کوٹ ڈیجی کا قلعہ

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

لاڑکانہ میں ہمارے میزبان ڈاکٹر خالد محمود سومرو کے صاحبزادے اور ہمارے رفیقِ خاص شفیق سومرو اور ان کے بڑے بھائی تھے۔ انہوں نے لاڑکانہ اور نواح میں موجود تاریخی و ثقافتی اور مذہبی مقامات کی سیر کے لیے ہمارے لیے خصوصی اہتمام کیا۔ صبح دم ایک گاڑی، ڈرائیور اور دو رہبر مہیا کیے تا کہ ہم آرام سکون سے صدیوں کی تاریخ ٹٹول سکیں۔ موہنجو داڑو اور حضرت سچل سر مست کے مزار پر حاضری کی بعد ہمارا ارادہ کوٹ ڈیجی میں موجود ناقابلِ تسخیر قلعے کو سَر کرنے کا بنا۔

کوئی 2016 ء کی بات ہے، ٹیکسلا اور ہری پور کے علاقوں میں موجود تہذیبِ گندھارا کے آثار جن میں دھرما راجیکا سٹوپا اور جولیاں یونیورسٹی شامل ہیں، جانے کا اتفاق ہوا۔ وہ رمضان کا مہینہ تھا اور میں نے روزے کی حالت میں دونوں مقامات دیکھنے کے لیے دو پہاڑیاں چڑھیں، روزہ بہت گرم ہو گیا مگر مجھے شانتی تھی کہ اپنے من کی تسکین کا خوب اہتمام کیا۔ دراصل جب ہم کسی تاریخی و ثقافتی یاترا پہ نکلتے ہیں تو ہمارا پہلا مقصد یہی ہونا چاہیے مگر کوٹ ڈیجی جانے کے لیے ہمارے ساتھ موجود دوستوں کو پیٹ کی آگ ستانے لگی اور وہ ایک نجی ہوٹل پہ بیٹھ کر عمدہ کھانوں کا انتظار کرنے لگے اور اسی اثنا میں ہمیں دو گھنٹے بیت گئے۔ سورج ڈھل رہا تھا۔ سائے پھیل رہے تھے۔ ہماری منزل ہوٹل سے کوئی دس کلومیٹر دور تھی۔ میں وہاں پہنچنے کے لیے بے تاب تھا جب کہ دوست وقت کے بے جا ضیاع پر میری ہرزہ سرائی سے خفا تھے۔ خیر ہم عصر اور مغرب کے درمیانی وقفے میں وہاں پہنچ گئے۔

ہم فوراً گاڑی سے اترے، قلعے کے دیوقامت دروازے سے سر جھکا کر اندر داخل ہوئے اور تاریخ کے جھروکوں میں کھو گئے۔ بلندوبالا دیواریں، عظیم الشان بُرج، ہیبت ناک راہداریوں سے گزرتے ہوئے اندر داخل ہوتے گئے۔ قلعے کی سکیورٹی کے لیے تین ہاتھی پروف دروازے موجود تھے جن پہ لگی نوکدار سلاخیں صدیوں پیچھے کے پس منظر میں لے گئیں۔ پہلا داخلی دروازہ دیکھ کر بڑی حیرت ہوئی، یہ دروازہ دو برجوں کے درمیان 45 ڈگری کے زاویے پر بنایا گیا تا کہ حملہ آور فوج کا زور یک دم دروازے پر نہ پڑ سکے۔

کسی بھی قلعے میں یہ تکنیک میں نے پہلی دفعہ دیکھی۔ چونے کی پہاڑیوں پر بنے اس قلعے کی سرحد 18 کلومیٹر تک پھیلی ہوئی تھی۔ پہاڑیاں 110 فٹ اونچی تھیں جبکہ قلعے کی دیواریں مزید 30 فٹ اونچی رکھی گئیں۔ 50 سے زائد برج بنائے گئے اور ان برجوں اور دیواروں میں جگہ جگہ تیراندازوں کے بیٹھنے کے لیے جگہیں موجود تھیں۔ قلعے کی اصل دیوار کے ارد گرد پانچ کلومیٹر لمبی اور بارہ فٹ چوڑی مٹی اور کیچڑ کی حفاظتی دیوار بھی بنائی گئی۔ بھٹی میں پکائی گئی کم چوڑائی والی اینٹیں استعمال کی گئیں۔

مہمانوں کے لیے خصوصی جبکہ دوسرے لوگوں اور فوج کے لیے الگ مخصوص ڈیوڑھیاں تھیں۔ قلعے کے اندر ہی ایک خوف ناک قید خانہ بھی بنایا گیا۔ شاہی خاندان کی خواتین اور بادشاہ کے قیام کے لیے مخصوص دیوان خانے تھے۔ قلعہ کیا تھا گویا ہیبت اور حیرت کی مجسم تصویر تھی۔ سنسان ویرانی، ڈھلتی شام، سورج کی سرخی اور صدیوں کی تاریخ کی تمازت میں ڈوبا ہوا یہ بلند و بالا عجوبہ رعب و دبدبے کا عجیب سحر طاری کیے ہوئے تھا۔ کسی دور میں یہاں تالپوروں کے شاہی خاندان کے افراد اور خواتین جنگی دور میں حفاظت کے لیے یہاں محصور ہوا کرتے تھے۔

میر سہراب خان تالپور نے 1783ء میں جب بالائی سندھ میں حکومت قائم کی تو خیرپور کو مرکز بنایا۔ شہر کے اندر تالپوروں کے محلات بھی موجود ہیں جو الگ اپنی شان پہ نازاں نظر آتے ہیں۔ امن کے دنوں میں شاہی خاندان وہیں قیام پذیر ہوتا تھا مگر جنگی صورتحال سے نمٹنے کے لیے دور صحرا میں دریائے سندھ سے پچیس کلومیٹر ہٹ کر یہ قلعہ بنایا گیا تو فوجی بارکوں اور قلعے تک پانی پہنچانے کے لیے 1790 ء میں ”میرواہ نہر“ کھودی گئی جو اب بھی موجود ہے اور قلعے کے مغرب میں موجود علاقوں کو سیراب کرتی ہے۔ داخلی دروازے کے ساتھ ہی بہت بڑا کنواں بھی کھودا گیا، یقیناً یہاں سے پانی بھر کر اوپر لے جانے کے لیے گھوڑوں یا خچروں کا ستعمال ہوتا ہو گا۔ قلعے کی تعمیر کا آغاز 1785 ء میں کیا گیا جو 1795 ء میں تکمیل کو پہنچی۔

قلعے کی تعمیر میں اس وقت کی جدید ترین حکمتِ عملی کو اپنایا گیا جس نے اسے ہمیشہ ناقابلِ تسخیر رکھا۔ خیرپور پاکستان بننے سے قبل ایک آزاد ریاست تھی جس کے حکمران تب بھی تالپور خاندان سے ہی تھے۔ پاکستان بننے کے بعد تالپور خاندان کراچی اور دنیا کی جدید ریاستوں میں بطور رعایا رہنے لگے۔ یہ قلعہ عظمت و بڑائی میں اپنی مثال آپ ہے اور مغل دور کے بنے کسی بھی قلعہ سے ہر چند کم نہیں۔ عمومی طور پر اسے قلعہ احمد آباد بھی کہا جاتا ہے اور سب سے مزے کی بات تو یہ ہے کہ اس قلعے پر کبھی بھی کسی بھی فوج کی جانب سے حملہ نہیں کیا گیا۔ قلعہ کے احاطہ میں جا بجا بکھرے کھانے پینے کی اشیا کے چھلکے اور گندگی اس بات کا منہ بولتا ثبوت تھے کہ سندھ ہو یا پنجاب، پاکستانیوں کو نازیبا رویوں کے اظہار سے کوئی مائی کا لعل نہیں روک سکتا۔

آیئے کوٹ ڈیجی کے قلعے کی تصاویر دیکھیں۔ مکمل سائز میں دیکھنے کے لئے مطلوبہ تصویر کو کلک کریں

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •