ویاگرا کی گولی اور درس گاہوں کی گندی سیاست
ویسے تو اس دیس کی سرکاری جامعات ہمیشہ سے ہی ذرائع ابلاغ کا جھنجھنا رہی ہیں۔ مگر جامعہ کراچی اور جامعہ سندھ اس حوالے سے خصوصی اور امتیازی حیثیت رکھتی ہیں۔ حال ہی میں روزنامہ ایکسپریس ٹریبیون میں ایک خبر چھپی جو جامعہ سندھ کی دو اساتذہ خواتین کی جانب سے سندھ ہائی کورٹ میں لگائی گئی درخواستوں سے متعلق تھی۔
ایک درخواست جامعہ سندھ کے انسٹی ٹیوٹ آف آرٹس اینڈ ڈیزائن کی سابق سربراہ صاحبہ کی جانب سے اپنی سربراہ کی نشست سے برطرفی کے خلاف تھی۔ موقف اختیار کیا گیا تھا کہ انہیں موجودہ سربراہ صاحب کے دباؤ پر رئیس الجامعہ نے برخاست کیا۔ پھر محترمہ رقم طراز ہیں کہ موجودہ سربراہ تو ہیں ہی بدعنوانیوں کا ٹوکرا، اس لئے کہ وہ تو تحقیقی معاون کے طور پر 2003ء میں ہی بھرتی ہوئے اور 2004ء میں ہی انہیں لیکچرار بنا دیا گیا، پھر 2012ء میں محترم اسسٹنٹ پروفیسر بنے ہی تھے کہ 2018ء میں انہیں ایسوسی ایٹ پروفیسر بھی بنا دیا گیا. یعنی ہر سطح پر ترقی کے قواعد کو بالائے طاق رکھا گیا اور محترم کو آگے بڑھا دیا گیا۔ پھر محترمہ درخواست کرتی ہیں کہ نہ صرف موجودہ سربراہ کو سربراہی سے برخاست کیا جائے بلکہ انہیں دوبارہ اسسٹنٹ پروفیسر بنا دیا جائے۔
پھر دوسری درخواست جو جامعہ سندھ سے ہی سندھ ہائی کورٹ میں لگی، اس کا متن کچھ یوں تھا۔ لیکچرار محترمہ ارم وجیہ درخواست گزار ہیں کہ انسٹی ٹیوٹ آف آرٹس اینڈ ڈیزائن میں ہی اپریل 2017ء میں محض ایک اسسٹنٹ پروفیسر کی آسامی کا اشتہار دیا گیا تھا جس کے لئے 4 سالہ ڈگری اور 6 سالہ پیشہ ورانہ تجربہ درکار تھا مگر مارچ 2018ء میں اسی اشتہار کی بنیاد پر ایک نہیں، دو نہیں بلکہ چار افراد کو اسسٹنٹ پروفیسر بنا دیا گیا اور سونے پہ سہاگہ یہ کہ یہ چاروں ہی ان کے جونیئر ہیں اور مطلوبہ قابلیت کے حامل نہیں۔
اب یہ تو ان دونوں سائلین کا قانونی حق ہے کہ ان کی درخواستوں پر قانونی کارروائی ہو اور جو معاملات عدلیہ میں ہیں، ہم ان کی کیفیت پر کوئی رائے زنی نہیں کر سکتے مگر ہمارا موضوع یہ خبریں نہیں، ہمارے پاس تو اور بھی بہت سی خبریں ہیں۔ مثلاً چند ماہ قبل اسی جامعہ سندھ کے رئیس جامعہ کی تصویر خوب ذرائع ابلاغ کی زینت بنی کہ محترم نے خوب دل کھول کر بدعنوانی کی ہے اور محکمہ انسداد بدعنوانی ان کے خلاف تحقیقات کر رہا ہے۔ پھر محترم خود بھی سندھ ہائی کورٹ چلے گئے اور دعویٰ کیا کہ ان کے خلاف سازشیں ہو رہی ہیں تا کہ وہ اپنا معینہ وقت بحیثیت رئیس جامعہ نہ پورا کر سکیں۔
ان سب خبروں کے علاوہ ہمارے پاس کچھ جامعہ کراچی کی بھی اسی نوع کی خبریں ہیں، آپ کا وقت بچانے کے لئے محض دو کا ہی حوالہ یہاں درج کرتے ہیں۔ آج سے کوئی 6 ماہ قبل روزنامہ 92 میں خبر شائع ہوئی کہ کس طرح جامعہ کراچی کے ایک معروف استاد (جو اب ریٹائرڈ ہیں) نے اپنی ایک سابق طالبہ کے دفتر پر قبضہ جما رکھا ہے اور وہ مروتاً خاموش رہتی ہیں۔
پھر ایک خبر یہ بھی شائع ہوئی تھی کہ کس کس شعبے میں کتنے اساتذہ کنٹریکٹ پر (رٹائرمنٹ کے بعد) ملازم ہیں اور وہ جامعہ کے اوپر کتنا بڑا بوجھ بنے ہوئے ہیں۔ خبر میں تمام اساتذہ کے نام بھی درج تھے، اگر کوئی قاری اس نوع کی خبروں پر تھوڑی سی توجہ کرے تو اسے اندازہ ہو گا کہ تقریباً ہر ماہ اس نوع کی کوئی نہ کوئی خبر جامعہ سندھ اور جامعہ کراچی کے حوالے سے ذرائع ابلاغ کی زینت ضرور بنتی ہے اور اگر سارے ملک کی سرکاری جامعات کی بات کی جائے تو معاملہ حیرت انگیز ہے۔ یعنی پھر تو ہر ہفتے ہی ایسی خبریں مل جاتی ہیں اور بعض دفعہ ہر روز۔
راقم کو یاد ہے کہ آج سے پانچ یا کوئی آٹھ سال قبل بھی جامعہ سندھ کے اس وقت کے رئیس الجامعہ صاحب ذرائع ابلاغ پر فٹ بال بنے رہتے تھے، ان کے حوالے سے تو ایسی خبریں بھی گردش میں تھیں اور بعد میں اخبارات کی زینت بنیں کہ محترم نے ویاگرا خرید کر اس کا بل بھی جامعہ کے میڈیکل میں کلیم کر لیا تھا۔ سوال یہ ہے کہ سرکاری جامعات سے اب معاملات اس قدر تیزی سے عدالتوں میں کیوں پہنچ رہے ہیں کہ ایک ہی شعبے کی دو استانیاں سندھ ہائی کورٹ ایک ہی دن پہنچ گئیں اور یہ ’’سازش‘‘ کا لفظ کیوں جامعات کی فضا میں اتنا ہی پھیل گیا ہے کہ جتنی شاید فضا میں آج کل آلودگی ہے اور یہ جو جامعات سے جاسوسی ناول کے اقتباسات نما خبریں برآمد ہوتی ہیں ان کا کیا معاملہ ہے؟
جہاں تک سوال ہے عدالتی درخواستوں کا تو بات صاف ہے کہ جامعات کے اندر اقربا پروری اور گروہی سیاست اس قدر بڑھ گئی ہے کہ ہر ناراض فرد کو یہ لگتا ہی نہیں کہ جامعہ کے اندر موجود مقتدر افراد سے انصاف ملے گا اور واقعی جامعات میں انصاف تو اب بس عدالتوں سے ہی ملتا ہے (یا کم از کم اسٹے آرڈر تو مل ہی جاتا ہے) طلبہ بھی اب اپنی شکایات لے کر عدالتوں کا ہی رخ کر رہے ہیں اور اساتذہ بھی۔
جامعات اب مکمل طور پر سیاست کے گڑھ ہیں۔ جامعہ کراچی میں راقم ایک جینیات کے پروفیسر اور ایک شعبہ تصنیف و تالیف کے پروفیسر اور ایک شعبہ تصنیف و تالیف و ترجمہ کے افسر سے واقف ہے کہ جو جامعہ میں موجود اپنے دشمنوں کے خلاف خبریں ذرائع ابلاغ میں لگواتے ہیں۔ یہ دونوں ہی افراد جماعت کے پرانے ہرکارے ہیں اور سازش ان کے مزاج کا جزو لاینفک کا درجہ رکھتی ہے۔ یقینی طور پر اس نوع کے کوئی 70 یا 80 لوگ اور بھی جامعہ کراچی میں ہوں گے اور جامعہ سندھ میں بھی ایسے افراد کی تعداد کم نہ ہو گی۔ یہ افراد اپنے آپ کو کسی نوع کا مصلح سمجھتے ہیں، ان کو لگتا ہے کہ بس یہ اخبار میں خبر لگوائیں گے اور دشمن کی کمر ٹوٹ جائے گی جب کہ ہوتا ایسا کچھ بھی نہیں۔ دشمن کی تو کمر نہیں ٹوٹتی ہاں ان کی اپنی جامعہ کی شہرت اور عزت ضرور خاک میں مل جاتی ہے مگر ان کی بلا سے۔
یہ جو جامعات کے اساتذہ نے عدالتوں کی دوڑ لگائی ہے امکانی طور پر یہ اساتذہ بھی انہی ’’خبروں‘‘ کے اثر میں ہیں۔ ان غلیظ سیاستوں سے اصل نقصان ہمیشہ صرف طلبہ و طالبات کا ہوتا ہے۔ راقم نے خود جب جامعہ میں تعلیم حاصل کی تو اس نوع کے جدلیاتی ماحول کا اکثر سامنا کیا۔ اساتذہ میں آپس میں لڑائی ہوتی یا کسی استاد کی کسی دوسرے استاد سے نہ بنتی اور کسی طالب علم کو اس استاد کا پسندیدہ تصور کر کے اس تعلق کی سزا دی جاتی۔ یہ وہ مکروہ صورت حال تھی جس کی وجہ سے راقم نے طلبہ کے ایم فل اور پی ایچ ڈی رکتے دیکھے، انہیں آنرز اور ماسٹرز میں فیل ہوتے دیکھا۔
اس پورے مکروہ تناظر کا راقم کی نظر میں ایک ہی علاج ہے اور وہ علاج یہ کہ ملک کی ساری جامعات کے موجودہ تمام ہی اساتذہ کی سخت اسکروٹنی کی جائے اور اہلیت پر مبنی ترقی یا تنزلی کی جائے اور اساتذہ کی سیاست پر پابندی عائد کر دی جائے۔ یہ یونینز اور ایسوسی ایشنز بند کر دی جائیں۔ اساتذہ کا کام تعلیم دینا ہے جس کو سیاست کرنی ہے وہ سیاست دان بنے اور جو بھی استاد گروہ سیاست یا اقربا پروری میں ملوث پایا جائے اسے فی الفور (کم از کم) معطل کر دیا جائے۔ جامعات جس نوع کا بھڑ کا چھتہ بن چکی ہیں اس کی صفائی پیار محبت سے نہیں ہو سکتی۔ بد اخلاقیوں اور بدعنوانیوں کے ان تجاوزات کو سختی کے بلڈوزروں سے منہدم کرنے کی ضرورت ہے۔


