(5th Feb) کشمیر، پاکستان کی شہ رگ

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

تحریر: ڈاکٹر محمد عماد بن رمضان

[email protected]

فارسی کے مشہور شاعر شیرازی نے کہا تھا کہ اگر کوئی مردہ پرندہ وادی کشمیر آجائے تو وہ بھی زندہ ہو جاتا ہے۔ اگر آج ً 5 فروری 2019 ء کو کوئی شاعر یا فلسفی کشمیر بارے کچھ لکھنا چاہے تو اس کے قلم سے سیاہی نہیں لہو ابل پڑے گا۔ ساٹھ سالہ ظلم و ستم کی یہ داستان آنے والے وقتوں میں جب کوئی تاریخ کا طالبعلم پڑھے گا تو وہ اس دور کے باسیوں پر لعنت ضرور بھیجے گا جس دور کے ”خود ساختہ آقاؤں“ کو اپنے ”لاڈلو ں“ کے ساتھ ظلم و ستم ہو تا تو صاف دکھ رہا ہے مگر 71 سال سے ظلم و ستم کی چکی میں پسنے والے کشمیریوں کا دکھ جانے کیوں ان کی نظروں سے اوجھل ہے۔

محترم قارئین! 5 فروری کو ”یوم یکجہتی کشمیر“ منایاجاتاہے۔ اس دن دنیا بھر میں بسنے والے پاکستانی کشمیریوں کے ساتھ ا ظہاریکجہتی کرتے ہیں۔ اور دُنیا کو باور کراتے ہیں کہ ایک دن کشمیری اپنا حق خودارا دیت ضرور حاصل کر لیں گے۔ کیونکہ تاریخ اس بات کی گواہ ہے کہ کشمیریوں کو مٹانے والے خود مٹتے رہے ہیں۔ بھارت نے ظلم و ستم کی جو داستانیں رقم کرنی ہے کر لے۔ عالمی انصاف کے علمبرداروں نے انصاف کے جن تقاضوں کو پورا کرنا ہے کر لیں۔ اقوام متحدہ نے خاموشی کے جتنے ”میڈلز“ پہننے ہیں پہن لیں۔ بے حس دنیا نے جتنا ظلم و ستم دیکھنا ہے دیکھ لے۔ مگر ”کشمیر بنے گا پاکستان“ ایک حقیقت ہے جسے بھارت والے مٹا نہیں سکتے کیونکہ یہ حقیقت کشمیری اپنے لہو سے لکھ چکے ہیں۔

قارئین تقسیم ہند کے وقت تقریباً 560 آزاد ریاستیں تھیں جو تاج برطانیہ کے ماتحت تھیں۔ تقسیم ہند کے فارمولے کے تحت ان آزاد ریاستوں کو یہ اختیار حاصل تھا کہ وہ اپنی مرضی سے پاکستان یا بھارت کے ساتھ الحاق کر سکتی ہیں۔ ان میں سے ایک اہم ریاست جموں و کشمیر تھی۔ اس ریاست کی غالب آبادی مسلم ہے اور اس کا رقبہ کرہ ارض کے 113 ممالک سے زائد ہے اور ریاست کشمیر آبادی کے لحاظ سے 136 آزاد ممالک سے بڑی ہے۔

قائد اعظم محمد علی جناح ؒ نے قیام پاکستان سے قبل اپنے دورہ کشمیر کے دوران کشمیر کو پاکستان کی شہ رگ قرار دیا تھا۔ اس طرح جموں و کشمیر کے عوام اور پاکستان کے درمیان یکجہتی کی ایک طویل اور لازوال تاریخ ہے۔

تقسیم ہند کے وقت کشمیری پاکستان کے ساتھ الحاق چاہتے تھے مگر اس وقت کے وائسرے لارڈ ماؤنٹ بیٹن نے مہاراجہ کے ساتھ مل کر تقسیم ہند کے ضابطوں کے برعکس کشمیر کا الحاق بھارت سے کر دیا۔ یہ شاید بیسویں صدی کی سب سے بڑی بد دیانتی تھی ا الحاق کی آج تک کوئی تحریری دستاویز سامنے نہیں آئی۔ کشمیری عوام مہاراجہ کی اس بد دیانتی پر سیخ پا ہو گئے اور انہوں نے علم بغاوت بلند کر دیا۔ 26 اکتوبر 1947 ء کو مہا راجہ کے الحاق بھارت کے فوراً بعد 27 اکتوبر کو بھارتی فوج نے کشمیر پر یلغار کر دی۔

اس طرح جدوجہد آزادی کشمیر کے موجودہ مرحلے کا آغاز ہوا۔ اس تحریک کے نتیجے میں آزاد کشمیر کا ساڑھے چار ہزار مربعہ میل علاقہ آزاد ہوا۔ جب جدوجہد آزادی کشمیر اپنے عروج پر تھی تو بھارت ایک مکروہ چال چلتے ہوئے کشمیر کا مسئلہ سلامتی کونسل میں لے گیا جہاں پر یہ قرار داد منظور ہوئی کہ کشمیر کا مسئلہ رائے شماری سے حل کیا جائے جس پر دونوں ممالک نے اتفاق کیا مگر بھارت نے آج تک رائے شماری کے عمل کو ممکن نہ ہونے دیا اور ہر دور کے بھارتی حکمرانوں نے اپنے ”ڈیڈی“ نہرو کے عالمی اور علاقائی برادری سے کیے گئے وعدوں کو اہمیت نہ دی نہ صرف یہ بلکہ بھارت نے ہر دور میں کشمیریوں اور پاکستان کو جدا کرنے کی سازشیں کیں لیکن ہر دور میں بھارت کو منہ کی کھانی پڑی کیونکہ کشمیر ی اور پاکستانی عوام نہ صرف اپنے قائد (محمد علی جناح) کے فرمان پر قائم ہیں بلکہ کشمیری ہر روز اپنی جانوں کا نذرانہ دے کر ”کشمیر پاکستان کی شہ رگ ہے“ کو مزید تقویت دیتے ہیں۔

47 ء سے لے کر آج تک بھارتی افواج نے ظلم و بربریت کی ایک ایسی مثال قائم کی ہے جسے دیکھ کر یوں لگتا ہے کہ بھارت جنت ارضی نہیں بلکہ کسی قبرستان پر قابض ہو نا چاہتاہے۔

آج ہم 5 فروری 2019 ء یوم یکجہتی کشمیر اس جذبے کے ساتھ منا رہے ہیں کہ وہ دن دور نہیں جب کشمیری عوام اپنی منزل مقصود پا لیں گے کیونکہ

کشمیر اٹوٹ انگ ہو جائے ہو سکتا نہیں

قربانیاں رنگ نہ لائیں ممکن ایسا نہیں

مقید جسم ہوسکتے ہیں دل نہیں

ساتھ خدائی چھوڑ سکتی ہے پر خدا نہیں

جس باغ کا محافظ خود باغبان ہو

ایسا باغ لٹا ہوا ہم نے دیکھا نہیں

شمع جلتی رہے اور پروانے نہ آئیں

زمانے میں ایسا ہوا ہو ہم نے سنا نہیں

اک دن ٹوٹیں گی غلامی کی زنجیریں عماد

اندھیرے کے بعد آئے اندھیرا دستور ایسا نہیں

image_pdfimage_print
Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •