روحی بانو: میرا خدا اور زمانہ

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

میرا خدا کہتاہے، زمانے کو برا نہ کہو، اس لئے کہمیں ہی زمانہ ہوں۔ توکیا میں خدا کا گنہگارہوجا ؤں، یہ کہہ کر کہ میری ممدوح روحی بانو خود نہیں مری بلکہ اسے اس ظالم زمانے نے اپنی روایتی بے حسی اور ناقدری کے پے درپے کچکوکے دے دے کر مار دیا۔ آہستہ آہستہ اپنے چھوٹے چھوٹے ذاتی مفادات کے انجکشنوں میں سستی شہرت کا زہر بھر بھر کر اس کی رگوں میں اتارا گیا۔

وہی زمانہ جس نے گورنمنٹ کالج میں تعلیم حاصل کرتی ایک معصوم طالبہ کو کلاس روم سے اٹھا کر پاکستان ٹیلی ویژن کی راہداریوں تک پہنچایا اور پھر اس مصنوعی رنگین غباروں جیسی ناپائیدار مگر خوشنما دنیا میں یک و تنہا چھوڑ دیا۔ ایک ایسے وقت میں جب طلعت حسین، عابدعلی، فردوس جمال، عظمیٰ گیلانی اور خالدہ ریاست جیسے بڑے بڑے فنکاروں کا طوطی بول رہا تھا، لیکن ان کے سامنے جب سانولی سلونی، غلافی آنکھوں اور چھریرے بدن والی ایک نوخیر لڑکی ڈائیلاگ بولتی، سٹیپ اٹھاتی اپنی انوکھی اور البیلی اداکاری کرتی تو بہت سے بت دھڑام سے اوندھے منہ زمین پر آٰن گرتے۔

دیکھنے والے حقیقت کا گمان کرکے مبہوت ہوجاتے، لگتا سریلے ہونٹوں سے الفاظ نہیں پھولوں کی پنکھڑیاں جھڑ رہی ہوں۔ شستہ لہجے میں گھلی اس کی ایک ایک ادا دلریا ٹھہری۔ اور کیوں نہ ہوتی کہ وہ راگ رنگ میں سرتاپا رنگے مشہور عالم استاد اللہ رکھا کی بیٹی تھی۔ موسیقی کا وہ استاد جسے سروں کا امام مانا جاتا اور جس کے گھٹنوں کو لتا منگیشکر اور محمد رفیع ہاتھ لگانا باعث عزت سمجھتے، جن کے گلوں میں بھگوان بولتا تھا۔

پھر اسی زمانے نے دھان پان سی روحی کوشہرت عام کی انٰ بلندیوں پر پہنچادیا کہ بس ہر طرف وہ ہی وہ تھی اور جب ایک انٹرویو میں اس سے پوچھا گیا کہ اس کے عم عصر فنکاروں میں اس کا سب سے بڑا مدمقابل کون تھا، تو وہ عجب شان بے نیازی سے جواب دیتی۔ کیسا مقابلہ، کون مد مقابل۔ وہاں تو بس میں ہی میں تھی۔ وہ شہرت کے سفر میں ناکام عشق اور ناکام شادیوں کی بھینٹ چڑھتی چلی گئی۔ تخلیقی قوتوں کی مالک فنکارہ تماشا بنتی چلی گئی۔ بانو قدسیہ نے کہا تھا۔

”جہاں کہیں وجہ تخلیق ہوتی ہے، وہیں اصلی اور سچی تخلیق جنم لیتی ہے۔ وہاں لازماً تنہائی اور درد ہوتا ہے اور conviction سے کام کرنے والے ہر فنکار کو درد بھی ملتا ہے، تنہائی بھی۔ آپ نے اکثر دیکھا ہوگا کہ آرٹسٹ لوگوں کے پیچھے بھاگتے پھرتے ہیں، ان سے رائے لینے کی کوشش کرتے ہیں لیکن کوئی انہیں رائے نہیں دیتا۔ دراصل وہ چاہ رہے ہوتے ہیں کہ کوئی ان کے کندھے پر ہاتھ رکھ کر ان سے کہے کہ تخلیق کے عمل میں تم تنہا نہیں ہو بلکہ ہم تمہارا ہاتھ بٹائیں گے۔

روحی بانو نے بھی بہت کنویں جھانکے، بڑے لوگوں کے چہروں پر پڑھا، بہت سی آنکھوں میں دیکھا کہ کوئی اس کے کندھوں پر ہاتھ رکھ کر کہے کہ تخلیق کے اس سفر میں تم اکیلی نہیں بلکہ ہم تمہارے ساتھ ہیں۔ ہم تمہارا دکھ بھی بٹائیں گے اور تنہائی بھی۔ لیکن اسے ایسا کوئی ایک بھی نہ مل سکا۔ اس نے کئی جگہ ہاتھ پیر مارے، کئی لوگوں کے پچھے بھاگی، اس کی شادی کی ناکامی کی وجہ بھی یہی تھی کہ اس کا شریک حیات، شریک غم نہ بن سکا، اس کی تنہائی بانٹ سکا نہ اس کا دردکم کرسکا۔

روحی بانو ایک phenomena تھی، ایک روایت تھی۔ اس نے چاہے سراب میں کام کیا، اشتباہ نظر میں یا زرد گلاب میں۔ جب بھی وہ کوئی کردار کرتی، اپنے وجود کا چولا اتار کرکریکٹر میں داخل ہوجاتی۔ پھر اس کا منظر نامہ وہی ہوتا جو کردار کا، یعنی اس کے غم بھی وہی ہوتے اورخوشیاں بھی وہی۔ وہ سب کچھ اختیار کرلیتی۔ ہوسکتا ہے یہ اس کے نام کا اثر ہو، روحی بانو شاید ایک روح کا نام تھا اور کسی بھی روح کے لئے غیر مرئی سفر کرنا بڑا ہی آسان ہوجاتا ہے۔ اسی لئے روحی کے لئے چولا بدلنے کا سفر بہت آسان تھا۔ ”

ٹیلی ویژن کے سپر ہٹ ڈراموں کرن کہانی، کانچ کا پل، زیرزبر پیش، ایک محبت سو افسانے، دروازہ، دھند، زرد گلاب، سراب، پکی حویلی اور فلموں میں پالکی، امنگ، انسان اور فرشتہ، راستے کا پتھر، انوکھی، گونج اٹھی شہنائی، خدا اور محبت، دشمن کی تلاش، ضمیر، بڑا آدمی، کائنات، آج کا انسان، کرن اور کلی، دل ایک کھلونا میں لازوال کردار ادا کرنے والی

روحی بانو کو اس کی فنکارانہ عظمت کے اعتراف میں پرائیڈ آف پرفارمنس سے بھی نوازا گیا۔ لیکن وہ یہ پوچھتے پوچھتے مرگئی کہ یہ اعزاز اسے ضیاء الحق نے دیا تھا یا ریاست پاکستان نے۔ یا اس لئے کہ میں فاؤنٹین ہاؤس میں ایک زندہ درگور زندگی گزاروں۔ وہ کہتی کہ ابھی تک اسے فلسفہ موت سمجھ نہیں آ سکا، میں نے بہت سوچا کہ موت کیا ہوتی ہے، کیوں آتی ہے لیکن مجھے کچھ سمجھ نہیں آئی۔

پھر اسی زمانے نے اسے موت کا مفہوم اس وقت اچھی طرح سمجھا دیا جب اس کی زندگی کے واحد سہارے اور اکلوتے جواں سال بیٹے کو اس کے گھر کی دہلیز پر قتل کردیا گیا۔ اس اندھے قتل کی گواہی اس کے اپنوں تک نے نہ دی اور وہ انصاف انصاف کی دہائیاں دیتی لاہور کی گلیوں میں ننگے پاؤں اور ننگے سر آہ و زاری کرتی رہی۔ اس حالت میں کہ اس اندہناک واقعہ سے پہلے اس کی والدہ کی نعش کراچی میں ان کے فلیٹ سے جلی ہوئی حالت میں ملی تھی۔

یہی زمانہ اسے منٹو کی طرح پاگل قرار دے کر بار بار پاگل خانے بھیجتا رہا۔ وہ روحی بانو جو اپنے کرداروں کو نبھاتے نبھاتے ان کی گہرائیوں میں ڈوب جایا کرتی تھی، زمانے کی بھول بھلیوں میں گم ہوتی چلی گئی۔ اس کی زندگی کا سفینہ بھنور میں پھنسا رہا، وہ مدد کے لئے پکارتی رہی لیکن کسی نے اس کی بپتا سنی نہ ہی اس کے کندھوں پر ہاتھ رکھ کریہ کہا کہ دکھ اور درد کے اس تنہا سفر میں ہم تمہارے ساتھ ہیں۔

نفسیات اور انگریزی ادبیات میں اعلیٰ تعلیم یافتہ یہ عظیم فنکارہ یہ تلخ حقیقت جاننے سے قاصر رہی کہ انسان دو دنیاؤں میں زندہ نہیں رہ سکتا، ایک دنیا وہ تھی جو اسے شوبز سے ملی تھی اور دوسری اس کی اپنی زندگی۔ وہ زندگی جسے اسی کے ہم پیشہ، کاروباری زمانہ سازوں نے تماشا بنا کے رکھ دیا۔ اس کے کندھوں پر ہاتھ رکھنے کے بجائے اپنے کندھوں پر کیمرہ اٹھائے وہ اس کے ویران، اجڑے اور جالے لگے اندھیرے گھر پہنچ جاتے، بھوکی لاچار اور اکیلی عورت کی بے بسی کو فلم بند کرتے، اس کے جھریوں زدہ چہرے کا ایک ایک زاویہ دکھاتے، بڑی بڑی غرقابی آنکھوں سے بہنے والے آنسوؤں کو بلبلوں کی طرح فضا میں تیرتا دکھاتے اور کسی مارننگ شو میں مہنگے داموں فروخت کرکے شہرت بھی کماتے اور دولت بھی۔

جس کا معاوضہ وہ اس عظیم فنکارہ کو کسی اچھے ہوٹل میں دو وقت کا اچھا کھانا اور برانڈڈ بوتیک سے ایک آدھا سوٹ دلاکر ادا کرتے۔ چکا چوند سے بھرپور ایک دن اس کے ساتھ گزارتے اور شام ڈھلے اسے اس کی تنہائی سمیت اندھیرے گھر میں اکیلا چھوڑ کر چلے جاتے۔ اگلے روز ان کے شو کو زبردست ریٹنگ ملتی اور انسان دوستی کے ہیش ٹیگز بھی۔

مرنے سے کچھ روز پہلے بھی وہ کہیں گم ہو گئی تھیجس کی خوب خبریں چلیں اور پھر تردید۔ اس کا کروڑوں کا ویران گھر، اس کی زندگی اور بیماری کی طرح اب بھی ایک معمہ ہے۔ اس کے لئے اس کے اپنے پاکستان میں جائے امان ختم ہوچکی تھی، زمانہ کو اس دکھیاری پر رحم نہ آیا تو ترکیکی خاتون اول نے اسے علاج کے لیے بلالیا، وہیں دس روز تک وینٹی لیٹرپر لگے لگے، وہ زندگی کا چولا اتارکر موت کے حقیقی اور لازوال کردار میں ڈھل گئی۔

خدارا۔ ! اس جنم جلی کا مردہ خراب نہ کرو۔ اب اس کی بوسیدہ اور خستہ حال نعش واپس پاکستان لانے کے جتن کیوں۔ زندہ درگور ہونے والی مٹی کی ڈھیری پر کون پھول چڑھائے اور دیا جلائے گا۔ وہ زندہ بھی اندھیرے گھر کی لاوارث مکین تھی اور قبر میں بھی۔

یہ ہے زمانہ جسے میرا خدا کہتا ہے، برا نہ کہو۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •