سیاسی لیڈرشپ اور چمپیئن لیڈرشپ


لیڈر راہنما کو کہا جاتا ہے۔ یہ رہنما گروپ، کمپنی، علاقے وغیرہ وغیرہ، کو رہنمائی فراہم کرتا ہے۔ فالورز کو کمپنی کے مقاصد بتانا، اس پہ عمل کرنا اور کروانا کی ذمہ داری لیتا ہے۔ لیڈرشپ کی قسموں میں سے دو قسم ہوتی ہے، سیاسی لیڈرشپ اورچمپئن لیڈرشپ۔

سیاسی لیڈرشپ کے کچھ بنیادی جزو ہیں جن میں اہم یہ ہیں۔ ایماندار، سچا، درد دل رکھنے والا، پر اعتماد، نرم مزاج۔ طاقت کو عوام تک پہنچانے والا جس میں عوام کا فائدہ ہو۔ عوام کا ہمدرد سماجی، معاشرتی عوامی مسائل حل کر سکتا ہے۔ ظلم کے خلاف ڈٹ جانے والا۔ اس میں نرم مزاج خوبی بہت اہم ہے۔ جو زیادہ تر سیاسی لیڈرشپ کو اپوزیشن کی جائز باتیں، نصیحتیں سننے کے لیے بہت ضروری ہے۔ جس سے وہ بآسانی مسائل کی جڑ تک پہنچ کے اسے حل کر سکتا ہے۔

سیاسی لیڈرشپ ہمیشہ مخالفین کو ٹیبل ٹاک پہ لاتی ہے۔ جس وجہ سے ہمیشہ ملکی سطح پہ ایک توازن، اعتماد کی فضا قائم رہتی ہے، اگر یہی رویہ سیاسی لیڈرشپ بین الاقوامی سطح پہ اپنائے تو خارجی امور میں اعلی ترین بن جاتے ہیں۔ ایسے رویے سے کئی ملک جو برسوں سے ایک دوسرے کے خون کے پیاسے تھے، اب مکمل طور پہ پُرامن بن گئے ہیں۔

چمپیئن لیڈرشپ میں کھیل کے لیڈر جیسے ٹیم کا کپتان اور عسکری پیشہ شامل ہے۔ چمپئن لیڈر ہمیشہ طاقت پاس رکھتا ہے، اس کے پاس ایک پلان یا رہنما خطوط ہوتے ہیں، جس پہ وہ خود عمل پیرا ہو کے اپنے فالوورز کے لیے مثال بنتا ہے۔ ان معیارات سے الگ ہونے کی صورت میں کامیابی ملنا تقریبا ناممکن ہوتا ہے۔ فالورز اسے فیڈ بیک نہیں دے سکتے، اگر کہیں گنجائش بھی ہو تو بہت زیادہ فارمل ماحول ہونے کی وجہ سے مکمل بات نہیں پہنچ سکتی۔

چمپئن لیڈر ہمیشہ جیتنے کی کوشش کرتے ہیں، وہ اپنی جیت پہ اس قدر فوکسڈ ہوتے ہیں، کہ وہ جیت کے لیے کچھ بھی کر سکتے ہیں، جیسے ایک مقولہ ہے، عشق اور جنگ میں سب کچھ جائز ہے۔ اسی طرح جنگ جیتنے کے لیے، اگر ان کے دوست کے پیچھے دشمن کھڑا ہو تو وہ گولی چلا دیں گے، یعنی دوست کے سینے کی قربانی دیتا ہوا دشمن مار دے گا۔ اسی طرح کھیل میں کپتان اپنے ایسے کھلاڑی جو گندی زبان میں طاق ہوں پچ کے قریب فیلڈنگ کروائے گا، وہ جتنی بکواس کریں گے بلے باز اتنا زیادہ زچ ہوگا بہت ممکن ہے کہ بہترین بلے باز ان غلیظ زبان درازوں کے ہاتھوں جذبات میں آ کے غلط شارٹ کھیل دے اور آؤٹ ہو جائے۔ ایسے چمپیئن لیڈرز کو ہمیشہ ٹیلنٹڈ مخالفین سے شدید ترین خوف ہوتا ہے، اس خوف کی بنیاد پہ وہ اپنے مخالفین کو کبھی بھی ٹیبل ٹاک تک نہیں لا کے جیت سکتے کیونکہ ان کے کورس میں ٹیبل ٹاک کورس پڑھایا نہیں جاتا اگر کہیں پڑھایا بھی جائے تو اس کے سیاق و سباق مختلف ہوتے ہیں۔

پاکستان کی تاریخ میں چیمپئین لیڈرشپ نے ہمیشہ سیاسی لیڈرشپ کو جنم دیا ہے جس کی وجہ سے کبھی بھی ملک کو اچھا سیاسی لیڈر مکمل خوبیوں کے ساتھ ملنا مشکل ہو گیا ہے۔ یہ المیہ پوری دنیا میں کمی، زیادتی کے ساتھ ضرور موجود ہے، ہونا بھی چاہیے۔ ملک میں سیاسی لیڈرشپ پیدا کرنے کے لیے ہم نے ہر طرح کے مکتبہ فکر کے منتخب حضرات کو موقع دیا، جیسے ملک سیاسی لیڈرشپ کے لیے کبھی سیکولر سکول آف تھاٹ کے حوالے کیا گیا جس میں صدر ایوب صاحب شامل تھے اور بھٹو صاحب انہی محترم صدر صاحب کی تلاش تھے۔

اس طرح افغانستان کی جنگ کے لیے ہمیں مذہبی جنوں چاہیے تھا صدر پاکستان ضیاء صاحب میاں نواز شریف صاحب کو لے کے آ ئے اور ملک مذہبی لوگوں کے حوالے کیا گیا۔ اسی طرح سیاسی تجربے کرتے کرتے اب ہمارے ملک کی سیاسی لیڈرشپ کا حال ایسا ہے جیسے حکیم صاحب کے لونڈے کا ہوتا ہے، جس پہ حکیم صاحب اپنا ہر نیا نسخہ آزماتے ہیں، روز کے تجربات سے لونڈے کی نہ آنکھیں آپس میں ملتی ہیں نہ ٹانگیں۔ اب تو موجودہ سیاسی لیڈرشپ! جسے اپوزیشن اور عوام دونوں کہتے ہیں، یہ بدتمیز ہے، گالی بکتی ہے وغیرہ وغیرہ۔

تو جناب اب آپ یہ کیوں نہیں سمجھ رہے سیاست میں مکمل پروفیشنل کھلاڑی آ چکے ہیں جو پچ کے گرد کھڑے ہو کے تجربہ کار بلے بازوں کو دونوں اینڈ سے گالیاں دے کے آؤٹ کرنا چاہتے ہیں، اب یہ امتحان ہے بالر اور بلے باز۔ ایمپائر کو شکایات کے ڈھیر لگائے جا چکے ہیں۔ یاد رکھیں جس میچ میں جتنا بہترین، تجربہ کار بلے باز ہو گا اتنی زیادہ گندی گالیاں اور باؤنسرز سہے گا، بہترین پرفارم کرے گا۔ ویسے بھی بلے باز نے تو اپوزیشن کی طرح کھڑا ہی ہونا ہے، بیچارے فیلڈنگ کرنے والے گالی ہی بکیں گے جنہیں نہ بالنگ آتی ہے نہ فیلڈنگ وہ تو باتوں کے محل بنانے کے ماہر تھے۔

اب ان کی فرسٹریشن ان کی گالیوں کی گونج سے سے پتہ چل رہی ہے۔ تماشائی تو پچھلے ستر سال سے ایسے کئی میچ دیکھ چکے ہیں۔ ویسے بھی تماشائیوں کا کام تماشا دیکھنا ہوتا ہے نہ کہ ٹیم سلیکشن کرنا۔ حیرت بس اس بات پر ہے کہ ہمیں سلیکشن کمیٹی سے ایسی امید نہیں تھی جنہوں نے ساؤتھ افریقہ کی گراسی پچ پہ فاسٹ بالرز کی جگہ فاسٹ گالیاں نکالنے والوں کو بھیج دیا۔

Facebook Comments HS