جام کا لسبیلہ
زندگی ایک سفر ہے۔ جو چلتے چلتے ختم ہوجاتا ہے۔ میں بھی ایک ایسی ہی منزل کی طرف گامزن ہوں۔ جس کا نام ضلع لسبیلہ ہے۔ جہاں ستر سالوں سے جام خاندان کی حکومت ہے۔ میں اسی علاقہ کے ایک مشہور شہر حب چوکی میں داخل ہو کر اپنے سفر کا آغاز کرتا ہوں۔ جو کراچی سے 20 کلومیٹر کی دوری پر واقع ہے۔ میں اسی امید سے بہت خوش تھا کہ شہر بہت ترقی پذیر ہو گا۔ شہر میں داخل ہوتے ہی مجھے لال لال دھبے روڈ پر دکھائی دیتے ہیں۔
پہلے تو میں بہت ڈر جاتا ہوں۔ مگر بعد میں پتا چلتا ہے۔ کہ یہ ایک نشہ گٹکا جس کو یہاں تعلیم سے زیادہ اکثریت حاصل ہے۔ تعلیم کے لحاظ سے جسے یہ شہر ہزاروں میل کراچی سے دور واقع ہے۔ یہاں ان گنت کمپنیاں ہونے کے باوجود لوگ بے روزگار ہے۔ معلوم کرنے سے پتا پڑا کہ یہاں 90 % کمپنی میں کام کرنے والے باہر سے آتے ہیں۔ تعلیم کے بارے میں یہ کہ سکتا ہوں کہ اتنی بڑے آبادی میں صرف ایک ڈگری کالج ہے۔ حب ڈیم ہونے کے باوجود لوگ پانی سے محروم ہیں۔
اسی طرح پر حب چوکی سے اپنے سفر کا ابتدا کرتا ہوں۔ راستہ میں ایک بہت بڑی کمپنی ڈی جی خان آتی ہے۔ معلوم ہوتا ہے کہ ایشیا میں اس کمپنی کا دوسرا یا تیسرا نمبر ہے۔ مگر ایک بات سن کر میں حیران رہ جاتا ہوں کہ یہاں کام کرنے والے 90 % لوگوں کا تعلق باہر کے صوبوں سے ہیں۔ اسی طرح میں لسبیلہ کے ایک اور بڑے شہر میں داخل ہوتا ہوں جس کا نام وندر ہے۔
اچانک مجھے خیال آتا ہے کہ اپنے دوست کے لیے کچھ کتابیں لے کر اسے گفٹ کروں گا۔ میں ہر کتاب والے کے پاس جاتا ہوں مجھے کتابوں کی ہر دکان پر حاتم طائی۔ شخ چلی۔ عمروعیار کی دس روپیہ قمت والی کتابیں دکھائی جاتی ہیں۔ میں مجبور ہوکر کہتا ہوں کہ میرا دوست نابالغ نہیں بلکہ بالغ ہیں۔ کوئی فلسفہ والی کتاب۔ کوئی ناول۔ افسانے ہیں یا نہیں۔ دوکان دار کہتا ہے۔
کہ یہاں کے لوگ شخ چلی اور حاتم طائی ہی کو پڑھتے ہیں۔ میں آگے چلتے ہی ایک لسی والے دوکان کے سامنے سے گزر ہوتا ہے۔ وہاں دو بچے بیٹھے ہوئے ہیں۔ دیکھنے میں طالبعلم لگتے ہیں میں ان سے پوچھتا ہوں۔ کہ لسی والا دوکان بند کیوں ہیں۔ طالبعلم مجھ پر ہنستے ہیں اور کہتے ہیں کہ بھائی صاحب یہ لسی والا دوکان نہیں بلکہ سسی لائبریری ہے۔ یہ لکھا ہے کچھ اس طرح لوگ اسے لسی کی دوکان سمجھتے ہیں۔ میں پرکہتا ہوں یہ بند کیوں ہے۔
بچے جواب دیتے ہیں۔ کہ یہ دو مہینے یا چالیس دن میں ایک بار کھلتا ہے۔ اس کے لئے انتظار کرتے کرتے ہم نا امید ہوگئے ہیں۔ میں طالبعلموں کی حالت دیکھ کر افسردہ ہوتا ہوں۔ آگے بڑھنے پر لسبیلہ کا ایک نیا شہر نظر آتا ہے۔ جس کا نام اوتھل ہے۔ میں اسی میں داخل ہوکر لسبیلہ یونیورسٹی کو دیکھ کر خوش ہوجاتا ہوں۔ ایک یونیورسٹی ہے مگر پر نہ ہونے سے ایک کا ہونا ہی بہتر ہے۔
چلتے چلتے دور ہی سے مجھے بڑی عمارت نظر آتی ہے۔ میں یہ سوچ کر قریب جاتاھوں کہ یہ بھی مہر گڑھ اور موہنجودڑو جسے پرانے آثارِ قدیم ہوں گے۔ مگر معلوم ہوتا ھے کہ یہ دو عظیم کالجوں کی بلڈنگ ہیں۔ مکمل تیار ہونے کے باوجود پندرہ سال سے یہاں تعلیم شروع نہیں ہوئی۔ میں سوچ میں پڑ گیا کہ لوگ گٹر نالی کے لئے احتجاج کرتے ہیں اور حکمرانوں کے پاس جاتے ہیں۔ لیکن تعلیم کی بات نہیں کرتے جس سے ایک قوم کا مسقبل وابستہ ہے۔
تعلیم کے لئے ہم اور ہمارے حکمران سوچنے کے لئے قاصر ہیں۔ انہی سوچوں میں گم میں لسبیلہ کی طرف گامزن تھا۔ سنا تھا کہ لس بیلہ جام خاندان کا آبائی علاقہ ہے۔ مجھے خیال تھا کہ جام کا آبائی علاقہ ہونے کے سبب یہاں بڑے بڑے یونیورسٹی کالج اور اعلیٰ قسم کے ہسپتال ہوں گے۔ یہاں کا تعلیمی تناسب 95 % ہوگا۔ یہاں بے روزگاری نہیں ہوگی۔ مگر بیلہ پہنچتے ہی میں ناامید ہو کر سو گیا جس طرح یہاں کے لوگ ستر سال سے سو رہے ہیں۔





