لنگر والے نے دیگ سے چمچہ بھر کے سالن برتن میں ڈالا۔ قطار سے ایک آدمی ہٹا تو میری باری آئی۔ میں کاسہ ہاتھ میں تھامے گداگر کی طرح خیر کا منتظر تھا۔ باورچی نے ہاتھ اوپر کیا، شوربے کی آبشار میرے کاسے میں گرنے لگی۔ میں نے کٹورے میں جھانکا وہ سرخ، گرما گرم تازہ لہو میں بدل چکا تھا۔ میرے ہاتھ لرزنے لگے اور برتن گر گیا۔ زمین پہ گری مرغی کی ٹانگ مجھے اپنی ٹانگ لگی۔ میں نے لپک کر اسے اٹھایا سینے سے لگاتے ہی دل بھر آیا نجانے کیسے ضبط ٹوٹا آنکھوں کے کائی زدہ حوض ابل پڑے۔
آنسو مانوس رستے پہ بہنے لگے۔ مٹی میں لتھڑا زمین گیر شوروا چھلاورن واسکٹ پہ اس خون کی مانند لگا جسے بہتے بہتے چالیس سال گزر گئے۔ میں نے کندھے پہ رکھے رومال سے زمین کو رگڑنا شروع کیا مگر وہ سرخی نہ سمیٹ سکا۔ نا ہی لوگوں کے پیروں، قمیضوں کے دامن اور شلواروں کے پائنچوں سے اس کے داغ مٹا سکا۔ ہر ایک داغ میرے دماغ میں محفوظ میری کہانی کی مصوری میں ڈھلنے لگا۔ زمین پہ میری زندگی بکھری پڑی تھی۔ میری ٹانگ بھی جو بارودی سرنگ کے پھٹنے سے میری آنکھوں کے سامنے ہوا میں اڑتی ٹوٹے کھلونے کی طرح دور جا گری۔
Read more