یہ نہ ارشاد ہوا توپ سے کیا پھیلا ہے


یِہی فرماتے رہے تِیغ سے پھیلا اِسلام

یہ نہ ارشاد ھوا توپ سے کیا پھیلا ہے

(اکبر الہ آبادی)

اکبر (حسین رضوی) الہ آبادی پرانے دور کے آدمی تھے۔ زندگی کے آخری ایام جنگ عظیم اول کی توپوں کی گھن گرج میں گذرے تو دل کے پھپھولے توڑنے کو لبرل، مہذب اقوام کی ترقی کی تب تک کی معراج توپ کا ذکر داغ ڈالا۔ چند سال مزید جی لیتے تو جی کو ذرا اور ہلکا کر لیتے کہ کہنے لکھنے کو بہت کچھ ہاتھ لگ جاتا۔ ایٹم بم کی آزمائش سے دو دہائی پیشتر مٹی میں مل کر مٹی نہ ہوئے ہوتے تو اپنے اس شعر کا دوسرا مصرعہ تھوڑی سی تخفیف سے کچھ یوں ارشاد فرماتے

یہ نہ ارشاد ہوا ایٹم بم سے کیا پھیلا ہے

جنگ و جدل انسانی فطرت اور ضرورت کے تابع اعمال ہیں جن کا مذہب یا دین سے براہ راست کوئی تعلق نہیں۔ ہاں اتنا ضرور ہے کہ ہر زمانے میں ادیان کے مابین کھینچاتانی اس قسم کے حالات پیدا کرتی رہی کہ جنگیں ہوتی رہی ہیں۔ لیکن ان سب کے باوجود جنگوں کے اصل محرکات وسائل پر زیادہ سے زیادہ قبضہ کرنے کے لیے اقوام کو سرنگوں رکھنا اور علاقائی و قومی عصبیت کو فوقیت حاصل رہی ہے۔ الیگژینڈر دی گریٹ کس مذہب کی تبلیغ کے لیے نکلا تھا کہ دنیا کی اینٹ سے اینٹ بجا دی۔ لبرل اقدار کو یہی بات شاید بھا گئی اس کی جو اسے دیشت گرد، سنکی یا بنیاد پرست جیسے القبات سے محروم رکھتے ہوئے اس کے لیے دی گریٹ کا لقب استعمال کیا۔ وگرنہ یہی کچھ جو الیگژینڈر نے کیا تھا بخت نصر کی کارگذاری ہے۔ لیکن فلسفہ تو فلسفہ ہے اور اس پہ اہل سائنس کی تصدیقی چھاپ لگ جائے تو پھر کس کی مجال کوئی اسے جھٹلا دے۔ ایسا سوچنے کی جسارت بھی اچھے بھلے ذی شعور کے لیے تارک الدنیا و کم فہم ہونے کا سرٹیفیکیٹ ثابت ہوگی۔ اور ہو بھی کیوں نا؟ اہل مذہب نے دنیا کو دیا ہی کیا ہے۔ یہ سائنس ہی تو ہے جس نے کیا کیا کرامات (معذرت کے ساتھ کہ لفظ کرامات مذہبی ہے) دنیا کو دکھائی ہیں۔ دو بڑے اعتراض جو مذہب پر لگائے جاتے ہیں وہ انسانی غلامی اور جنگ و جدل ہیں۔ اس حوالے سے چند گذارشات پیش کرنے کی جسارت کی ہے۔

دنیا کے جدید ترین مذہب اسلام نے غلامی کے مروجہ نظام کو مرحلہ وار ختم کرنے کا سامان کچھ اس طرح سے کیا کہ وہ ذرائع جو آزاد انسانوں کو غلام بنانے کے لیے استعمال ہوتے تھے ان پر پابندی عائد کر دی۔ دنیا کا ایک ہی نظام تھا انسانوں کو غلام بنانے کا اور وہ تھا جنگ۔ بقول جاوید احمد غامدی اسلام نے اس کا قلع قمع کچھ یوں کیا کہ جنگ کے نتیجے میں قید ہونے والوں کے لیے ایک ضابطہ کار طے کر دیا۔ اب جو لوگ جنگی قیدی ہوں گے، وہ غلام نہیں بنائے جائیں گے۔ ایک رقم فدیہ کی مد میں مقرر کردی گئی جسے ادا کر کے کوئی بھی قیدی آزادی حاصل کر سکتا ہے۔ اس کے علاوہ جو لوگ اس ادئیگی سے قاصر تھے ان کے لیے یہ امر طے کر دیا کہ اگر وہ کچھ ہنر جانتے ہیں تو وہ فاتح کو سکھا کر آزادی حاصل کر سکتے ہیں۔ محمد رحمت اللعالمین صلی اللہ علیہ وسلم کی حیات مبارکہ کے آخری دس سال جنگ کے میدانوں میں گذرے۔ بے شمار فتوحات سے اللہ نے سرفراز کیا۔ کوئی ایک مثال تاریخ کے بڑے سے بڑے مستشرقین تک سامنے نہ لا سکے کہ محمد صلی اللہ علیہ وسلم نے غلاموں کی تجارت کی ہو۔ وگرنہ وہ تو وہ زمانہ تھا جس کی سب سے بڑی تجارت تھی ہی انسانی تجارت۔ اسلام نے بطور دین اس قبیح عمل کی سختی سے ممانعت فرمائی۔

انسانوں کو غلام کس نے بنایا؟ اس کا تاریخ جواب دیتی ہے۔ انسانوں کو غلام ایک بار پھر اہل یورپ نے بنایا۔ اور ایسا کرنے کی وجہ مذہبی قطعی طور نہ تھی۔ چرچ کی خدمت کے لیے انسانوں کو غلام انہوں نے بھی نہیں بنایا بلکہ اپنی ضروریات پوری کرنے کے لیے ایسا کیا گیا۔ ترقی کی معراج پانے کے لیے نہر پانامہ میں غلاموں کی نسلوں کو جھونک دیا گیا۔ (نہر پانامہ کے منصوبے پر 1881ء میں کام شروع ہوا اور یہ نہر اگست 1914ء میں پہلی بار کھولی گئی۔ امریکہ میں 1865ء میں غلامی کو ممنوع قرار دیا جا چکا تھا۔ مدیر) امریکہ آج جن مضبوط بنیادوں پر قائم ہے وہ انسانی گوشت پوست پر قائم ہے۔

جس صنعتی ترقی کا راگ دن رات الاپا جاتا ہے وہ ذمہ دار ہے انسانوں کی غلامی کی۔ لوہے کی بھٹیوں اور کوئلے کی کانوں میں کام کرنے کے لیے جدید دنیا کے روشن زمانا جسے age of enlightenment کہا جاتا ہے میں مہذب اقوام نے غلاموں کی تجارت کر کے انسانیت کو لبرل اقدار سے روشناس کروایا ہے۔

دوسری بات جس کا شورشرابا ہر سو سنائی دیتا ہے وہ سائینسی ایجادات کی ہے۔ کہا جاتا ہے کہ اہل مذہب نے کچھ نہیں کیا۔ چلو مان لیتے ہیں کچھ نہیں بھی کیا تو کیا وہ غلط ہوگئے۔ اور جنہوں نے سب کچھ کیا وہ کس کے لیے کیا؟ انسانوں کی فلاح کے لیے؟ سوال ہی پیدا نہیں ہوتا۔ ہر زمانے میں ملکوں ملکوں جو ایجادات ہوتی رہی ہیں ان کے پیچھے ایک ہی سوچ کارفرما تھی کہ کسی طرح اپنی قوم قبیلے کو دوسروں سے طاقتور بنا دیں۔ گولہ بارود اسی سوچ کی پیداوار ہے۔ بات یہیں تک نہیں رکتی بلکہ عظیم سائنسدان لوئس پاسچر نے اپنی دریافت (شراب جسے اس وقت کے انقلابی کہتے ہیں کہ پاسچر کے اس ایک کارنامے نے تنہا فرانس کو تباہی سے بچا لیا تھا) کے عوض گولہ بارود کی تجارت تک کی تاکہ اس کا ملک جنگ جیت سکے۔ امریکہ نے تنہائی میں گذارے گئے سالوں میں کس غرض سے اس قدر اسلحہ ، گولہ بارود یہاں تک کہ ایٹم بم بھی بنا لیا تھا۔ کیوں آخر کیوں؟ (ایٹم بم بنانے کے لئے مین ہٹن پراجیکٹ کی منظوری دسمبر 1942 میں دی گئی۔ پرل ہاربر پر جاپانی حملہ دسمبر 1941 میں کیا گیا تھا۔ جرمنی نے 1938 میں ایٹم بم کی تیاری شروع کی تھی۔ مدیر) امریکہ تو دیگر ممالک کی پہنچ سے بہت دور امن پسند ملک تھا پھر ایسا کیوں کیا؟ کیوں سائنس و فلسفے کے پیروکاروں نے کہ پلک جھپکتے رستے بستے شہروں کو راکھ کا ڈھیر بنادینے والے بم تیار کیے؟ کس مذہب کے لوگوں نے انہیں ایسا کرنے کے لیے اکسایا تھا؟ یہ سب دنیا پر غلبہ پانے کی وہی سوچ تھی جو مقدونیہ کے الیگژینڈر کے دماغ میں سمائی تھی۔ جس کی تکمیل کے لیے ریڈ انڈینز کو جانوروں سے بھی بدتر ذندگی دی گئی۔ اسی کے لیے افریقہ سے عرب تک اور انڈیا سے انڈونیشیا ملائیشیا تک کی عوام غلامی کی زنجیروں میں جکڑ کے رکھا گیا۔

جس وقت دنیا پر غلبے کی کھینچا تانی جاری تھی تب اسلامی دنیا تقریبا غلامی کا شکار تھی۔ ایک طرف لبرل جاپان تھا تو دوسری طرف لبرل امریکہ۔ ایک ہی مذہب کے ماننے والے روسی ، جرمن، فرانسیسی، اطالوی و انگلستانی کس وجہ سے بر سروپیکار تھے۔ اس کا سیدھا سادہ سا جواب ہے وسائل پر غلبہ اور قبائلی عصبیت۔ نہ کسی مذہب نے ایسا کرنے کا حکم دیا ہے نہ کسی مذہب کے راہنما کی ایسی متشدد سوچ رہی ہے۔ یہ انسانوں کی اپنی نفسیات کے کرشمے ہیں جو انہیں شمشیر و سناں سے نکال کر ایٹم بم تک کی تباہ کاریوں تک لے آئی ہے۔

موجودہ صدی میں عراق، افغانستان، لیبیا، یمن اور شام میں ہونے والی خون ریزی کا اصل سبب وسائل پر غلبہ اور دنیا پر چودھراہٹ قائم کرنے کی سوچ کارفرما ہے۔ لیکن یہ باتیں ان کے لیے ہیں جو عصبیت کی عینک اتارکر تاریخی حقائق کو جاننے کی کوشش کریں۔ وگرنہ اہل مذہب ہی سوفٹ ٹارگٹ ہیں کہ جس کے جو جی میں آئے لکھ کے سستی دانشوری کی چھاپ اپنی پیشانی پہ سجائے پھرتا ہے۔ رہے نام اللہ کا۔

Facebook Comments HS