بامعنی تحریک کو سبوتاژ کرتی عورتیں

تاریخ میں کچھ تحریکیں ایسی بھی ہیں جو بہت بدنصیب ہیں۔ جس جوش ’ولولے اور مقاصد کو مدنظر رکھتے ہوئے پختہ عزائم کے ساتھ انھیں کبھی ماضی میں شروع کیا گیا اُن کے ساتھ انصاف کرنا تو درکنار بلکہ اب ان تحریکوں کی اصلی ہیت ہی مسخ کر دی گئی ہے۔ ان میں ایک تحریک…

Read more

خاک و آتش

وہ آگ کے بچاری تھے۔ مقدس آگ کے آہنی الاؤ میں دہکتے انگارے ان کی مرادیں پوری کرتے۔ وہ الاؤ سے دعاؤں کے ہاتھ تاپتے۔ انھیں تائید کی حرارت ملتی جو ان کی زندگیوں کے لیے امرت تھی۔ سالہاسال یافت اور نایافت کے زندانوں میں دوزانو آتش کو بھڑکاتے رہے۔ ان کے بزرگ پہاڑوں کی…

Read more

بریدہ خوابوں کے نامعلوم لاشے

لنگر والے نے دیگ سے چمچہ بھر کے سالن برتن میں ڈالا۔ قطار سے ایک آدمی ہٹا تو میری باری آئی۔ میں کاسہ ہاتھ میں تھامے گداگر کی طرح خیر کا منتظر تھا۔ باورچی نے ہاتھ اوپر کیا، شوربے کی آبشار میرے کاسے میں گرنے لگی۔ میں نے کٹورے میں جھانکا وہ سرخ، گرما گرم تازہ لہو میں بدل چکا تھا۔ میرے ہاتھ لرزنے لگے اور برتن گر گیا۔ زمین پہ گری مرغی کی ٹانگ مجھے اپنی ٹانگ لگی۔ میں نے لپک کر اسے اٹھایا سینے سے لگاتے ہی دل بھر آیا نجانے کیسے ضبط ٹوٹا آنکھوں کے کائی زدہ حوض ابل پڑے۔

آنسو مانوس رستے پہ بہنے لگے۔ مٹی میں لتھڑا زمین گیر شوروا چھلاورن واسکٹ پہ اس خون کی مانند لگا جسے بہتے بہتے چالیس سال گزر گئے۔ میں نے کندھے پہ رکھے رومال سے زمین کو رگڑنا شروع کیا مگر وہ سرخی نہ سمیٹ سکا۔ نا ہی لوگوں کے پیروں، قمیضوں کے دامن اور شلواروں کے پائنچوں سے اس کے داغ مٹا سکا۔ ہر ایک داغ میرے دماغ میں محفوظ میری کہانی کی مصوری میں ڈھلنے لگا۔ زمین پہ میری زندگی بکھری پڑی تھی۔ میری ٹانگ بھی جو بارودی سرنگ کے پھٹنے سے میری آنکھوں کے سامنے ہوا میں اڑتی ٹوٹے کھلونے کی طرح دور جا گری۔

Read more

بوٹ، تابوت اور ارمان

وہ خاموش رہی مگر اُس کے آنسؤوں کی روانی میں وہی کہانی تھی جو دریدہ دل، لرزیدہ زبان پہ ہوتی ہے۔ تہہ در تہہ، گنجلک جس کی جڑیں کئی تہذیبوں سے ٹکراتی ہیں۔ جہاں سے حقوق کی شاخیں پھوٹتی ہیں۔ وہ انھی شاخوں کی آبیاری پہ مامور تھی۔ اِس سے قبل اُسے علم نہیں تھا…

Read more

شہر ہائے ذغالی

سِن پندرہ سال پر سات سال اوپر گزر گئے ابھی تک میری داڑھی نہیں آئی۔ البتہ بہت سی داڑھیاں رسی کی طرح بَٹی ہوئی میرے پاؤں سے لپٹی ہوئی ہیں۔ نجانے کب قیامت ان بیڑیوں کو کھولنے آئے گی؟ چوک پہ کھڑا ٹریفک پولیس میری طرح پچھلے سات سالوں سے یہیں ہے۔ اِس سے پہلے کوئی اور تھا جو اس کی طرح بے ہنگم گاڑیوں کے آہنی اژدھام کو سمیٹنے کی کوشش میں دن سے شام کر دیتا۔ اِس کے منہ میں دبی سیٹی لعاب دہن کی وجہ سے کبھی کبھی ٹھیک سے آواز نہیں نکالتی۔

پر ایسا تب ہوتا ہے جب اِس کے اعصاب خراب ہونے لگتے ہیں۔ زمین سے تقریباً تین فٹ اونچی چار ضرب چار اور چپٹی آلمانی، اطالوی بیش قیمت سریع الحرکت گاڑیوں میں بیٹھے مغرور مالکان جن کی گردنیں ڈالرز کے کلف سے اکڑ چکی ہیں، اکثر اس کے اشاروں کو روندتے گزر جاتی ہیں۔ تب یہ پیلی کھٹارا موٹر کی کھڑکی میں آدھا دھڑ گھسائے ڈائیور پہ پِل پڑتا ہے۔ جو دو چار تھپڑ کھانے کے بعد اُدھڑی واسکٹ درست کرتے ہی شیشہ اوپر چڑھائے موٹی موٹی گالیاں دے کر اپنی بھڑاس نکال لیتا ہے۔

Read more

گلوریا جینز میں شام اور ہزار داستان

نصیر احمد ناصر صاحب کی نظم پہ تبصرہ کرنا سورج کو چراغ دکھانے جیسا ہے مگر میں چراغ دکھانے کے بجائے چاندنی کی طرح ان کی نظم کا عکس بننا چاہوں گی تاکہ سورج کی مستعار روشنی کو اپنے نظریے میں ڈھال کر پھر سے اجالا کر سکوں ـ نصیر احمد ناصر عصرِ حاضر کے…

Read more