سکھر کا لینس ڈاؤن پل

سندھ یاترا کا آغاز تب ہوا جب ہمیں خان پور میں ایک عزیز دوست مرزا حبیب کی بھیجی گئی بریانی سے فراغت ملی، دراصل تب تک سیروسیاحت کی بجائے پیٹ کے لالے پڑے تھے، صبح ہلکا سا ناشتہ کیا تھا اور ٹرین کے سفر میں ہچکولے کھا کھا وہ بھی نجانے کب کا ہضم ہو چکا تھا۔ خان پور سٹیشن پہ جب طعام و حمام سے نپٹ لیے تو جاننے، دیکھنے اور سیکھنے کی حِسّیں متحرک ہو گئیں۔ پنجاب کے آخری علاقوں سے گزرتے ہم سندھ کی حدود میں داخل ہوئے۔

ڈھرکی، گھوٹکی اور خیرپور میتھیلیا سے گزر کر روہڑی جنکشن جا اترے۔ روہڑی جنکشن پاکستان ریلوے کے بڑے اور معروف ریلوے جنکشنز میں شمار ہوتا ہے۔ یوں لگتا ہے جیسے یہ جنکشن پہاڑوں اور میدانی علاقوں پہ مشتمل ایک انتہائی خوبصورت لوکیشن پہ واقع ہے مگر یہاں کے پہاڑ عجیب ساخت کے تھے جیسے وہ چونے کے پتھر اور خاص قسم کی مٹی کی چٹانیں ہوں۔ جنکشن کے کسی بلند مقام پہ کھڑے ہو کر دیکھنے سے مختلف نظارے دیکھنے کو ملتے ہیں جن میں قریب واقع وسیع قبرستان، بلندی پر موجود خوبصورت مساجد، ہلکے پھلکے کاروباری مراکز اور دور پیچھے آسمان کو چھوتا لینس ڈاؤن پُل بمعہ ایوب آرک۔

1879 ء کی بات ہے جب سندھ میں جو کہ بمبئی کے ذیلی علاقوں میں شامل تھا، ریل کی پٹریاں بچھانے کا آغاز ہوا تقریبا تبھی سے روہڑی سے سکھر کی طرف جاتے ہوئے دریائے سندھ کو بھاری گاڑیوں کا عبور کرنا مسئلہ بن گیا۔ پہلے پہل تو کوئی نہ کوئی عارضی حل نکالا گیا مگر پھر 1887 ء کی بات ہے جب اس بپھرے دریا کی بدمعاشی کو قابو کرنے کے لیے ایک فلک شگاف پل کی تعمیر شروع کی گئی۔ یہ پل اس وقت دنیا میں لوہے اور سٹیل کا بنا ہوا سب سے بڑا پل بننے جا رہا تھا۔

اس پل کی دونوں جانب ایکوی لیبریم قائم رکھنے کے لیے ہوا میں دو ہاف بینزین رِنگ سٹرکچر ڈیزائن کیے گئے، مشہور ہے کہ یہاں استعمال ہونے والا سٹیل اور لوہا ویلڈ نہیں کیا گیا بلکہ یہ جس صورت میں لگا ہے اسی صورت کے سانچے میں ڈھال کر بنایا گیا۔ اس وقت ہندوستان میں وائسرائے لینس ڈاؤن کا دور تھا اور انہوں نے اس پل کی تعمیر میں ذاتی دلچسپی لی جس کی وجہ سے یہ پل انہی کے نام سے منسوب کیا گیا۔ اس کی تعمیر دو سالوں میں 1889 ء میں مکمل ہوئی اور 25 /مارچ 1889 ء کو اس کے باقاعدہ افتتاح کے بعد عام استعمال کے لیے کھول دیا گیا۔

تب اس زمانے میں ریل اور دوسری گاڑیاں اسی ایک پل پر سے گزرتی تھی اور سچ تو یہ ہے کہ لاہور اور کراچی کو یہی پل آپس میں ملاتا ہے۔ نیچے بہتا دریائے سندھ اپنی جولانیوں اور بپھری لہروں پہ غرور کرتا دیکھنے والوں پہ ہیبت طاری کرتا ہے۔ پل سے مغرب کی جانب بڑھیں تو تھوڑا سا آگے جا کر مشہور سات سہیلیوں کے مزارات ہیں جو دریا کے اندرونی علاقہ میں بہت بلندی پر موجود ہیں اور ان کا طرزِ تعمیر ہالی ووڈ میں دِکھائی جانے والے قدیم مصری قبرستانوں اور یونانی شیر نما نجات دہندہ کے آس پاس موجود علاقوں جیسا ہے۔ اسے دیکھتے ہی سندھ کے قدیمی تہذیبوں کے مرکز ہونے کا گماں ذہن کو گھیرے لیتا ہے ہر چند مجھے نہیں معلوم کہ سات سہیلیوں کے وہ مزارات کتنے پرانے ہیں، ان کی بابت جانکاری واپسی کے سفر کے شیڈول کا حصہ ہے۔

لینس ڈاؤن کا یہ روہڑی کو سکھر سے ملانے کا واحد زمینی رستہ ہے جس کی وجہ سے اس پر گاڑیوں کا بے بہا ہجوم ہر وقت موجود رہتا ہے۔ 1960 ء میں جب پاکستان میں انڈسٹریل دور کا آغاز تھا تو یہ پل گاڑیوں اور ریل کے گزرنے کا واحد راستہ ہونے کی وجہ سے کئی مسائل کا شکار ہو گیا اس لیے تب ایوب خان نے ریلوے کی پٹریوں کو الگ بچھانے کے لیے ایک نئے پل کی تعمیر شروع کروائی جس کا نام ”ایوب آرک“ رکھا گیا اور اس میں استعمال ہونے والا لوہا اور سٹیل گولائی میں ایک پروجیکٹائل کی طرح ڈیزائن کیا گیا۔

اس پل کا ڈیزائن نیو یارک کے ایک انجینئر نے بنایا۔ ایوب آرک 1962 ء میں مکمل ہوئی، تب گاڑیوں کے لیے لینس ڈاؤن پل جبکہ ریلوے کے لیے ایوب آرک کو مختص کر دیا گیا۔ دور سے دیکھنے پر یہ دونوں پل ایک ہی معلوم ہوتے ہیں مگر لینس ڈاؤن کا رنگ گہرا سرخ اور ایوب آرک کا رنگ سٹیل نما ہے۔ یہاں سے ہمارے سندھ یاترا کے پہلے سفرانچے کا آغاز ہوا ہے اور یقینی طور اختتام بھی یہیں ہو گا کیونکہ اس کے آس پاس موجود سات سہیلیوں کے مزارات اور بیچِ دریا موجود سادھو بیلے کے مندر جانا واپسی کے پلان کا حصہ ہے۔ ایک سو بتیس سال گز جانے کے باوجود آج بھی یہ لینس ڈاؤن پل جیسے مقامی لوگ قینچی پل یا سکھر پل بھی کہتے ہیں، تمام تر موسمی تبدیلیوں اور سختیوں کا مردانہ وار مقابلہ کر رہا ہے اور اس کے ساتھ ساتھ انسانی عظمت اور انگریزوں کی تعمیری ذہانت و ایمانداری کا منہ بولتا ثبوت ہے۔

Comments - User is solely responsible for his/her words