شہر ہائے ذغالی
کوئی مدھوش کر دینے والے چھلکتے جام جیسی مجھ پہ ہی چھلک جاتی۔ حسد سے پاک میری لیلیٰ کھکھلا دیتی۔ میں اُس کی سہیلیوں سے نہیں لیلیٰ کی چاہ میں دیوانہ تھا۔ جس کا لمس بدن پر پانی کی مانند غیر محسوس طریقے سے پھسلتا جاتا۔ لذت ِ وصل کے بعد پھر سے باکرہ ہونے والی حسینہ مجھ پہ کنول کے پھول کی طرح پرت در پرت کُھلتی۔ جسے سہیلیاں رشک سے کہتیں! ” تیرا حسن اگر معلوم ہو جائے تو ہر کوئی تجھے پانے کی چاہ کرے گا“ آہ!
اس کا سراپا، انداز و ادائیں۔ ۔ ۔ ۔ جیسے لَپ میں شفاف پانی، ویسے ہی وہ مجھے اندر تک دکھائی دیتی۔ میں اسے پانے کے لیے کچھ بھی کر سکتا تھا۔ کچھ بھی۔ مگر میری جسمانی کمزوری آڑے آنے لگی۔ مجھے بندوق کے بجائے باردو بنانے کی تربیت ملنے لگی۔ زندگی میرے اور لیلیٰ کے درمیان اس گھونگھٹ کی طرح حائل تھی جسے اٹھاتے ہی سرورِ قربت کی گھڑیاں شروع ہو جاتی ہیں۔ میرے مزاج میں چڑ چڑا پن در آیا۔ شہادت کی تمنا نے میرے سارے وجود میں نشیلی سوئیاں چبھو کر مجھے مخمور کر دیا تھا۔
روز بہ روز دیوانگی کی شدت بڑھنے لگی۔ دل چاہتا میدان کارزار میں بس کود پڑوں اور کفار پہ وہ ہلہ بولوں کہ آخرش میری معشوقہ حورِ لائبہ جِسے میں پیار سے لیلیٰ کہتا باھیں پھیلائے اپنے نفیس آنچل کے سائے میں مجھے ہمراہ لے ہی جائے۔ میں اِذنِ شہادت مانگتا اور وہ کسی اور بخت میں لکھ دیا جاتا۔ میرا نام بدل چکا تھا۔ مگر میری سرشت وہی تھی۔ فطری ضروریات جن سے میں الگ تھا مجھے اندر ہی اندر سے کچوکے لگاتیں۔ کتنے سال بیت گئے میں نے عورت کا وجود تک نہ دیکھا تھا۔
مگر اس کے بارے میں دلفریب بیان سن سن کر دیوانہ ہو چکا تھا۔ غاروں میں انسان زندہ مگر انسانیت دفن ہو چکی تھی۔ یہیں مجھے معلوم ہوا کہ عاشق کا رشتہ محبوب کے ساتھ کِن دھاگوں سے بندھا ہے۔ مجھے لافانی ہستی کے لیے فنا ہونے کی آرزو تھی۔ امیر جماعت صحت مند جثے کے مالک، بادامی صافہ اوڑھے سفید براق لباس، گھنی چمکتی داڑھی اور منڈھی ہوئی مونچھیں، ہاتھ میں فون، جیپ سے اترتے ہی امیر مدرسہ کی کوٹھڑی میں گھس جاتے۔
ان کی معیت میں جہاد و جنت پہ روشنی ڈالنے والے استاد ہوتے۔ جو کہتے! ” جنت میں حوروں کے ہونٹوں سے جام پی کر یہی آرزو کرو گے کہ۔ ” ہزار بار بھی جیون ملا ہزار بار شہید ہونا چاہوں گا“ میں دل ہی دل میں بڑبڑاتا۔ کیوں نہیں استاد صیب! ”میں تو مچل رہا ہوں۔ “ پانی کے ہلکوروں پہ تیرتی جیون کی کشتی سے اتر کر حسنِ جاناں کے پہلو میں مدھوش ہونے کو۔ جہاں پیٹ بھر خوراک، نرم گرم بچھونے، اپسراؤں کی آغوش، شراب و شیر، بِنا جسمانی مشقت کے ہر نعمت کا حصول ہے۔
وہ جنت مجھے ہزار جان کے بدلے دل سے قبول ہے۔ میری کیفیت تو وہی سمجھ سکتا ہے جس سے آٹھ برس کی عمر میں ماں کی آغوش چھین لی جائے۔ جو بہن بھائیوں سے جدا، کنچے کھیلنے کے بجائے ویران چٹیل پہاڑوں کے دامن میں سخت گیر استادوں کی پھٹکار سنے۔ تندور کے لیے لکڑیاں چننے مارا مارا ویرانوں میں پھرتا رہے۔ پیاز چھیلے۔ آلو کاٹے۔ اور بدلے میں بدمزہ کھانے کھائے۔ تنگ و تاریک کال کوٹھٹری میں جہاں سردی کی شدت اور گرمی میں حبس کے سوا کچھ بھی نہیں تھا۔
ان مصائب کا گولہ بنا کر میں نے پیٹ پہ کب سے باندھ رکھا تھا۔ جب آنتیں غُرانے لگتیں تو دل کرتا آج ہی ان گمراہوں کو آزاد کر دوں جن بیخ کنی کے لیے بھیجا گیا ہوں۔ تاکہ پاؤں پسارے سکون سے سکھ کے تخت پہ بیٹھ سکوں۔ میرے دماغ کے خالی برتن میں یہی تیزاب دن رات انڈیلا جاتا کہ مومن کو راحت صرف براستہ جہاد جنت میں ملتی ہے۔ جس کا حصول کفار کا قتلِ عام ہے۔ اس بار قرعہ میرے دوست کے نام نکلا تو میں آزردہ ہو گیا۔
دو دن احتجاجاً بھوکا رہا آخر مجھے بھیجنے کا فیصلہ ہو ہی گیا۔ نعرہ تکبیر کے سائے میں میری الوداعی ہوئی۔ میرے ہم صنف رشک کی نگاہ سے مجھے دیکھنے لگے۔ جیسے میں کبھی جانیوالوں کو دیکھا کرتا تھا۔ میرے سر پہ سفید عمامہ اوڑھایا گیا۔ اس وقت میرا سینہ فخر سے بادبان کی طرح تن گیا۔ دین کے دشمنوں کو عبرتناک سزا دینے کے لیے سینے میں تلاطم خیز سمندر تھا۔ مگر ہائے افسوس! میں لیلیٰ کے عشق میں بے گناہ مارا گیا۔
میں جو شہادت کا طرہ باندھے نکلا تھا راستے میں بھٹک گیا۔ ظہر کا سورج آسمان سے سرک رہا تھا۔ پھر سے وہ لڑکیاں کتابیں تھامے یہاں سے گزرنے والی ہیں۔ مجھے کہا گیا تھا، یہاں کفر ہی کفر ہے۔ گویا وہ حق پہ تھے۔ پر مجھے تو یہاں پانچ وقت اذانیں سنائی دیتی ہیں۔ ۔ ۔ جو میرے دماغ پہ ہتھوڑے کی طرح برستی ہیں۔ قدرت کو کیا منظور ہے مجھے آج تک یہ معلوم نہ ہو سکا۔ دو کوس کے فاصلے پہ ایک پاگل لڑکا ہے جو ہر گاڑی کو حور سمجھ کر گلے لگانے کے لیے بھاگتا یے۔
میرے پاؤں سے داڑھیاں نہ بندھی ہوتیں تو میں اسے سمجھاتا۔ ”حور سرور کا ذکر نہ کر لالا یہاں تو دنیا ہی کوئی اور ہے۔ “ وہ کافی سال پہلے بارود سے بھری گاڑی یہاں لایا تھا۔ اس کا وجود گاڑی کے پرچخوں سمیت اڑ گیا۔ گڑھے میں دفن باقیات اب اِسے چین نہیں لینے دیتیں۔ کل کھمبے سے ٹیک لگائے ایک عسکر اپنے ساتھی کو کہ رہا تھا! ”ایک مسلمان کبھی خودکش حملہ کر ہی نہیں سکتا۔ “ دوسرا ساتھی نہایت مچلے پن سے بولا۔
”کیسے ماں باپ ہوتے ہیں جو اِن کی مرگ کے عوض پیسے کھاتے ہیں۔ چچ چچ چچ لالچی لوگ۔ ” میرا دل چاہا اٹھ کے منہ نوچ لوں ان کے۔ چچ چچ چچ۔ کیسے ماں باپ ہیں۔ ۔ ۔ جیسے تمھارے ماں باپ ہیں۔ اور کیسے ماں باپ ہیں۔ سارے وردی والے سپوتوں کے والدین کیا ان کی شہادت کی قیمت نہیں وصول کرتے؟ بس فرق صرف اتنا ہوتا ہے وہ حدودِ اربعہ کی حفاظت کے لیے اکسائے جاتے ہیں۔ ہم دین کے نام پہ۔ ان کا ملک خطر میں ہوتا ہے۔
ہمارا ایمان خطر میں۔ وہ بھی شہادت کی حشیش پی کر میدان میں اترتے ہیں ہم کو بھی جنت کی ساوی (بھنگ) پلائی جاتی ہے۔ وہ بھی مُہرے ہم بھی مُہرے۔ سبز جھنڈے اور چاند ستارے والے سارے ممالک نے جو ایک دوسرے کے خلاف دنگل سجا رکھے ہیں۔ نرا فساد۔ پڑھا تھا۔ ۔ ۔ لا تفرقو پر دیکھا اس کے باکل برعکس۔ سبھی مل کر وہ مقدس رسی جلانے میں مصروف ہیں جس سے بندھے رہنے کا حکم ملا تھا۔ فضائی حملے، کیمائی گیسیں اور گوریلا جنگیں نابود کرنیوالوں پہ حیران ہیں۔
بغاوت کرنیوالوں کے قتلِ عام پہ نازاں، برادرانہ ملکوں نے اکھاڑے سجا رکھے ہیں۔ پانی کی طرح خون بہا کر نجانے کس خدا کو خوش رکھنے کی کوشش کرتے ہیں؟ نجانے کس مذہب کا عَلم بلند کرتے ہیں؟ کس مذہب کا؟ حلف اٹھاتے وقت سب اُسی کے نام سے شروع کرتے ہیں جو نہایت رحم کرنے والا بڑا مہربان ہے۔ فیصلے کرتے وقت سب فراموش کر دیتے ہیں۔ ان کے خلاف کبھی کسی نے زبان نہ کھولی کیونکہ یہ فیصلے اُن کے ملکوں کے مفاد میں ہوتے ہیں۔
دوطرفہ نفرتیں کاشت کرنے کا موسم ختم ہونے کا نام ہی نہیں لیتا۔ عساکر کی قبروں پہ گل پاشی اور صندلیں لکڑی کے تابوت جن پہ شہادت کی میخین گاڑھ کے لواحقین کو تاحیات اس رزق کی تسلی دیتے ہیں جو مرنے کے بعد شہید کو ملتا رہتا ہے۔ میں تو ایک کلمے کو ایک مذہب سمجھتا تھا۔ باقی اراکین کی صوابدید امیر صاحب کے ذمے تھی۔ کیونکہ مجھے جو مقصد سونپا گیا تھا وہ ہر عبادت سے افضل تھا۔ یہاں سے محرم کے جلوس جب گزرے مجھے علم ہوا مذہب بھی ملکوں کی طرح بٹا ہوا ہے۔
ماتم کناں کہتے ہیں کربلا کے بعد اسلام زندہ ہو گیا۔ اب مرے ہوئے کو کوئی کیا مارے گا؟ چلو کہہ ہی دیتا ہوں! اسلام کا تو اسی دن وصال ہو گیا تھا عاشقوں، ولیوں اور صوفیوں کے ساتھ۔ جو سُر سنگیت کی طرح محبت و گیان بانٹنے نکلتے ہیں تو سرحدوں کی پروا تک نہیں کرتے۔ اُسی رات دفن بھی ہو گیا جس رات خمیے جلا کر بیبیوں کو بھاگنے پہ مجبور کیا گیا۔ آج بھی مجھے بیبیاں بھاگتی نظر آتی ہیں۔ برہنہ پا ننگے سر اپنے سپوتوں کو پیٹتی ہوئی۔
کوئی سرِ راہ دھماکے میں شہید ہوا۔ کوئی بِنا سر پہ کفن لپیٹے مکتب میں۔ کسی کا جسد جھنڈے میں لپٹا گھر آیا۔ کسی کا جسم ہی نہ مل سکا۔ سکینہ مقتل میں صدیوں سے دوڑ رہی ہے۔ اضطراب کا انت ہی نہیں ہوتا۔ پر مانتا کوئی نہیں کہ سرحدوں کو دین کے لیے نہیں مطلب کے لیے وسعت دی جا رہی ہے۔ مقاتلہ اب سب کا مشترکہ مذہب ہے۔ مفاد تن فن کے پنپتے پنپتے اژدھا بن چکا ہے جو ہزاروں سالم انسان یکمشت نگل لیتا ہے۔ ہم سب اُسی کے پیروکار ہیں جس کی قبر پہ کوئی گُل تک نہیں اگتا۔
شام ڈھلنے لگی ہے۔ وحشتِ ہنگام سے پرے آزردگی میں اضافے کی گھڑی شروع ہوئی۔ بے ہنگم گاڑیوں کی تعداد کم ہوتے ہوتے نہ ہونے کے برابر ہوگئی۔ وہ پاگل اب ٹیک لگائے سستا رہا ہے۔ اُسے بے خودی کی سزا ملی، مجھے آگہی نے کہیں کا نہ چھوڑا۔ ۔ ۔ ۔ ۔ آخرش شام ڈھل گئی۔ ۔ ۔ ۔ لیلیٰ لیلیٰ لیل ہوئی۔ میرے حصے میں بس شب کی سیاہی آئی۔ سکون تو اُس دن چھن گیا تھا جس دن مجھے مارا گیا تھا۔ انگریزی گیت کی کان پھاڑتی آواز نے سوائے پرندوں کے کسی کو متوجہ نہیں کیا۔
امیر زادہ۔ آوارہ۔ شراب کے نشے میں دھت۔ بارہا یہیں میرے اوپر الٹیاں کر کے گزر گیا۔ آخ تھو۔ میں پاک ماں کا طیب بیٹا یہ حرامزادہ کیا جانے۔ سوچ کے ہی طبعیت مکدر ہونے لگتی ہے۔ جیسے ہی یہ شب ڈھلے گی۔ ٹھیک صبح عین اس وقت جب مکاتب، دانش گاہوں دفاتر جانیوالی گاڑیوں اور پیدل چلنے والوں کا ہجوم ہوگا میں پھر سے خودکش جیکٹ کھولوں گا۔ میرے سمیت سب اڑ جائے گا۔ نہیں۔ نہیں نہیں۔ وہ تو سات سال پہلے اڑ کے آسمان کے پار چلے گئے تھے۔ اپنی سارے اعضا میرے قدموں میں باندھ کے جن کے بوجھ نے مجھے جنت جانے سے روک رکھا ہے۔ بس ایک میں ہی اسی اذیت سے ہر روز گزرتا ہوں۔ مجھے آج تک یہی غم ہے۔ مجھے تو شہید ہونا تھا۔ یہ حادثہ میرے ساتھ کیسے ہو گیا؟

