بادشاہ کے سائز کی زنجیریں اور غدار شہری


وہ دونوں پھر اپنے پر پھڑپھڑاتے ہیں اور اگلا سوال کرتے ہیں۔
مگر ایک بار پھر مجھ ناچیز ہی کے بارے میں!
تمہاری سلطنت میں اس شخص کو تمہارے پہریداروں نے دستانے پہن کر قتل کیا۔
پھر ان دستانوں کو تمہاری کرسی کے نیچے دبا دیا گیا۔
تم جانتے تھے نا کہ تمہاری کرسی کے نیچے خون آلود دستانے دبے رکھے ہیں!

وہ میرے خون کا الزام بھی میرے بادشاہ کے سر ڈال دیتے ہیں اور میں محسوس کرتا ہوں کہ میں ایک تنکا برابر آدمی دو طاقتوں کے بیچ پھنس چکا ہوں!
بادشاہ ایک سرسری نگاہ مجھ پر ڈالتا ہے۔
مجھے نہیں معلوم کہ وہ یہ شخص تھا!
مگر میں نے سنا تھا کہ وہ جو بھی تھا، میرے پہریداروں کو شک تھا کہ وہ غدار تھا۔
باغی تھا۔

میری ہنسی میرے حلق میں پھنسی رہ جاتی ہے۔
میں!
میں غدار تھا!
میں باغی تھا!
مجھے تو پیٹ پوجا سے ہی فرصت نہ ہوئی کبھی۔

پیٹ کی پوجا تو بندے کو بزدل بنادیتی ہے!
ہاں بھوکے کے منہ سے نوالہ چھینو تو بلبلا کر چار بول تو منہ سے اُگلے گا ہی!
میرے بھی بھوک سے مروڑ کھاتے پیٹ نے چند نعرے اُگلے تھے شاید!
میرے منہ میں خاک!
بس یہ کہا تھا کہ خاک ایسی سلطنت پر جو رعایا کا حق ادا نہ کرسکے!

دونوں سفید پروں والے اب بادشاہ پر بپھر چکے ہیں کہ صرف شک کی بنا پر تمہارے پہریداروں نے اسے ماردیا!
کیسے بادشاہ ہو تم کہ جسے یہ بھی نہیں معلوم کہ شک کی بنیاد پر تو ملزم کو معافی تک ہوجاتی ہے!
انسانی جان کی اہمیت سمجھتے ہو؟

بادشاہ اب چپ ہے۔
میں بھی ساکت۔
وہ بول رہے ہیں۔
ملک، سلطنت، ریاست، اقتدار، یہ سب فقط اس زمین پر رہنے والے انسانوں کی بقا کے لیے ہوتا ہے، یہ معلوم ہے تمہیں؟
بادشاہ چپ۔
اگر ملک، سلطنت، ریاست، اقتدار اپنے دائرے میں رہتی انسانی جانوں کو تحفظ نہیں دے سکتے تو پھر ان سب کا وجود بے معنی ہے، یہ معلوم ہے تمہیں؟
جواب میں ہم دونوں ساکت۔

اگر ملک، سلطنت، ریاست، اقتدار رعایا کو ان کے حق برابر نوالہ دینے کے بجائے اس نوالے سے اپنے مفادات کی خرید و فروخت کرتے ہوں تو بھوکے کا بلبلانا غداری نہیں کہلاتا۔
بلکہ بھوکی رعایا کی بلبلاہٹ کو کچلنا غداری ہے۔ یہ جانتے ہو؟
بادشاہ ساکت۔
ملک، سلطنت، ریاست، اقتدار، ان انسانوں کے دم سے قائم رہنا چاہیے جو ان کے زیرِتسلط زمین پر بستے ہیں۔
نہ کہ طاقت کا کھیل کھیلنے کے لیے۔
یہ جانتے ہو؟
بادشاہ اب بھی چپ۔

اچانک ایک سفید پروں والا بلند آواز سے کسی کو پکارتا ہے، جیسے فوجی افسر اپنے ماتحتوں کو آواز دیتا ہے۔
پلک جھپکتے میں ان ہی جیسے سفید پروں والے ماتحت آجاتے ہیں۔
انہیں افسرانہ انداز میں حکم دیا جاتا ہے۔
یہ اپنے ملک کا بادشاہ تھا۔ اسے اس کی سائز کے مطابق زنجیریں ڈالو۔
آن کی آن میں زنجیریں اتر آتی ہیں۔
مگر بادشاہ کا سائز!

ان زنجیروں کا تو پھیلاؤ ہی اتنا ہے کہ اس میں میرے ملک کی پوری زمین اپنے ایک ایک شہری سمیت آجائے!
گونج اتنی ہے کہ جیسے قیامت میں ایک اور قیامت برپا ہونے کو ہو!
دیکھتے ہی دیکھتے بادشاہ کو زنجیریں جکڑ لیتی ہیں۔
ہتھکڑیاں اور بیڑیاں بن جاتی ہیں۔
اور وہ اسے میری آنکھوں کے سامنے سے کھینچتے ہوئے اوجھل ہوجاتے ہیں۔
جیسے کبھی باشاہ تھا ہی نہیں!

اب صرف میں کھڑا ہوں۔
پوچھتا ہوں کہ میرے لیے کیا حکم ہے مائی باپ؟
کہتے ہیں کہ وہیں انسانوں کی قطار میں پھر سے جاکر کھڑے ہوجاؤ۔
تب سے اب تک
میں انسانوں کی طویل قطار میں کھڑا ہوں۔
قیامت ابھی تک برپا ہے۔
اور میں منتظر ہوں کہ میری خدا سے کب ملاقات ہوتی ہے!

Facebook Comments HS

صفحات: 1 2

نورالہدیٰ شاہ

نور الہدی شاہ سندھی اور اردو زبان کی ایک مقبول مصنفہ اور ڈرامہ نگار ہیں۔ انسانی جذبوں کو زبان دیتی ان کی تحریریں معاشرے کو سوچنے پر مجبور کر دیتی ہیں۔

noor-ul-huda-shah has 102 posts and counting.See all posts by noor-ul-huda-shah