غالب اور فیض کا جائز مقام
گزشتہ روز ایک آرٹ گیلری جانا ہوا۔ دوستو! آرٹ گیلری وہ جگہ ہے جہاں ہائی پروفائل لوگ جاتے ہیں۔ یہاں پینٹنگز بکتی ہیں۔ جن کی قیمت ہزاروں سے شروع ہو کر لاکھوں تک جاتی ہے۔ ویسے تو اس قسم کی جگہوں سے ہم گھبراتے ہی ہیں اور کسی بڑے شوروم میں قدم نہیں رکھتے کیونکہ انسان اپنی اوقات کی جگہوں پر ہی جچتا ہے لیکن آرٹ گیلری میں جانا ہماری مجبوری ٹھہری، آرٹسٹ جو ہوئے۔ ( نہ جانے بچپن میں کون سا کیڑا کاٹا تھا جو اس طرف نکل آئے ) ۔
آرٹ گیلری کے بارے ایک بات اور بتاتی چلوں کہ یہاں بکنے والی اشیاء گو کہ بہت مہنگی ہوتی ہیں لیکن یہاں دروازے پر گارڈ کی چنداں ضرورت نہیں پڑتی۔ وجہ یہ ہے کہ ابھی تک چور ڈاکوؤں کو آرٹ سے شغف نہیں ہوا۔ اور اگر کوئی یہاں ڈاکہ ڈال بھی لے تو بیچنے کے لئے کہاں جائے گا۔ یوں کہہ لیں کہ یہاں جو مال بکتا ہے اس کی قدر و قیمت صرف بیچنے والے کو معلوم ہے یا خریدنے والے کو۔ باقی لوگوں کے لئے یہ ردی کباڑ سے زیادہ کچھ نہیں۔
خیر تو کل ہم آرٹ گیلری گئے۔ ادب سے بیٹھے ہم گیلری کے مالک کے منتظر تھے کہ وہ اپنی مصروفیت سے کچھ وقت نکال کر ہمیں عنایت فرمائیں۔ تب ہی گیلری کے گلاس ڈور کے سامنے سفید براق لمبی سی گاڑی آ کر رکی اور خاتون بر آمد ہو کر گیلری کے اندر در آمد ہو گئیں۔ ہم کچھ اور سمٹ گئے۔ ایک تو ویسے ہی جب کوئی بڑی گاڑی سے اترے تو ہماری گھگھی بندھ جاتی ہے اور اس پر جب وہ اپنے باپ دادا یعنی انگریز کی زبان میں بات کرے تو ہم تھر تھر کانپنے بھی لگ جاتے ہیں۔
خیر خاتون بڑے طرے سے اندر آ کر پینٹنگز کا جائزہ لینے لگیں۔ گیلری کا تمام عملہ با ادب ان کے ساتھ ہو لیا۔ ہمیں سب نے یوں نظر انداز کیا جیسے ہم وہاں ہوں ہی نہیں۔ گھومتے گھومتے آخرکار وہ ایک پینٹنگ کے سامنے کھڑی ہو گئیں۔ اور اپنی مادری زبان میں کچھ فرمایا۔ پینٹنگ پاکستان کے ایک مشہور مصور کی تھی جو فیض کی شاعری سے اپنی تصویروں کو مزین کرتے تھے۔ اس پینٹنگ میں ایک ایبسٹرکٹ حسینہ اپنی حد سے زیادہ لمبی انگلیوں میں پھول لئے ہوئے تھی اور فیض کی نظم ”چند روز اور میری جان“ ایک طرف لکھی تھی۔
پینٹنگ پر بارگیننگ ہو رہی تھی۔ اور ہمارے اندر کا ازلی کیڑا کلبلا رہا تھا۔ جب معاملات طے ہو چکے اور وہ محترمہ خریداری کر چکیں تو ہم تمام ہمت مجتمع کر کے اٹھے اور ان کے برابر جا کھڑے ہوئے۔ وہ پینٹنگ میں محو تھیں۔ ہم نے لرزتی زبان پر قابو پانے کی کوشش کرتے ان سے ان ہی کی زبان میں پوچھا ”یو لائک دس ورک ویری مچ رائٹ؟ “ انہوں نے نگاہ غلط ہم پر ڈالی ( ہم ان کے انہماک میں بلا اجازت مخل ہوئے تھے ) ۔
اوہ نو آئی ڈونٹ لائک، ایکچولی آئی لو اٹ ”۔
جواب موصول ہوا۔
جی پینٹنگ واقعی خوبصورت ہے۔
ہم مزید انگریزی تو نا بول پائے لیکن انگریزی کے الفاظ کے ساتھ اردو ہیلپنگ ورب لگا کر اور منہ اور زبان ٹیڑھی کر کے بات چیت آگے بڑھائی۔ (اس طرح ہم اگلے پر یہ ظاہر کرنے کی کوشش کرتے ہیں کہ ہم بھی ان ہی کی بولی بولتے ہیں ) ۔ اس میں آرٹسٹ کی پوری مہارت نظر آ رہی ہے اور رنگ بھی بہت جاندار ہیں۔
خاتون نے تائید میں ایک آدھ جملہ بولا۔ انداز سے صاف ظاہر تھا کہ وہ ہم سے بات کرنے میں زیادہ دلچسپی نہیں رکھتیں۔
آپ کو اس پینٹنگ میں کیا پسند آیا؟
ہم نے اردش (انگریزی اردو کا مکسچر) میں سوال جھاڑا۔
اوہ مجھے اس آرٹسٹ کا اسٹائل، کلر اور اس پر جو تحریر لکھی ہے وہ پسند ہے۔
جواب انگریزی میں آیا۔
جی یہ فیض کی نظم ہے۔ آپ نے پڑھی ہوگی ضرور۔
ہم نے ان کے ذوق کو سراہتے ہوئے کہا۔
اوہ نو۔ میں نے پڑھی نہیں لیکن میں فیض کو جانتی ہوں۔ وہ بہت بڑے پوئٹ (شاعر) تھے۔ مجھے شاعری سے تو اتنی دلچسپی نہیں اور اردو پڑھنا مجھے بہت مشکل لگتا ہے۔
اب وہ بھی اردش میں بات کر رہی تھیں۔
جی جی میں جانتی ہوں۔ اردو بہت مشکل زبان ہے اور خاص کر شاعری۔
میں نے ہاں میں ہاں ملائی۔
مجھے شاعری سمجھ نہیں آتی لیکن یہ ہمارا کلچر ہے۔ ہماری پہچان ہے اور اسی لئے میں یہ پینٹنگ خرید رہی ہوں۔ میرے گھر جب فارنر آتے ہیں تو وہ یہ سب دیکھ کر بہت متاثر ہوتے ہیں۔ ان کے پاس ہم جیسا رچ ( امیر) کلچر نہیں ہے ناں۔
وہ اپنے کلچر کے گن گا رہی تھیں۔ میں بہت متاثر ہوئی۔
بالکل آپ نے ٹھیک کہا۔
میرے پاس ایک پینٹنگ اور ہے جس پر غالب کا شعر لکھا ہے۔
انہوں نے فخر سے بتایا۔
اوہ واؤ یو آر لکی۔ مجھے واقعی ان پر رشک آیا کیونکہ ان کے باس یقیناً صادقین کی کوئی پینٹنگ تھی۔
اور میں نے غالب کی پوئٹری کی کتاب اپنے ڈرائنگ روم میں سجھائی ہوئی ہے۔ بالکل میری دادی کے چاندی کے پاندان کے ساتھ رکھی ہے۔
وہ جوش سے بتاتے بتاتے اب پوری اردو میں بول رہیں تھیں۔
اور میں دل میں بہت خوش تھی کہ بلاآخر غالب اور فیض کو ان کا جائز مقام مل گیا۔


