محبوب شاہ کا خواب اور بوڑھے صوفی کی بات


محبوب شاہ ایک ادارے میں گزشتہ تیس سال سے کلاس فور کا ایک معمولی ملازم ہے۔ اور وہی زندگی گزار رہا ہے جو اس طرح کے لاکھوں لوگ اس مملکتِ خدادا میں گزارتے ہیں۔ اپنی غربت بے تحاشا مسائل اور بے بسی کے ساتھ محبوب کی بیٹیاں جوان ہوتی گئیں اور اس کے ناتواں کندھوں کا بوجھ بنتی گئیں۔

وہ اپنی بہت ہی معمولی تنخواہ پر بینک سے قرض پر قرض لیتا رہا اور بیٹیوں کو رُخصت کرتا رہا اس کا بال بال قرض میں جکڑتا گیا اور بینک کی چاندی ہوتی گئی اور جب یکم تاریخ آتی تو بینک اس کی پوری تنخواہ پر جھپٹ جاتا اور وہ خالی آنکھوں سے ادھر اُدھر دیکھ کر اپنی بے بسی بانٹتا رہتا۔

ایسے ہی دنوں میں ایک دن وہ بھی آیا، جب روزے ختم ہونے کو تھے اور عید سر پر کھڑی تھی۔ دفتر کے ملازمین اپنی اپنی تنخواہیں لے کر سودا سلف لینے نکل رہے تھے تو محبوب گہری سوچوں میں غرق کمرے کے ایک کونے میں اکیلا بیٹھا اپنی چادر کے پلُو سے اپنے آنسو پونچھ رہا تھا۔

ایسے میں دفتر کا ایک آسودہ حال لیکن خدا ترس افسر کمرے میں داخل ہوا (اس کا نام آپ احمد تصور کر لیں ) احمد نے محبوب کی کیفیت کا اندازہ لگایا تو قریب آکر اس کے کندھے پر ہاتھ رکھا اور کہا بتاؤ کیا مسئلہ ہے؟

محبوب نے بات ٹالنے کی کوشش کی لیکن اس کے اسرار پر بتایا کہ عید سر پر ہے اور تنخواہ بینک نے اس قرض کی مد میں کاٹی ہے، جو میں بیٹیوں کی شادی کے لئے لیتا رہا ہوں سوچتا ہوں کہ گھر جاؤ ں تو بچوں کو کون سا جھوٹ بولوں گا۔ احمد نے دل ہی دل میں کہا کہ بے حسی کی چادر تان کر مجرمانہ نیندسے بہتر ہے کہ اللہ تعالی کی خوشنودی اور کسی انسان کی بھلائی کے لئے تھوڑی سی دوڑ دھوپ کی جائے اسنے اپنی جیب سے کچھ پیسے نکال کر محبوب کو دیے اور دفتر کی سیڑھیاں اُتر کر گاڑی میں بیٹھا اور بینک جا کر محبوب کے باقی ماندہ قرض کی مکمل معلومات لے لیں جواس یا اس کے عزیزوں اور دوستوں کے لئے کوئی زیادہ رقم نہ تھی کیونکہ ان سب کی مالی حالت قدرے بہتر تھی۔

گھر آکر اس نے اپنی بیوی سے کہا کہ جو پیسے تم نے نئے فرنیچر کے لئے رکھے ہیں، اس کی کسی کو ضرورت پڑی ہے۔
کس کو؟
خُدا کو !

اور سارا قصہ اس کے گوش گزارا۔ تو اس رحم دل خاتون نے سارے پیسے لا کر اس کے ہاتھ میں رکھے کہ دے آؤ۔ فرنیچر سے زیادہ ضرورت کسی کی روٹی کی ہے۔ لیکن اب بھی مزید پیسے درکار تھے۔ دوسرے دن وہ کسی کام سے اسلام آباد گیا تو اپنے مزاج کے برعکس اس نے اپنے ایک قریبی عزیز سے ( نام اس لئے نہیں لکھتا کہ ایک عظیم نیکی کو میڈیا کی بھینٹ چڑھا کر اسے اللہ تعالی کی محبت سے محروم نہیں کرنا چاہتا) جو حد درجہ متمول لیکن اس سے کئی زیادہ مخیّر ہیں بھی اس واقعہ کا ذکر کیا تو اس نے حسبِ توقع فوری طور پر مطلوبہ رقم فراہم کردی۔

دوسرے دن اس نے دفتر کے ایک قابل اعتماد اور رحم دل اہلکار کو مسئلہ سمجھایا اور رقم دے کر بینک بیجھا، جس نے بینک جاکر رقم جمع کرائی اور ”آزادی“ کا پروانہ محبوب کے ہاتھ پر رکھا تو محبوب نے احسان مندی کے شدید جذبات سے مغلوب ہو کر اپنی ٹوپی زمین پر رکھ دی۔ ہاتھ آسمان کی طرف پھیلائے اور دھاڑیں مار مار کر روتا اور دعائیں دیتا رہا۔

اوہ خدایا! کیا ایسی دعا بھی اس بارگاہ میں رد ہو سکتی ہے جہاں سے بن مانگے بھی مل جاتا ہے۔
محبوب اب روز اپنے افسر سے اس کے قریبی عزیز (جسے محبوب بڑا صاحب کہہ کر پکارتا ہے ) کے بارے میں پوچھتا اور دُعائیں دیتا۔

اس دوران ایک ڈیڑھ سال گزر گیا۔ ایک دن احمد اپنے دفتر میں بیٹھا ہوا تھا کہ اسے اپنے اس عزیز کی شدید بیماری کے بارے میں ایک تشوشناک کال موصول ہوئی۔ جس نے محبوب کی مالی مدد کی تھی، وہ پریشانی کے عالم میں بیٹھا ہوا تھا کہ سادہ لوح محبوب کمرے میں داخل ہوا (اسے احمد کی پریشانی کا علم ہی نہ تھا) اور بے پروائی سے کہا صاحب رات کو میں نے ایک عجیب خواب دیکھا۔ احمد نے ناگواری سے کہا کیسا خواب؟

تو محبوب نے بتایا کہ اس نے خواب میں دیکھا کہ ایک فرشتہ آکر بڑے صاحب کے بارے میں مجھے کہتا ہے کہ ان کی روح قبض کرنے کا حکم ملا ہے لیکن یہ حکم بھی ہے کہ وہاں جانے سے پہلے آپ سے مل لوں۔ یہ سن کر میں نے چیخ چیخ کر آسمان سر پر اُٹھا لیا کہ اگر یہی ہونا ہے تو پھر ان کی خیر و عافیت کے لئے مانگی گئی میری دُعائیں کہا گئیں؟ میری بیوی کے تشکر بھرے آنسو ایسے بے وقعت تھے؟ آدھی رات کو جاگ کر اپنے محسن کے لئے مانگی گئی دُعاؤں کا یہی ثمر ملنا تھا؟

میں دھاڑیں مار مار کر روتا رہا کہ ایک اور فرشتہ آکر پہلے والے کو حکم کی معطلی اور واپسی کا حکم پہنچا دیتا ہے۔ جاتے جاتے وہ فرشتہ مجھے کہتا ہے کہ آپ کی آہ وزاری سے پہلے والے فرشتے کی وہ طاقت ختم ہو گئی تھی جس کے ذریعے وہ روح قبض کرنے کی قدرت رکھتا ہے۔

محبوب نے بات ختم کی اور کمرے سے نکل گیا لیکن اپنے پیچھے وہ حیرت چھوڑ گیا جس کا راز صرف وہ لوگ پاتے ہیں جن کے ایمان کو کوئی کمزوری چھو کر بھی نہ گزری ہو۔ اسے اچانک کئی سال قبل اس بوڑھے صوفی کی بات یاد آئی جب گر میوں کی ایک تپتی دوپہر میں وہ کسی پہاڑ کے دامن میں اس کی جھونپڑی میں بیٹھا تھا اور بوڑھے صوفی نے کہا تھا کہ مخلوق کے ساتھ بھلائی اتنا طاقتور عمل ہے کہ کسی تکلیف یا عذاب کی خاطر اترتے ہوئے فرشتوں کا راستہ تک روک دیتا ہے۔
اور ہاں یاد آیا محبوب کے بڑے صاحب ماشا اللہ اس جان لیوا بیماری سے شفایاب بھی ہو چکے ہیں اور ہشاش بشاش بھی ہیں۔

Facebook Comments HS