نینسی نے رابرٹ کو کیوں قتل کیا؟


قتل کے سلسلے میں بیٹھی جانے والی بارہ رکنی جیوری نے نینسی کے ہاتھوں اس ”منظم منصوبہ“ کے تحت قتل کو ”فرسٹ ڈگری مرڈر قرار دیا اور عمر قید کی سزا کا فیصلہ دیا۔ جیوری کے فیصلہ کی سب سے بڑی وجہ وہ سرویلنس (Surveillance) ویڈیو ہے کہ جس میں نینسی کو تین بار ہوم ڈپو اسٹور میں دیکھا گیا۔ پہلی بار قتل سے ایک دن قبل دستی کدال خریدنے کے لیے نو مئی کو، دوسری بار صفائی کا سامان خریدنے اور تیسری بار دکان سے نئی دستی کدال چراتے اور پھر اس کو پرانی رسید سے واپس کرتے۔ جیوری کا یہ بھی کہنا تھا کہ پولیس کو قتل کی اطلاع دینے کے بجائے وہ ملازمت پہ اسکول گئی۔ پھر گیراج کو صاف کرنے کے بعد دستی کدال واپس کی۔ ان کی نظر میں یہ ایک بے حس عمل تھا۔

نینسی نے اپنی صفائی میں اپنے شوہر کے جسمانی اور ذہنی تشدد کے واقعات کی تفصیل بیان کی جو شادی کی ابتدا ہی سے شروع ہو گئے تھے۔ ”میں ہمیشہ سے ایک بہت ہی پرائیویٹ انسان تھی۔ باب (رابرٹ) کے دو چہرے تھے۔ چارمنگ ڈاکٹر جیکل اور مسٹر ہائیڈ۔ میں اس سے محبت بھی کرتی تھی۔ مگر غصہ ور انسان سے ڈرتی تھی۔ جو مجھے دھکے دیتا دیوار سے لگا دیتا۔ وہ میرا بازو دبوچ کر جب دیوار پہ دھکا دیتا تو کبھی میں گر بھی جاتی۔ اس کے جسمانی تشدد کے بعد میں نے پولیس کو بھی بلایا مگر وہ جیل نہیں گیا اور دھمکی دی کہ اگر پھر پولیس کو بتایا تو وہ مجھے قتل کر دے گا۔ ایک دفعہ تو اس نے چلتی گاڑی سے دھکا دینے کی کوشش کی۔ اس کے تشدد میں آہستہ آہستہ تیزی آ گئی۔ میں اکتیس سال اس کی ہر بات کو چھپاتی رہی جیسے کچھ نہیں ہوا ہر چیز دوبارہ فکس کر دیتی تاکہ کسی کو پتہ نہ چلے۔ “

عدالت میں نینسی کے ساتھی اساتذہ نے اس بات کی گواہی دی کہ نینسی کبھی آنکھ میں چوٹ تو کبھی کلائی کی ٹوٹی ہڈی کے ساتھ نوکری پہ آتی۔ جسے وہ کالا چشمہ اور ہاتھ پہ پٹی باندھ کے چھپا لیتی تھی۔ محض چند کو ہی اس کا پتہ تھا کہ اس کے ساتھ کیا ہوا ہے۔ نینسی کو بات چھپانے کی عادت تھی۔

عدالت میں نینسی کے دونوں لڑکوں کو بھی بیان کے لیے بلایا گیا۔ چھوٹے بیٹے گریک کے مطابق اس کے باپ نے ماں پہ ذہنی تشدد اور کبھی جسمانی تشدد بھی کیا۔ کئی دفعہ میں نے دیکھا کہ ماں کے ہاتھ میں چوٹ ہے، پٹی بندھی ہوئی ہے۔ میں نے پوچھا تو انہوں نے کہا کہ تمہارے ابا نے کرسی پھینکی تھی۔ ان کی (باپ کی) شہرت غصہ ور اور پرتشدد انسان کی تھی۔ وہ اپنے شوہر سے خوف کے عالم میں رہتی تھیں۔ وہ مستقل میری ماں کو نیچا دکھاتے ان کے پروفیشن میں اور جو چیزبھی وہ لیتیں۔

”جبکہ دوسرے بیٹے جیف نے جو اپنے والد کو بہت آئیڈیلائز کرتا تھا کہا کہ میں نے کبھی اپنی ماں پہ تشدد کے نشان نہیں دیکھے۔ البتہ میرے والد بحث بہت کرتے تھے۔ جیف کی بیوی ربیکا نے کہا۔ کہ اس نے نینسی (اپنی ساس) سے کہا تھا کہ اس شادی سے نکل جائیں اس سے پہلے کہ کچھ ہو کیونکہ نینسی نے اپنے خلاف بڑھتے ہوئے تشدد اور کلائی میں فریکچر کی شکایت کی تھی۔ نینسی نے اپنے والد کے دس ہزار ڈالرز سے اپریل 2004 میں کونڈو خرید لیا تھا اور وہ طلاق کا کیس فائل کرنے والی تھی۔

٭٭٭           ٭٭٭

بیٹرڈ اسپوئیس سینڈروم (Battered Spouse Syndrom) یعنی پارٹنر کے تشدد کے نتیجہ میں ہونے والی حالت۔

نینسی کے مقدمہ کی ایک اہم شخصیت ڈاکٹر لینون واکر جوپارٹنر کے تشدد کی وجہ سے ہونے والی سینڈرم کی ماہر ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ گو مجھے اس حالت کے متعلق علم تھا۔ مگر مشی گن کے قانون کے متعلق انہیں یہ کہنے کی اجازت نہیں تھی کہ بطور ماہر وہ نینسی کے رویہ کا تعلق اس کے جرم کے ساتھ جوڑ سکیں۔

ڈاکٹر لیون واکر کے مطابق نینسی کا عمل اکتیس سال کے تشدد کا نتیجہ تھا۔ جس نے ان کی ذہنی حالت اور رویہ کو متاثر کیا۔ گو یہ رویہ جیوری کی سمجھ سے بالاتر اور غیر منطقی تھا۔

بیٹرڈ ویمن سینڈروم ایک قسم کا پی ٹی ایس ڈی (Post Traumatic Stress Disorder) ہے جو اس وقت ہوتا ہے جب کسی عورت کو اپنی جان سے متعلق رومانی ساتھی سے خطرہ ہو۔ یہ ایک قسم کا استحصالی چکر (Cycle) ہے۔ انہوں نے کہا کہ اس کا شوہر اسے مارتا تھا۔ مگر وہ اس کو چھپانے کی کوشش کرتی رہی تاکہ یہ لگے کہ اس کی شادی مثالی ہے۔ جہاں تک دو بیٹوں کی مختلف رائے کا تعلق ہے ڈاکٹر واکر کا کہنا ہے کہ ایسے گھرانے جہاں گھریلو تشدد ہوتا ہے وہاں والدین کسی ایک بچے سے دوستی یا الائنس کر لیتے ہیں۔

جو اس کیس میں ہوا اور عموما سوچا جاتا ہے کہ لڑائی، بحث دونوں جانب سے ہوتی ہے۔ لیکن گھریلو تشدد میں ایک تشدد کرنے والا ہی کافی ہوتا ہے۔ جو لڑائی شروع کرے۔ اس میں عموما مرد عورت کو جانے نہیں دیتا اور یہی وہ وقت ہوتا ہے جب وہ عموما ماری جاتی ہے۔ یا شدید زخمی ہوتی ہے اور اس بات کا پتہ ہر ایک کو ہونا چاہیے۔ ”

نینسی کے مطابق باب (رابرٹ) کا حد درجہ کنٹرول تھا۔ جو بھی چیز اس کے مطابق درست نہ ہو وہ دیوار پہ دے مارتا۔ اس پر پھینک دیتا۔ آنکھوں پہ نشان، جسم پہ نیل، ٹوٹی ہڈیاں، ٹوٹے دانت، تحقیر آمیز ناموں سے پکارنا اور دوسری عورتوں سے معاشقے۔ مگر وہ ان سب چیزوں کو اپنے بچوں اور دوسروں سے چھپاتی رہی۔

جب اس پر اعتراض ہوا کہ اس چھوڑا کیوں نہیں۔ تو نینسی نے کہا۔ ”وہ کہاں جا سکتی تھی، کیا کر سکتی تھی۔ میرے دو بچے تھے، کوئی نوکری نہیں تھی۔ میں اسے نہیں چھوڑ سکتی تھی۔

آج نینسی کو عمر قید میں چودہ سے زیادہ سال گزر چکے ہیں۔ اس تمام عرصے میں اس کے کہنے کے مطابق وہ ہر دن روتی ہے۔ اپنی قانونی جنگ کے لئے۔ کیونکہ اسے پتہ ہے کہ اپیل کے آپشنز (اختیارات ) محدود ہیں۔ وہ اپنے بیٹوں، ان کی بیویوں اور ان کے چاروں بچوں کے لئے روتی ہے کہ جن سے وہ کبھی نہیں ملی اور اپنے شوہر کے لئے بھی کہ ”جس کو اکتیس سال چاہا اور جس کی موت کی میں ذمہ دار ہوں۔ “

Facebook Comments HS

صفحات: 1 2