کپتان صاحب!تمہیں کہو کہ یہ اندازِ گفتگو کیا ہے!


پاکستان کی سیاسی تاریخ کا سرسری جائزہ بھی لیا جائے تو یہ حقیقت سامنے آئے گی کہ ملک کے سربراہ کے طور پر باگ ڈور سنبھالنے والوں میں جس سربراہ مملکت اور سیاستدان نے سب سے زیادہ بے دردی، اصراف اور لغو انداز میں اپنی زبان بلکہ بد زبانی کا استعمال کیا ہے وہ عمران احمد نیازی ہیں۔ اللہ تعالٰی نے انسان کو جن عظیم نعمتوں سے نواز رکھا ہے ان میں نطق، قوت گویائی اور زبان ایک اہم انعام ہے۔ دنیا کی ہر زبان میں زبان کے سوچ سمجھ کر استعمال کے حوالے سے بے شمار انمول، زریں اور گراں مایہ اقوال، اشعار، ضرب الامثال اور محاورات انسانیت کا مشترک قیمتی اثاثہ بن کر دمک رہے ہیں۔

قرآن پاک میں بھی زبان کے بہترین استعمال کی انتہائی بصیرت افروز احکامات ہیں۔ حدیث میں خاموشی کو عبادت سے تعبیر کیا گیا ہے۔ نبیء محترم نے زبان کو قابو میں رکھنے والے کے لیے جنت کی بشارت دی ہے۔ بولنے سے پہلے اچھی طرح سوچنے کا حکم بھی اسی لیے دیا گیا ہے تاکہ بعد میں انسان کو پچھتانا نہ پڑے۔ کیونکہ بقول شاعر

جو بول زبانوں نکل گیا
اؤ تیر کمانوں نکل گیا

خاموشی کو عقلمند کا وقار اور بے وقوف کا بھرم کہا گیا ہے۔ معاشرتی بگاڑ اور فتنے فساد کے جتنے مظاہر نظر آتے ہیں ان میں سے اکثر کے پس پردہ زبان کا غیر ضروری اور غلط استعمال ہی ہے۔ مگر مجھے لگتا ہے کہ ہمارے کپتان زبان کے استعمال کے حوالے سے یا تو کچھ بھی نہیں جانتے یا اگر جانتے بھی ہیں تو زبان کو قابو میں رکھنے کا ہنر نہیں جانتے۔ کہتے ہیں کہ بزدل کی زبان چلتی ہے اور بہادر کا ہاتھ۔ ایک مرتبہ عظیم بیٹسمین جاوید میاں داد کے بارے میں کہیں پڑھا تھا کہ کوئی ملک ہو، کوئی میدان ہو، کوئی وکٹ ہو، کوئی باؤلر ہو;جاوید میانداد کو رنز بناے سے کوئی نہیں روک سکتا۔ یہی بات ہم تھوڑی ترمیم سے کپتان صاحب کے حوالے سے یوں کہہ سکتے ہیں کہ کوئی ملک ہو، کوئی شہر ہو، کوئی فورم ہو، کوئی موقع ہو کپتان صاحب کوفضول اور لایعنی گفتگو اور بیان بازی سے کوئی نہیں روک سکتا۔

عظیم اورمدبر قسم کے رانماؤں کی بڑی خوبیوں میں ایک بہت بڑی صفت یہ ہے کہ وہ زبان کا بہت محتاط اور بروقت استعمال کرتے ہیں۔ مگر ایک ہمارے کپتان ہیں کہ ہر وقت غصے و انتقام کی آگ میں بھڑکتے ہوئے شعلہ نوائی بلکہ ہرزہ سرائی فرماتے رہتے ہیں۔

انہوں نے تازہ ارشاد فرمایا ہے کہ ملک میں حالیہ برف باری اور بارشوں کا سلسلہ اللہ تعالٰی کا خصوصی انعام ہے۔ ہر ذی فہم اندازہ لگا سکتا ہے کہ ان کے اس بیان میں سابق حکومت پر طنز اور موجودہ ”نیک و پارسا“ حکومت کی تعریف و توصیف کا بلیغ اشارہ موجود ہے۔ یعنی وہ یہ کہنا چاہتے ہیں کہ جب سے ن لیگ کی ظلم و جبر اور کرپشن و بد عنوانی میں لتھڑی ہوئی حکومت خلائی مخلوق، نیب اور بابا رحمتے کی کرشمہ سازیوں کی وجہ سے اپنے انجام کو پہنچی ہے اور موجودہ حکومت کا ورود مسعود ہوا ہے تب سے زمینی حقائق کے سازگار ہونے کے ساتھ ساتھ آسمانی طاقتیں بھی ان کی غیب سے مدد کر رہی ہیں۔

ان کی خوش فہمی، بسیار گوئی اور لغو بیانی اپنی جگہ مگر کیا وہ قوم کو یہ بھی بتانا پسند کریں گے کہ سانحہء ساہیوال سمیت وقوع پذیر ہونے والے اندوہناک اور دل شکن المیے ان کے دور میں اللہ کی طرف سے نازل ہونے والا عذاب ہیں؟ مہنگائی، لاقانونیت اور اخلاق باختگی کا طوفان اللہ کا قہر ہے؟ یہ ٹماٹر جو دو سو روپے کلو فروخت ہو رہے ہیں یہ اللہ کا انعام ہے یا عذاب؟ پاکستانی ٹیم کی مسلسل شکست، ڈالرز کی اونچی پرواز، بزدار کی صورت میں مسلط وزیراعلٰی، بجلی، پٹرول، گیس کے نرخوں کا آسمان پر پہنچنا، ملکی و غیر ملکی قرضوں کا سیلاب، علیمہ باجی سمیت بے شمار پی ٹی آئی وزرا اور اراکین پر کرپشن کے الزامات، حج کا تیس فیصد مہنگا ہونا، دوائیوں کی قیمت میں قیامت خیز اضافہ اور معیشت کی تباہی یہ سب اللہ تعالٰی کی طرف سے انعام ہے یا اس کا غیظ و غضب؟

کپتان صاحب کے بیان سے یاد آیا کہ کسی دانشمند نے کہا تھا کہ میں کبھی اپنے خاموش رہنے پر نہیں پچھتایا، جب بھی پچھتایا ہوں اپنے بولنے پر پچھتایا ہوں۔ جس طرح کپتان صاحب نے اپنی زبان کا سوئے استعمال کیا ہے اسے دیکھتے ہوئے تو غالب کا وہ مشہور زمانہ شعر بھی ہیچ لگتا ہے جس میں انہوں نے عالم جنوں میں ہر وقت کچھ نہ کچھ بکتے رہنے کی عادت بد کا گلہ کرتے ہوئے کسی کے کچھ نہ سمجھنے کی دعا کی تھی۔ کپتان صاحب نے حالیہ بیان میں برف باری اور بارشوں کو اللہ کا انعام قرار دیتے ہوئے فرمایا کہ اس سے زیر زمین پانی کی سطح بلند ہو ئی ہے۔ ان کی خوشی اپنی جگہ مگر سچ تو یہ ہے کہ زیر زمین پانی کی سطح جس قدر بھی بلند ہو جائے وہ اپنی بدکلامی پر کبھی پانی پانی نہیں ہو سکتے اور نہ انہیں اور ان کی پارٹی کے برزجمہروں کو چلّو بھر پانی دستیاب ہو سکتا ہے۔

Facebook Comments HS