپنے پیچھے مشقت اور محنت کے ان مٹ نشان چھوڑے ہیں۔ ایسی شخصیت کو کسی ایک سیاسی جماعت یا کسی ایک مذہب کے ساتھ باندھے رکھنا عبث ہے۔
اس دور میں اب کشمیری سماج ٹکڑوں میں بٹ گیا ہے۔ ضرورت اس بات کی ہے کہ ان ہی حالات میں کشمیریت کی علمبردار اس شخصیت کو پھر سے یاد کیا جائے۔ جمہوری دنیا پر بھی فرض عائد ہوتا ہے کہ وہ کشمیر سے متعلق دو اہم پڑوسیوں کے تعلقات میں نظریاتی یکسوئی لانے میں اپنا رول ادا کریں۔ وفات کے 23 سال گزرجانے پر بھی شیخ صاحب کے مداح خوانوں کی کوئی کمی نہیں ہے حالانکہ مرحوم رہنما کی سیاست کو ناپسند کرنے والے بھی ساتھ ساتھ رہتے ہیں۔ اس عجیب و غریب صورت حال پر میرا ایک مضمون حال ہی کئی اخبارات میں شائع ہوا ہے۔

قارئین کے ردعمل کا تجزیہ کرنے کے دوران مجھے پتہ چلا کہ جاسوسی کرنے پر مامور بھارت اور پاکستان کی کئی ایجنسیاں آج بھی کشمیری رہنما شیخ محمد عبداللہ کے کام اور اصولوں کی بیخ کنی کرنے کی ذمہ داریاں نبھا رہی ہیں۔ کشمیر میں بھی کچھ سرکاری و غیر سرکاری مہروں کو تیار کیا جا رہا ہے اور ابھارا جاتا ہے تاکہ حکمران جماعت کوئی بھی ہو، اُسی جماعت کے پٹے کو اپنے گلے کا ہار بنا لیں۔ ادھر کنٹرول لائین کے آر پار دونوں جانب سے کشمیری وطنیت کو پروان چڑھانے سے متعلق حساس سیاست کا جنازہ نکالنے کا کام 1998 ء کے بعد بھی لگاتار جاری ہے۔ قابل ذکر بات یہ ہے کہ اب نیشنل کانفرنس کے سٹیج پر اسمبلی انتخابات کے مواقع پرہی اس جماعت کے بانی لیڈر شیخ محمد عبداللہ کے نام کی مالا جپی جاتی ہے، جبکہ باقی وقت کے لئے اُن کی سیاست کوبالائے طاق رکھا جاتا ہے۔
شیخ محمد عبداللہ اپنی جماعت کو ساتھ لے کر 1947 ء تک ڈوگرہ مطلق العنانیت کے خلاف زبردست لڑائی لڑتے رہے۔ وہ اس شخصی راج کو نوآبادیاتی مظالم کی نظر سے دیکھتے تھے اور اس راج کے خلاف اپنی پارٹی کی کوئٹ کشمیر تحریک کو وسیع تر ہندوستان کی آزادی کے لئے جدوجہد کی ایک شاخ مانتے تھے۔ مئی 1946 ء میں شیخ صاحب کو شخصی راج کے خلاف کوئٹ کشمیر تحریک کے نام پر بغاوت کرنے کے الزام میں 9 سال قید کی سزا دی گئی۔ انڈین نیشنل کانگریس نے اس تحریک کی حمایت کی اور رائے شماری کے موقف پر شیخ محمد عبداللہ کی رہنمائی میں نیشنل کانفرنس کو مضبوط بنانے میں مدد دی۔ کشمیریوں کی یہ تحریک کانگریس اور مسلم لیگ کے درمیان اور بھی زیادہ باعث نزاع بن گئی۔
مسلم لیگ مہاراجہ کو ہی اپنی رعایا کے مقدر کا فیصلہ کرنے کا مجاز مانتی تھی۔ کشمیر میں اب عوام کے ذہن خودی اور خودداری کے جذبات سے سرشار ہو رہے تھے۔ مسلم لیگ کے برعکس کانگریس پہلے پہل کشمیری مسلمانوں کی سیاسی بیداری کی سراہتی نظر آ رہی تھی، لیکن بعد ازا ان یہ جماعت بھی مسلم لیگ کی ڈگر پر چلنے لگی۔ شخصی راج کے خلاف یہ سیاسی تحریک کشمیری نیشنلزم کو پروان چڑھانے کا سبب بنی۔ جو برصغیر میں قومیت کے الگ الگ نظریات سے بالکل الگ، خالص کشمیری قومیت کو پروان چڑھانے کی تحریک تھی۔
پنڈت جواہر لال نہرو کی وکالت کہ کشمیر کو بحیثیت مسلم اکثریتی ریاست بھارت کے سیکولرازم پر اپنی مہر ثبت کرنی چاہے، بعد کی بات ہے۔ پاکستان کے پہلے گورنر جنرل محمد علی جناح اس خیال کو مسترد کرتے تھے کہ مسلم اکثریتی ریاست کشمیر کو پاکستان میں اس وجہ سے شامل کرنے کی ضرورت تھی کہ ملک کو دو قومی نظریے کی بنیاد پر قائم کیا گیا تھا۔
اُنہوں نے 1947 ء میں برصغیر کا بٹوارہ ہوجانے تک بھی کسی موقع پر کشمیر کو پاکستان کا حصہ بنانے کا مطالبہ نہیں کیا۔ شیخ صاحب نے مہاراجہ کی جانب سے بھارت کو دستاویز الحاق پیش کرنے کا موقع آنے سے کچھ وقت قبل اپنے ایلچیوں کو پاکستان روانہ کیا تھا کہ وہ نئی مملکت کے ساتھ کشمیر کا الحاق طے کرانے کے لئے شرائط پر مذاکرات کر سکیں۔ لیکن جیسا کہ میں نے پہلے ہی واضح کیا ہے گورنر جنرل آف پاکستان مہاراجہ کو چھوڑ کر کسی بھی عوامی نمائیندے کے ساتھ کشمیر کے معاملے پر بات چیت کرنے کے حق میں نہیں تھا اور نہ کسی عوامی نمائیندے کو تسلیم کرتا تھا۔ یہ رویہ جمہوری ماحول کے سراسر منافی تھا، بلکہ کئی مسائل کا جنم داتا بن سکتا تھا۔
میرا ماننا ہے کہ اس طرح کی بندشیں اور جغرافیائی حقایق اور 1947 ء میں لئے گئے کچھ سیاسی فیصلوں کو بھارت اور پاکستان میں سرکاری سطح پر نظر انداز کیا جارہا ہے۔ شیخ محمد عبداللہ، مرزا محمد افضل بیگ اور اُن کے قابل اعتماد ساتھیوں نے 1950 ء کی دہائی کے دوران جموں کشمیر میں جمہوریت کو تواریخی مقام عطا کرنے کے لئے کئی طرح کے انقلابی اقدامات کیے تھے۔ زمین کو استحصالی جاگیرداروں سے چھین کر کاشتکاروں کے نام بلا معاوضہ الاٹ کیا گیا۔ زرعی اقتصادیات کے لئے اہم اس تبدیلی سے سیاسی نوعیت کے مثبت نتائج برآمد ہوئے۔ انتہائی مشکل ترین اس فیصلے کی بدولت بے وسیلہ کاشت کاروں کو زمین کے معاملے میں خود مختاری کے حقوق ملنا سب سے اہم تبدیلی تھی۔
مزید پڑھنے کے لیے اگلا صفحہ کا بٹن دبائیں


