کشمیر کے چند ممکنہ حل
پاک و ہند کی آزادی سے ہی کشمیر دونوں ممالک کے مابین فساد کی جڑ ثابت ہوا ہے۔ 71 سال بعد بھی مسئلہ کشمیر پاک و ہند تعلقات میں اہم مقام رکھتا ہے۔ اس تنازعہ کے بیج تقسیم کے وقت ہی بو دیے گئے تھے جب 565 ریاستوں کی اپنی مرضی سے پاکستان یا ہندوستان کے ساتھ الحاق کرنے کا حق تفویض کیا گیا۔ اس وقت کشمیر 77 % فیصد مسلمان آبادی کے ساتھ ہندو مہاراجہ کے ماتحت تھا۔ کشمیر ایک landlocked خطہ ہے جو برِ صغیر کے جنوب مغرب میں واقع ہے۔ 85,806 مربع میل پر مشتمل ہے، جس میں سے 31,643 مربع میل بھارت کے قبضہ میں ہے اور 12,387 مربع میل پاکستان کے ماتحت ہے۔ بھارت جموں، کشمیر اور لدخ ڈویژن پر قابض ہے جبکہ پاکستان مغربی جموں، پونچ، لدخ، سکردو اور گلگت پر قابض ہے۔ درج ذیل کوششوں سے اس مسئلے کو حل کیا جا سکتا ہے۔
پانی کا مسئلہ:
بھارت پانی کی تقسیم کے معاملے میں پاکستان سے غیر منصفانہ رویہ روا رکھتا ہے جو کہ کشمیر سے بھی بڑے مسئلے کی شکل اختیار کر سکتا ہے لہذا فوری کا متقاضی ہے۔ پچھلی دہائی میں پاک بھارت تعلقات پانی کی تقسیم کی وجہ سے متاثر ہوئے ہیں۔ اگر بیرونی دباؤ یا انسانی حقوق کے تحت مسئلہ کشمیر حل ہو بھی جائے تو پانی کا مسئلہ وہیں کا وہیں رہے گا یا شاید شدت اختیار کر جائے کیونکہ بھارت پانی پر اپنی اجارہ داری قائم کرنا چاہتاہے لہذا اس مسئلہ پر ہنگامی بنیادوں پر کام کرنا ضروری ہے تاکہ جغرافیائی location سطحی خدوخال، پانی کی سیاسی حدود، آبادی اور رہائش، اندرونی حالات، بیرونی تعلقات اور پانی کی فراہمی کا تعین کیا جا سکے۔
سماجی و ثقافتی ملاپ:
پاکستان کو تین سطحی سیاسی حل کے لئے کوشش کرنی چاہیے جس میں کشمیریوں سے تعلقات بڑھائے جائیں، بیرونی اور اندرونی معاشی معاملات کی بحالی اور استحکام کو یقینی بنایا جا سکے۔ اسٹریٹیجک مذاکرات، CBMs اور کشمیریوں کو متاثرکرنے کے لئے پاکستان کا استحکام اور بارڈر پر نرمی کی بہت ضرورت ہے۔
مستقل قومی کشمیر پالیسی:
اندرونی سیاسی استحکام، معاشی ترقی اور باہمی اتفاق ہی سے اندرونی محاذ تیار کیا جا سکتا ہے۔ پاکستا ن کو عالمیopinion بنانے کے لئے کوشاں رہنا چاہیے۔ جس میں ذرائع ابلاغ مثبت کردار ادا کر سکتا ہے۔ سماجی اور معاشی ترقی کے لئے دوسروں پر انحصار سے گریز کرنا چاہیے۔ مضبوط سیاسی، سماجی اور معاشی initiativesلئے جائیں تاکہ کشمیر اور شمالی علاقہ جات کی ترقی کو یقینی بنایا جا سکے۔ طلبہ یونین، وکالتی گروپ، تعلیمی گروپ اور تھنک ٹینکس بنا کر عالمی ذرائع ابلاغ، پاکستانی اور کشمیری علماء کو ان کا حصہ بنانا چاہیے تا کہ وہ کشمیر کے حقائق سے دنیا کو آگاہ کر سکیں۔
ایک جامع اور عملی پالیسی تیار کی جانی چاہیے جو کشمیر کے متعلق قومی قوت کے عناصر کا احاطہ کرتی ہو۔ سارک کو مضبوط کیا جانا چاہیے تاکہ ممبر ممالک کے مابین تعاون کو بہتر بنایا جا سکے۔ دونوں ممالک کو بارڈر پر لچکداری کا مظاہرہ کر کے دونوں اطراف کے لوگوں کو ملنے جلنے کا موقع فراہم کرنا چاہیے، جس سے لائن آف کنٹرول کی ساکھ متاثر کیے بغیر تجارت کو بھی فروغ دیا جا سکے۔


